فوجی اسٹیبلشمنٹ نئے صوبوں کی تشکیل پر ڈٹ گئی

وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک مرتبہ پھر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کی تجویز دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کوئی کچھ بھی کر لے لیکن یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے نہ کہ اشرافیہ نے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر فوجی اسٹیبلشمنٹ نئے صوبے بنانے کا فیصلہ کر چکی یے اور اب پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی تشکیل پر راضی نہ ہوئی تو اس معاملے پر ریفرنڈم کروا دیا جائے گا جس کا نتیجہ ہمیشہ حکمرانوں کے حق میں نکلتا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں دو غیر منتخب ڈکٹیٹرز یعنی جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ریفرنڈم کروائے تھے جنہیں دھاندلی زدہ قرار دیا گیا تھا۔

محسن نقوی نے اسلام آباد کے بعد لاہور میں بھی نئے صوبوں بارے قومی پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ری سیٹ کا مطلب نظام توڑنا نہیں ہے‘ بلکہ نظام کو درست کرنے کے لیے آئین کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ بھی عوام پر چھوڑ دینا چاہیے، عوام چاہیں تو نئے یونٹس بنیں اور نہ چاہیں تو نہ بنیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پنجاب میں لاہور جیسا کوئی اور شہر نہیں اور سندھ میں کراچی جیسا کوئی شہر نہیں، اس لیے بڑے شہروں اور انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے نئے طریقہ کار پر غور ضروری ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کو بھی صوبہ بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے سب سے بڑے حامی ہیں۔

خیال رہے محسن نقوی نے گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان جس نظام کے اندر رہ رہا ہے وہ ’کولیپس‘ کر چکا ہے اور ملک کے مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے اس بیان کو اس وقت حکومت کی پالیسی میں بڑی تبدیلی، نئے صوبوں کی تشکیل کی سرکاری تجویز اور بعض سیاسی حلقوں میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے سے جوڑ کر دیکھا گیا۔ اس مرتبہ محسن نقوی نے اپنی تجویز کو مزید واضح اور وسیع کر دیا ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے نئے صوبوں کے ساتھ چھوٹے انتظامی یونٹس، تحصیلوں، اضلاع اور ڈویژنوں کی تشکیل، بڑے شہروں کے لیے الگ انتظامی طرزِ حکومت اور عوامی رائے کے ذریعے فیصلہ کرنے کی بات بھی کی ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انکی تجویز حکومت یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہے۔ اپنے سابقہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ کسی نے اسے موجودہ حکومت سے جوڑا اور کسی نے کسی سیاسی جماعت سے، حالانکہ ان کا اشارہ نہ تو کسی سیاسی جماعت کی طرف تھا اور نہ کسی اور طرف۔ انہوں نے اپنی پوزیشن بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملازمت پر رہیں یا نہ رہیں، لیکن اب اس معاملے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے لہذا اب انتظامی ڈھانچے میں بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اسمبلیوں میں نئے صوبوں کے خلاف تقاریر کر رہے ہیں انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ یہ فیصلہ عوام کا ہو گا اور انہی کی مرضی سے ہونا ہے۔

محسن نقوی نے اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی تجویز پر بھی پہلے سے زیادہ واضح مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس تجویز کے سب سے بڑے حامی ہیں کیونکہ اسلام آباد ایسا شہر ہے جسے وفاقی بجٹ سے ایک روپیہ بھی نہیں ملتا۔ انہوں نے نیویارک اور لندن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں میں مؤثر شہری حکومت کا نظام مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی میئرز، تحصیلوں، ڈویژنوں اور اضلاع کے انتظامی کردار کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ نقوی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’آپ جو مرضی کر لیں، ممدانی اور صادق خان تو اب آ کر رہیں گے۔‘ انکا اشارہ نیویارک کے میئر زہران ممدانی اور لندن کے میئر صادق خان کی جانب تھا، جنہیں وہ بڑے شہروں میں منتخب شہری قیادت کی مثال کے طور پر پیش کر رہے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محسن نقوی چھوٹے صوبوں کی تشکیل کا جو ایجنڈا لے کر نکلے ہیں وہ بلا شبہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ذہن کی پیداوار ہیں۔ اسلام اباد میں جب محسن نقوی نے نئے صوبوں کے تشکیل کی تجویز دی تھی تو اگلے ہی روز فوج ترجمان سے گڈ گورننس کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا۔ جواب میں فوجی ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان کو گڈ گورننس کی جانب بڑھنا ہوگا اور اس کے لیے تمام ضروری اصلاحات کی جانی چاہئیں۔
اس بیان کے بعد نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات کی بحث کو مزید تقویت ملی۔

تاہم حکومت میں شامل بعض سیاسی شخصیات نے محسن نقوی کے مؤقف سے اختلاف کیا تھا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے نقوی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس ایشو پر بات کرنے کے لیے پارلیمان اور کابینہ کا فورم استعمال کریں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ ’سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں۔‘
دوسری جانب پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں کی تشکیل اور سندھ کی تقسیم کے امکان کی سخت مخالفت کرتے ہوئے فیصلہ سازوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور فریال تالپور کے سخت بیانات سامنے آئے ہیں، جن میں سندھ کی تقسیم کو ’غداری‘ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس دوران سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں کی تشکیل کے خلاف ایک قرارداد بھی پاس کی ہے۔

محسن نقوی کے تازہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی نئے صوبوں کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔ بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے اسے پیپلز پارٹی کے دباؤ کے بعد نقوی کی جانب سے اپنے مؤقف کو نسبتاً محتاط انداز میں دہرانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے جبکہ بعض لوگوں کے نزدیک نقوی کی تازہ تقریر ثبوت ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ اب رکے گا نہیں بلکہ اگے بڑھے گا۔

اس ایشو پر سینیئر صحافی حامد میر نے ایک بنیادی پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل مسئلہ گورننس اور ملکی نظام ہے۔ اگر نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنا بھی دیے جائیں لیکن طاقت کا مرکز وہی فوج ہی رہے اور بنیادی حکمرانی کے مسائل حل نہ ہوں تو انتظامی نقشہ تبدیل کرنے سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق نئے یونٹس بنانے کے ساتھ اختیارات کی حقیقی منتقلی، مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا اور فیصلوں میں عوام کو شامل کرنا بھی ضروری ہو گا۔

حامد میر کے مطابق محسن نقوی کے تازہ خطاب سے یہ ظاہر ہے کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اسے زیادہ محتاط انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے وضاحت کی ہے کہ ’سسٹم ری سیٹ‘ سے مراد حکومت کو تبدیل کرنا نہیں بلکہ حکومتی اور انتظامی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔
یوں محسن نقوی کے پہلے اور تازہ بیانات کو ملا کر دیکھا جائے تو ان کی تجویز اب صرف ’نئے صوبے بنانے‘ تک محدود نہیں رہی بلکہ چھوٹے انتظامی یونٹس، نئے اضلاع اور ڈویژن، بڑے شہروں کے لیے بااختیار شہری حکومتیں، اسلام آباد کو صوبہ بنانے اور عوامی رائے سے حتمی فیصلہ کرنے کے وسیع تر تصور میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت بالخصوص صدر آصف علی زرداری اس تجویز کو عملی شکل اختیار کرنے دیں گے یا نہیں؟

Back to top button