یاسین ملک کے نکاح سے آزاد کرنے پر مشعال ملک صدمے میں

بھارت کی تہاڑ جیل میں قید جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کی جانب سے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو نکاح کے بندھن سے آزاد کرنے اور خود کو ممکنہ سزائے موت کے لیے پیش کرنے کے بیانِ حلفی نے انکی بیٹی رضیہ سلطانہ اور بیوی مشعل ملک کو شدید جذباتی صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ یاسین ملک کی 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ نے اپنے والد کے نام ایک انتہائی جذباتی پیغام میں ان کے فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی والدہ کو اپنے والد سے الگ ہوتے نہیں دیکھ سکتیں۔ دوسری جانب ان کی اہلیہ مشعال مالک نے کہا ہے کہ اگر یاسین ملک ان سے 100 سال بھی بڑے ہوتے تو انہیں فرق نہیں پڑتا۔

یاد ریے کہ یاسین ملک نے حال ہی میں سرینگر کی ایک عدالت میں جمع کرائے گئے 25 صفحات پر مشتمل بیانِ حلفی میں کہا تھا کہ وہ اپنے خلاف جاری مقدمے کا مزید دفاع نہیں کرنا چاہتے اور عدالت سے اپنے لیے سزائے موت طلب کرتے ہیں۔ اسی بیان میں انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو بھی اپنی طویل قید، مستقبل کی غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ بیوگی کی زندگی سے بچانے کے لیے ازدواجی رفاقت سے آزاد کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ مشعال اپنی پوری زندگی ان کے انتظار اور ان کی قید کے بوجھ تلے گزار دیں۔ انہوں نے اپنے بیان حلفی میں لکھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مشعال ملک نئی زندگی کا آغاز کریں۔

یاسین ملک کے اس فیصلے پر ان کی بیٹی رضیہ سلطانہ کا ردِعمل سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے والد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیانِ حلفی بار بار پڑھنے کے باوجود وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کے والد ایسا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رضیہ سلطانہ نے بتایا کہ ان کی والدہ نے یاسین ملک کا بیانِ حلفی پڑھا تو وہ بے ہوش ہوگئیں۔ رضیہ کے مطابق اس صدمے کے بعد سے مشعال ملک کی طبیعت مسلسل خراب ہے۔

رضیہ سلطانہ نے اپنے والد کے نام جوابی پیغام میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی والدہ نے یاسین ملک کا ساتھ انکی قید اور مشکلات کے باوجود نہیں چھوڑا لہذا اب یاسین ملک کا خود اپنی اہلیہ کو رفاقت سے آزاد کرنے کا فیصلہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ رضیہ نے اپنے والد کو یہ بھی کہا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی والدہ کو چھوڑنے یا اس فیصلے پر عمل کرنے کا سوچا تو وہ اسے قبول نہیں کریں گی۔ ایک انتہائی جذباتی جملے میں انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر ان کے والد نے مشعال ملک کو چھوڑ دیا تو وہ اپنی کلائی کاٹ لیں گی۔ یہ بیان ایک کم عمر بیٹی کی شدید جذباتی کیفیت کے طور پر رپورٹ ہوا ہے۔

رضیہ سلطانہ نے اپنے والد کے اس مؤقف سے اختلاف کیا کہ وہ اپنی اہلیہ کو ان کی مشکلات سے آزاد کر کے ان پر احسان کر رہے ہیں۔ بیٹی کا کہنا تھا کہ مشعال ملک نے ان کے والد کی قید کے دوران ان کا ساتھ دیا ہے اور وہ خود بھی اپنے والد کے بغیر زندگی گزارنے کے تصور کو قبول نہیں کرتیں۔ رضیہ سلطانہ کے مطابق یاسین ملک کو موت کی خواہش یا اپنی زندگی سے دستبرداری کے بجائے اپنی جدوجہد اور اپنے خاندان کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے والد کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ ان کی بیوی اور بیٹی اب بھی انکے ساتھ کھڑی ہیں اور انہیں اپنی زندگی ختم کرنے یا اپنے خاندان سے رشتہ توڑنے کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

میڈیس رپورٹس میں رضیہ سلطانہ کی جانب سے والد کو یہ بھی کہا گیا کہ موت کا مطالبہ کرنا یا ہار مان لینا بہادری نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق ان کے والد کو حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے، کیونکہ ان کی والدہ اور وہ خود ان کے ساتھ ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے یاسین ملک کے طرزِ عمل کو اپنی اور اپنے والد کی طویل جدوجہد سے متصادم قرار دیا۔ رضیہ کے ردِعمل میں صرف ازدواجی رشتے کا معاملہ ہی نہیں بلکہ یاسین کی سیاسی جدوجہد کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ ان کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اپنے والد سے یہ توقع رکھتی ہیں کہ وہ اپنی تحریک، اپنے مؤقف اور اپنے خاندان کو اس وقت تنہا نہیں چھوڑیں گے جب وہ خود انتہائی مشکل قانونی اور قیدی کی زندگی سے گزر رہے ہیں۔

دوسری جانب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے یاسین ملک کے بیانِ حلفی کے بعد ان کی اہلیہ اور بیٹی سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔ جماعت نے یاسین ملک کے بیانِ حلفی کی صداقت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے لیے عالمی سطح پر رہائی کی مہم مزید تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ JKLF کے مطابق یاسین ملک کو ان کے سیاسی مؤقف کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور عالمی رہنماؤں و انسانی حقوق کی تنظیموں سے ان کی زندگی اور رہائی کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ یوں یاسین ملک کے بیانِ حلفی نے جہاں ان کے خلاف جاری کیس اور ان کی جانب سے سزائے موت قبول کرنے کے فیصلے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، وہیں ان کی اہلیہ اور کم عمر بیٹی کے لیے بھی ایک شدید جذباتی بحران پیدا کر دیا ہے۔ رضیہ سلطانہ کا ردِعمل خاص طور پر اس وجہ سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کے فیصلے کو قبول کرنے کے بجائے انہیں اپنی والدہ، اپنی بیٹی اور اپنی طویل جدوجہد کی خاطر زندگی اور امید کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔

خیال رہے کہ یاسین ملک اس وقت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں اور انکے خلاف 1990 کے کشمیری پنڈت خاتون سرلا بھٹ کے قتل سمیت مختلف مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ اپنے حلفی میں انہوں نے اس کیس میں اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکی جانب سے اپنا مزید دفاع نہ کرنے کے فیصلے کو انکے ناکردہ جرم کا اعتراف نہ سمجھا جائے۔

Back to top button