صوبوں کے خلاف بیانات پر مریم نواز تنقید کی زد میں

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز ایک مرتبہ پھر اپنے متنازع سیاسی بیان کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔ مریم نواز نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران خیبر پختونخوا کا نام لیے بغیر کہا کہ پنجاب کو پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پڑوسی صوبوں سے زیادہ خطرہ درپیش ہے اور ان صوبوں سے دہشت گردی پنجاب میں آتی ہے۔ ان کے اس بیان پر سیاسی رہنماؤں، صحافیوں، تجزیہ کاروں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور ناقدین نے اسے صوبائی تعصب اور وفاقی اکائیوں کے درمیان خلیج بڑھانے کا باعث قرار دیا ہے۔

یاد ریے کہ مریم نواز اس سے قبل صوبہ سندھ کے خلاف اپنے بیانات کے باعث تنقید کا سامنا کر چکی ہیں، تاہم اس مرتبہ خیبر پختونخوا سے متعلق ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی دہشت گردی کے مسئلے اور صوبائی سطح پر سیاسی کشیدگی سے دوچار ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے وفاق میں ایک صوبے کے سربراہ کی جانب سے دوسرے صوبوں کو دہشت گردی کے خطرے سے جوڑنے والے بیانات انتہائی حساس نوعیت کے حامل ہوتے ہیں۔ مریم نواز نے یہ متنازع بیان لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

انہوں نے سکیورٹی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ مجھے جو تھریٹ ہے وہ میرے پڑوسی ممالک سے کم اور میرے پڑوسی صوبوں سے زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائی بارڈر ایریاز کے باعث پنجاب کو مختلف سمتوں سے خطرات کا سامنا ہے اور ’’وہاں سے دہشت گردی پنجاب میں آتی ہے۔‘‘
پنجاب کی جغرافیائی صورتحال کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کی سرحدیں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے ملتی ہیں، جبکہ مشرق میں اس کی سرحد بھارت سے ملتی ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب کے اوپر سب کی نظر ہے اور صوبائی حکومت نے دہشت گردی اور دیگر سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کی ہے۔

مریم نواز کے مطابق پنجاب حکومت نے سکیورٹی اور عوام کے تحفظ کے لیے اربوں روپے ٹیکنالوجی پر خرچ کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالی تو بعض مواقع پر شدت پسند عناصر کے پاس سکیورٹی اداروں کے مقابلے میں زیادہ جدید ٹیکنالوجی موجود تھی۔ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اس صورتحال کو تبدیل کیا ہے اور سکیورٹی اداروں کو جدید سہولتوں سے لیس کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق شدت پسند عناصر کے پاس نائٹ وژن گلاسز اور دیگر جدید آلات موجود تھے، تاہم اب سکیورٹی اداروں کے پاس بھی جدید نظام اور ٹیکنالوجی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سی سی ٹی وی کیمروں کو بلٹ پروف بنایا گیا ہے، تھرمل کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ان کے بقول سکیورٹی چیک پوسٹوں کو بھی جدید اور محفوظ بنایا گیا ہے تاکہ دہشت گرد حملے کی صورت میں اہلکاروں کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔

مریم نواز کے بیان پر سب سے سخت ردعمل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے سامنے آیا، جنہوں نے اسے تعصب پر مبنی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے بیان نے دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کے عالمی مؤقف کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چھوٹے صوبوں کے خلاف اس قسم کا لہجہ پاکستان مسلم لیگ ن کی ملک کے حوالے سے ’’تقسیم کی سوچ‘‘ کی عکاسی کرتا ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور تین وفاقی اکائیوں کو دہشت گردی کی بنیاد قرار دینا ملک کو مزید تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔

بعد ازاں میرپورخاص میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مریم نواز کے بیان پر مزید تنقید کی اور کہا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ بھارت کو اپنا دوست کہتی ہیں، بھارت سے مسئلہ نہیں مگر پاکستان کے سرحدی صوبوں سے مسئلہ ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی مریم نواز کے بیان کو ’’توہین آمیز‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا کر رہا ہے اور اس جنگ میں سب سے بھاری قیمت صوبے کے عوام نے ادا کی ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، شہریوں اور شہدا کے خاندانوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے انہیں طعنوں کا نشانہ بنانا سیاسی بے حسی کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی افسوسناک رویہ ہے۔

سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید نے بھی مریم نواز کا بیان سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے تضحیک آمیز اور تقسیم کی سوچ کا عکاس قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کا پڑوسی صوبہ خیبر پختونخوا شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر رہا ہے جبکہ بھارت کو باآسانی بری الذمہ قرار دیا جا رہا ہے۔
شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس دہشت گردی کو وہ آج پنجاب کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہیں، اس کی قیمت خیبر پختونخوا کے عوام کئی دہائیوں سے ادا کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی سابق رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر نے مختصر مگر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا: ’’قتل بھی ہم ہوں، اور الزام بھی ہم پر۔‘‘
پیپلز پارٹی بلوچستان کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے بھی مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کو پڑوسی صوبوں اور وہاں بسنے والے لوگوں سے نہیں بلکہ ایسی سوچ سے خطرہ ہے۔ انہوں نے صوبوں سے آنے والے افراد کی غیر ضروری پروفائلنگ کے بجائے سرحدی انتظام بہتر بنانے پر زور دیا۔
پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا کہ دہشت گرد کا کوئی صوبہ، ذات یا مذہب نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق کسی نہ کسی نے دہشت گردوں کو اپنے ایجنڈے کے لیے پاکستان میں لایا اور کوئی ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے جبکہ کوئی دوسرا ان کا نشانہ بن رہا ہے۔

خاتون صحافی بینظیر شاہ نے مریم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے اور طاقتور صوبے کی وزیراعلیٰ کی جانب سے ’’پنجاب بمقابلہ دیگر صوبوں‘‘ کی زبان استعمال کرنا خاصی معنی خیز ہے۔ ان کے مطابق اس قسم کی زبان صوبائی سطح پر پہلے سے موجود احساسِ محرومی اور تحفظات کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔

Back to top button