نئے صوبوں کے مطالبے پر پیپلز پارٹی اتنی نالاں کیوں؟

پاکستان میں نئے صوبوں یا نئے بااختیار انتظامی یونٹس کی بحث جب بھی زور پکڑتی ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی کی طرف سے اس کی شدید مخالفت سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر نئے انتظامی یونٹس کی تجویز پر پیپلز پارٹی اتنی حساس کیوں ہوجاتی ہے؟ کیا معاملہ صرف سندھ کی وحدت اور شناخت کا ہے یا اس کے پیچھے صوبائی اختیارات، مالیاتی وسائل اور موجودہ سیاسی و انتظامی ڈھانچے کے تحفظ کا سوال بھی موجود ہے؟ یہی وہ بنیادی بحث ہے جس نے ایک مرتبہ پھر سندھ کی سیاست، 18ویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔
پیپلز پارٹی کی سندھ میں سیاسی طاقت کا ایک بڑا حصہ دیہی علاقوں اور روایتی سیاسی ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے، جبکہ کراچی سمیت بڑے شہری مراکز میں اس جماعت کی سیاسی گرفت ماضی کے مقابلے میں مختلف نوعیت اختیار کرچکی ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ شہری آبادی میں اضافے، نئی سیاسی ترجیحات اور بڑھتے ہوئے عوامی شعور کے باعث پرانا سیاسی ڈھانچہ پہلے جیسی قوت کے ساتھ برقرار نہیں رہ سکتا۔ اسی تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر نئے انتظامی یونٹس، بااختیار مقامی حکومتیں یا نئے صوبائی ڈھانچے وجود میں آتے ہیں اور اختیارات براہ راست اضلاع تک منتقل ہوتے ہیں تو موجودہ صوبائی سیاسی اور انتظامی مرکزیت کس حد تک متاثر ہوگی۔
18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو مالیاتی اور انتظامی اختیارات میں نمایاں اضافہ ملا۔ سندھ سمیت صوبوں کو قومی مالیاتی نظام کے ذریعے وفاقی وسائل میں بڑا حصہ حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام صرف نقشے پر نئی حد بندی کا معاملہ نہیں بلکہ وسائل کی تقسیم، بجٹ کے استعمال اور انتظامی اختیار کی نئی ترتیب بھی ہوگا۔ تاہم اس مؤقف کے ساتھ ایک دوسرا پہلو بھی موجود ہے: نئے انتظامی یونٹس بنانے کے لیے آئینی، سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اتفاق رائے درکار ہوگا، اس لیے اسے محض صوبائی وسائل کی تقسیم کا مسئلہ قرار دینا بھی مکمل تصویر نہیں۔
سندھ کے حوالے سے سب سے زیادہ زیر بحث سوال صوبے کو گزشتہ برسوں میں ملنے والے مالی وسائل کے استعمال کا ہے۔ ناقدین کے مطابق گزشتہ 16 برسوں کے دوران این ایف سی ایوارڈ کے تحت سندھ کو وفاق سے تقریباً 17 ہزار ارب روپے ملے، اور اس رقم کے استعمال پر شفافیت اور نتائج کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ یہاں اصل بحث یہ نہیں کہ وسائل سندھ کو ملے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان وسائل کے مقابلے میں عام شہری کی زندگی میں کتنی بہتری آئی۔ اگر اتنی بڑی رقم صوبے کو منتقل ہوئی تو پھر بنیادی سہولیات، صحت، تعلیم، صاف پانی، شہری انفراسٹرکچر اور روزگار کے شعبوں میں وہ تبدیلی کیوں نظر نہیں آتی جس کی عوام توقع کرتے ہیں؟
یہ سوال خاص طور پر کراچی کے حوالے سے زیادہ شدت اختیار کرجاتا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر اور قومی معیشت کے اہم ترین مراکز میں شمار ہونے والے کراچی کو پانی، ٹرانسپورٹ، سڑکوں، نکاسی آب اور شہری منصوبہ بندی جیسے مسائل کا مسلسل سامنا ہے۔ ناقدین پوچھتے ہیں کہ اگر صوبائی سطح پر اتنے بڑے مالی وسائل دستیاب رہے ہیں تو پھر کراچی جیسے شہر میں بنیادی شہری مسائل مستقل بنیادوں پر کیوں حل نہیں ہوسکے۔ یہی بحث اس وقت مزید اہم ہوجاتی ہے جب نئے انتظامی یونٹس یا بااختیار مقامی حکومتوں کی تجویز سامنے آتی ہے، کیونکہ اس صورت میں وسائل اور اختیارات کو براہ راست مقامی سطح تک پہنچانے کا تصور سامنے آتا ہے۔
تعلیم کے شعبے کے اعداد و شمار بھی صورتحال کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یونیسف کے حوالے سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں اسکول جانے کی عمر کے لاکھوں بچے تعلیم سے باہر ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں بچے پرائمری کے بعد تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔ صوبے کے متعدد سرکاری اسکولوں میں بجلی، صاف پانی، بیت الخلا اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان بھی رپورٹ ہوتا رہا ہے۔ ایسے میں سوال صرف اضافی بجٹ کا نہیں بلکہ اس بجٹ کے استعمال، نگرانی، منصوبہ بندی اور نتائج کا بھی ہے۔
