پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کی گرفتاری معنی خیز کیوں ہے؟

9 مئی 2023 کو لاہور میں فوجی تنصیبات پر حملوں میں مفرور قرار دیے جانے والے تحریک انصاف لاہور کے سابق صدر اور میاں محمد اظہر مرحوم کے صاحبزادے حماد اظہر کی خیبر پختون خواہ کی بچائے اچانک ملتان سے گرفتاری کو پارٹی کے اندرونی حلقوں میں معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حماد اظہر کو ملتان کے علاقے آر اے بازار کے قریب انکے ایک قریبی دوست کے گھر سے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد انہیں لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق متعدد مقدمات درج ہیں جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت انہیں پہلے ہی اشتہاری قرار دے کر مستقل گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکی تھی۔
حماد اظہر کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف نے اسے سیاسی انتقام اور ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے، جبکہ پولیس ذرائع کے مطابق وہ 9 مئی کے مختلف مقدمات میں مطلوب تھے اور طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب رہنے کے بعد اب گرفتار کیے گئے ہیں۔
تاہم گرفتاری کے فوری بعد بعض پولیس حکام کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق نہ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ملتان کے ریجنل پولیس افسر نے ابتدائی طور پر کہا کہ انہیں گرفتاری کا علم نہیں، جبکہ لاہور پولیس کے ایک سینئر افسر نے بھی فوری طور پر گرفتاری یا حوالگی کی تصدیق نہیں کی تھی۔ دوسری جانب پولیس ذرائع اور متعدد میڈیا رپورٹس نے گرفتاری اور لاہور پولیس کو حوالگی کی اطلاع دی۔
یاد ریے کہ حماد اظہر 9 مئی 2023 کے بعد سے مسلسل روپوش رہے۔ خود ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف متعدد مقدمات قائم کیے گئے، ان کے گھر پر بار بار چھاپے مارے گئے، گھر کو نقصان پہنچایا اور سیل کیا گیا جبکہ ان کے اہل خانہ کو بھی ہراساں کیا گیا، جس کے باعث انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کو بیرون ملک بھیج دیا اور خود ایک نامعلوم مقام سے پارٹی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ مارچ 2024 میں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے خلاف 42 مقدمات درج ہو چکے ہیں اور وہ مئی 2023 سے روپوشی کی حالت میں پارٹی کے لیے کام کر رہے تھے۔
اس عرصے کے دوران پولیس نے کئی بار انکی گرفتاری کی کوشش کی مگر وہ ہر بار بچ نکلے۔
جنوری 2024 میں لاہور کی جعفریہ کالونی میں پولیس نے ان کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا، تاہم پولیس کے پہنچنے سے پہلے حماد اظہر وہاں سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے انہیں پناہ دینے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا۔ مئی 2024 میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب حماد اظہر تقریباً ایک سال کی روپوشی ختم کرکے اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹریٹ پہنچے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں عمران خان کی جانب سے پیغام ملا ہے کہ اب انہیں باہر آنا چاہیے اور وہ پشاور جاکر قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کریں گے۔ لیکن ان کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سی ٹی ڈی نے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ پر چھاپہ مارا۔ پولیس کے پہنچنے سے تقریباً نصف گھنٹہ قبل حماد اظہر وہاں سے نکل چکے تھے، یوں وہ ایک مرتبہ پھر گرفتاری سے بچ گئے۔
اس کے بعد بھی وہ دوبارہ روپوش ہوگئے۔ جولائی 2025 میں اپنے والد میاں محمد اظہر کی وفات کے موقع پر وہ طویل عرصے بعد منظرعام پر آئے، والد کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے اور کچھ وقت کے لیے گھر میں موجود رہے، تاہم اس کے بعد دوبارہ منظر سے غائب ہوگئے۔ موجودہ گرفتاری تک وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت سے باہر رہے۔ یاد ریے کہ حماد اظہر کے والد میاں محمد اظہر پاکستانی سیاست کی ایک معروف شخصیت تھے۔ وہ 1990 سے 1993 تک گورنر پنجاب رہے، عملی سیاست میں مسلم لیگ ن سے وابستہ رہے، بعد ازاں مسلم لیگ ق سے وابستہ ہوئے اور 2011 میں تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ 2024 کے عام انتخابات میں وہ لاہور کے حلقہ این اے 129 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
جولائی 2025 میں میاں محمد اظہر کے انتقال کے وقت تب ایک غیر معمولی صورت حال پیدا ہوئی جب انہیں والد کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کا موقع دیا گیا۔ وہ اپنے گھر پہنچے، جنازے میں شریک ہوئے اور انہیں والد کا جنازہ پڑھنے اور تدفین میں شرکت سے نہیں روکا گیا۔ بعد ازاں میاں اظہر کی رہائش گاہ پر تعزیت کے لیے آنے والی شخصیات سے بھی حماد اظہر کی ملاقاتیں ہوئیں۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب بھی میاں اظہر کے گھر تعزیت کے لیے گئیں۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق وہ ایک سے زیادہ مرتبہ گھر گئیں، جبکہ نواز شریف اور شہباز شریف سمیت مسلم لیگ ن کی قیادت نے بھی میاں اظہر کے انتقال پر تعزیت کی۔ نواز شریف نے میاں اظہر کے خاندان کے ساتھ اپنے خاندان کے پرانے تعلق کا بھی ذکر کیا تھا۔
خیال رہے کہ مارچ 2024 میں حماد نے پنجاب کی قائم مقام صدارت اور جنرل سیکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے بنیادی وجہ اپنی قانونی مشکلات اور روپوشی کو قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا شخص جو خود روپوش ہو اور زمینی سطح پر پارٹی کی قیادت نہ کرسکے، اس کے لیے تنظیمی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا مشکل ہے۔
اگست 2024 میں انکا پارٹی سے اختلاف زیادہ کھل کر سامنے آیا۔ انہوں نے پنجاب کی صدارت سے دوبارہ استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان تک ان کی براہ راست رسائی نہیں اور پارٹی کے اندر فیصلے میرٹ کے بجائے لابنگ کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر لاہور کے اس وقت کے پارٹی صدر چوہدری اصغر گجر کو عہدے سے ہٹائے جانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ بعض عناصر نے عمران خان کو غلط معلومات دے کر یہ فیصلہ کروایا۔
اس معاملے میں پارٹی کے اندر ایک سے زیادہ دھڑوں کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ حماد اظہر کے استعفے کے بعد لاہور کے صدر چوہدری اصغر گجر اور لاہور کے جنرل سیکریٹری حافظ زیشان رشید سمیت بعض دیگر رہنماؤں نے بھی اپنے عہدوں سے استعفے دیے۔
ذرائع نے تب پنجاب تنظیم میں دو گروپوں کے درمیان اختلافات اور تنظیمی عہدوں پر تقرریوں کو تنازع کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔
بعد ازاں اپریل 2025 میں حماد اظہر نے ایک مرتبہ پھر پارٹی عہدے سے استعفیٰ دیا۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے پارٹی کے اندر اپنے کردار، بعض رہنماؤں کے ساتھ اختلافات اور اپنے حلقے میں کام کرنے کی آزادی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ تاہم تین برس تک روپوش رہنے والے حماد کی اچانک گرفتاری کو تحریک انصاف کے اندرونی حلقے مشکوک نظر سے دیکھتے ہیں اور اسے معنی خیز قرار دے رہے ہیں۔
