آزاد کشمیر میں نئی حکومت کو کس بڑے چیلنج کا سامنا ہے؟

آزاد جموں و کشمیر میں کئی ماہ تک جاری رہنے والے سیاسی بحران، انتخابی تنازعات، احتجاجی تحریک اور شدید کشیدگی کے باوجود بالآخر نئی حکومت تو قائم ہو گئی ہے، لیکن نون لیگ کے وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کو اقتدار سنبھالتے ہی ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جو محض حکومتی انتظام چلانے تک محدود نہیں بلکہ حکومت کی اخلاقی، سیاسی اور کارکردگی کی ساکھ سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابی عمل کے دوران انتخابی شفافیت پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے۔ حکومتی اقدامات پر سب سے سخت تنقید پیپلز پارٹی کی جانب سے سامنے آئی، جو وفاق میں مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت ہے۔ انتخابات کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ بھی مکمل طور پر تنازعات سے پاک نہ رہ سکا اور مسلم لیگ ن کے اندر ہی قیادت کے فیصلے پر اختلاف سامنے آ گیا۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کا بطور وزیراعظم انتخاب بھی سیاسی بحث کا موضوع بنا۔ انہیں آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر منتخب یا تجویز نہیں کیا تھا بلکہ ان کا نام مسلم لیگ ن پاکستان کی مرکزی قیادت کی جانب سے سامنے آیا۔

اس فیصلے پر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے بعض سینئر رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا، جن میں پارٹی کے صدر شاہ غلام قادر بھی شامل تھے۔ شاہ غلام قادر نے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے ہونے والے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ تاہم افتخار گیلانی کے انتخاب پر بنیادی اعتراض انکی سیاسی تجربہ کاری یا سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور سابق سپیکر شاہ غلام قادر جیسے سینئر سیاستدانوں کے مقابلے میں نسبتاً کم تجربہ ہونا نہیں تھا بلکہ ان کی اسمبلی میں واپسی کا طریقہ کار زیادہ اہم سیاسی سوال بن گیا۔ افتخار گیلانی نے انتخابات میں مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 29 سے حصہ لیا تھا لیکن وہ اپنے پیپلز پارٹی کے حریف سے تین ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست کھا گئے تھے۔ لیکن بعد ازاں وہ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے اور پھر وزیر اعظم کے منصب کے امیدوار بنے۔

خیال رہے کہ قانونی طور پر ایسی کوئی پابندی موجود نہیں کہ عام انتخابات میں ہارنے والا شخص بعد میں مخصوص نشست پر منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم کے عہدے کا امیدوار نہیں بن سکتا۔ تاہم سیاسی حلقوں میں یہ بحث ضرور جاری رہی کہ وزیراعظم جیسے اہم منصب پر فائز ہونے والے شخص کو پہلے اپنی انتخابی نشست سے عوامی اعتماد حاصل کرنا چاہیے۔

اب جبکہ مسلم لیگ ن کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہے اور نئی حکومت قائم ہوچکی ہے، اگلا مرحلہ حکومت کی سیاسی اور انتظامی کارکردگی کا ہے۔ مسلم لیگ ن کی اکثریت کے باعث اس کی پسند کے امیدوار کا آزاد کشمیر کے نئے صدر کے طور پر انتخاب بھی بظاہر محض رسمی کارروائی بن چکا ہے۔ تاہم نئی حکومت کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ موجودہ سیاسی بحران سے کیسے نکلے گی اور اپنی حکومت کی اخلاقی و عملی ساکھ کیسے بحال کرے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ انتخابی عمل کے حالات کے باعث حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنی انتخابی قانونی حیثیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور کارکردگی کی بنیاد پر بھی عوامی قبولیت حاصل کرے۔

اس سلسلے میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات حکومت کی پہلی بڑی آزمائش قرار دیے جا رہے ہیں۔ حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ احتجاجی تحریک سے وابستہ نسبتاً معتدل عناصر کے ساتھ رابطے بحال کرے، ان کے تحفظات سنے اور ایسے قابلِ عمل مذاکرات کا آغاز کرے جن کے ذریعے طویل عرصے سے جاری احتجاج اور کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

یہ بھی یاد رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی تحریک نے آزاد کشمیر کے سیاسی اور انتظامی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ بالخصوص پونچھ ڈویژن میں اس تنظیم کا اثر نمایاں رہا، جہاں آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے مرحلہ وار انتخابات کرانے کی کوششوں کے باوجود 11 میں سے 7 حلقوں میں پولنگ نہ ہو سکی۔ احتجاج کے باعث تقریباً تین ماہ سے ایک بڑی تعداد میں مظاہرین دھرنا دیے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں شہری زندگی کے معمولات متاثر ہوئے جبکہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں کے درمیان اور پاکستان کے ساتھ رابطے بھی بڑی حد تک متاثر ہوئے۔
احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ہلاکتوں نے صورتحال کو مزید سنگین کردیا اور آزاد کشمیر کے اندر ہی نہیں بلکہ بیرون ملک مقیم کشمیریوں میں بھی سیاسی تقسیم اور جذباتی ردعمل پیدا ہوا۔
اس تمام صورتحال نے آزاد کشمیر اور پاکستان کی انتظامیہ کے لیے عوامی اعتماد اور اخلاقی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ اسی لیے نئی حکومت کے لیے فوری طور پر کشیدگی کم کرنا اور تمام متنازع معاملات کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر آزاد جموں کشمیر میں افتخار گیلانی کی نئی حکومت نے محض اقتدار سنبھالنے کو ہی سیاسی بحران کا اختتام سمجھ لیا اور عوامی شکایات اور آئینی محرومیوں کے بنیادی اسباب کو نظرانداز کیا تو سیاسی بے چینی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔

Back to top button