اسی طرح سرکاری اداروں میں ملازمین کی حاضری اور کارکردگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ گھوسٹ اساتذہ اور غیر حاضر سرکاری ملازمین کے حوالے سے مختلف اوقات میں شکایات اور سرکاری سطح پر بھی اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ اگر کسی صوبے میں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں تو عوام کے لیے یہ سوال فطری ہے کہ دستیاب وسائل کہاں خرچ ہوئے اور ان کے بدلے میں انہیں کیا ملا۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا مطلب لازماً سندھ کو کمزور کرنا نہیں۔ اگر اختیارات اور وسائل ضلعی سطح تک منتقل ہوں، مقامی حکومتیں حقیقی معنوں میں بااختیار ہوں اور ہر ضلع کے عوام کو معلوم ہو کہ ان کے علاقے کے لیے کتنا ترقیاتی بجٹ مختص ہوا اور وہ کہاں خرچ کیا گیا، تو اس سے انتظامی جواب دہی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ البتہ اس کے لیے مضبوط مقامی حکومت، شفاف مالیاتی نظام، مؤثر آڈٹ اور واضح قانونی اختیارات ضروری ہوں گے۔
سندھ کا جغرافیہ بھی اس بحث کو اہم بناتا ہے۔ کشمور سے کراچی تک طویل فاصلہ، اندرون سندھ کے دور دراز اضلاع اور مختلف علاقوں کی جغرافیائی و معاشی ضروریات اس سوال کو جنم دیتی ہیں کہ کیا ایک ہی انتظامی مرکز اتنے وسیع اور متنوع خطے کی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرسکتا ہے؟ یہی سوال پاکستان کے دوسرے بڑے صوبوں کے بارے میں بھی اٹھتا ہے۔ جدید ریاستی نظام میں انتظامی سہولت، عوام تک رسائی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور فوری فیصلہ سازی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی مخالفت کو صرف مالیاتی مفادات سے جوڑ دینا ایک سیاسی تعبیر ہے، قطعی حقیقت نہیں۔ پیپلز پارٹی اور اس کے حامی سندھ کی انتظامی وحدت، صوبائی شناخت اور تاریخی و سیاسی حساسیت کو بھی اس معاملے میں بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ اس لیے بحث کو یک طرفہ الزام تراشی کے بجائے اس سوال کے گرد ہونا چاہیے کہ سندھ کے عوام کو بہتر حکمرانی کیسے فراہم کی جاسکتی ہے، وسائل کی تقسیم کس طرح شفاف بنائی جاسکتی ہے اور اختیارات کس سطح پر رکھنے سے عام شہری کو زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
اصل مسئلہ شاید نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس سے بھی بڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں اختیارات اور وسائل کہاں تک پہنچتے ہیں۔ اگر وفاق سے صوبے کو وسائل ملیں لیکن وہ وسائل اضلاع اور شہری حکومتوں تک مؤثر انداز میں نہ پہنچیں، اگر بڑے شہروں کے بنیادی مسائل برسوں برقرار رہیں، اگر اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت بہتر نہ ہو اور اگر عوام کو اپنے ہی علاقے کے ترقیاتی بجٹ کا علم نہ ہو تو پھر نظامِ حکمرانی پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
نئے انتظامی یونٹس کی بحث اسی بنیادی سوال کو دوبارہ سامنے لے آئی ہے کہ کیا پاکستان میں اختیارات واقعی عوام کے قریب منتقل کیے جائیں گے یا سیاسی اور انتظامی طاقت بدستور چند مراکز تک محدود رہے گی؟ سندھ ہو یا پنجاب، خیبر پختونخوا ہو یا بلوچستان، دیرپا حل صرف نقشے پر نئی حد بندی سے نہیں بلکہ مضبوط مقامی حکومتوں، شفاف مالیاتی نظام، مؤثر احتساب اور عوام تک براہ راست وسائل کی رسائی سے نکل سکتا ہے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس بنتے ہیں تو انہیں محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، انتظامی سہولت اور عوامی خدمت کے قابلِ پیمائش نتائج سے جوڑنا ہوگا۔ اور اگر موجودہ صوبائی ڈھانچہ برقرار رہتا ہے تو پھر اس ڈھانچے سے بھی یہی سوال پوچھا جاتا رہے گا کہ عوام کے لیے مختص وسائل ان کی زندگی میں کتنی حقیقی تبدیلی لا رہے ہیں۔
