مریم نوازکےدہشتگردی سے متعلق بیان پر طوفان کیوں برپاہے؟عظمیٰ بخاری

پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری کاکہناہے کہ مریم نواز کے ایک بیان کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک پیالی میں طوفان لے کر خواہ مخواہ برپا ہے اور بے تکے، گھناؤنے اور ایک گھٹیا طریقے سے وزیراعلیٰ مریم نواز کے دہشتگردی سے متعلق ایک کنسرن کو سیاسی اور صوبائی رنگ دیا گیا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو پنجاب کی وزیر اعلیٰ سے معافی کا مطالبہ کرنے سے پہلے اپنے صوبے کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پختونوں کی توہین اس وقت ہوتی ہے جب انہیں صحت کی سہولیات نہیں ملتیں، ان کے بچوں کو اسکول میسر نہیں ہوتے، ہونہار اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ نہیں ملتے اور سڑکیں نہیں بنتیں۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی لوگ دریاؤں کو عبور کرنے کے لیے ڈولیوں کا سفر کرتے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کی پولیس دہشتگردی کے خلاف لڑرہی ہے اور انسداد دہشتگردی کے ادارے کو مناسب سہولیات اور توجہ نہیں مل رہی۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کیے جارہے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن اور بالخصوص وزیر اعلیٰ مریم نواز پنجاب صوبائیت پر یقین نہیں رکھتیں اور خیبر پختونخوا میں بھی امن اور سکون چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جس طرح دہشت گردوں کے خفیہ نیٹ ورک ختم کیے گئے، اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور خفیہ مراکز کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب بچوں کو لیپ ٹاپ دینے اور اسکالرشپس کے معاملے میں اقدامات کر رہی ہیں، جبکہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک ارب روپے کی رقم دے کر انہیں آلات سے لیس کرنے میں مدد کی گئی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ خیبر پختونخوا میں آگ لگی ہوئی ہے اور وہاں کی حکومت کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
