مکہ معاہدہ، پاکستان نے ایران کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیوں کیا؟

مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اگرچہ تہران فوری طور پر اس معاہدے کو ایران کے خلاف کوئی ممکنہ خطرہ قرار نہیں دے رہا، تاہم ایران کی جانب سے سہ ملکی اس معاہدے پر محتاط ردعمل نے مستقبل کے ممکنہ علاقائی اثرات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ باہمی دفاع اور بیرونی جارحیت کے مقابلے کے لیے ہے، لیکن ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی انتہائی بلند ہے، خطے میں سکیورٹی کی صورت حال غیر یقینی ہے اور خلیج و بحیرہ احمر کے راستے بھی خطرات سے دوچار ہیں، مکہ معاہدے کی اہمیت محض تین ممالک کے دفاعی تعاون تک محدود نہیں رہتی۔ دوسری جانب پاکستان نے تہران کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایرانی قیادت کو معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کرنے اور ایرانی اعلیٰ حکام کو اسلام آباد آنے کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مکہ دفاعی معاہدہ خطے میں ایک نئے اجتماعی سلامتی کے نظام کی بنیاد بن سکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو ایران اس نئے بندوبست میں کہاں کھڑا ہوگا؟


خیال رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس طرح معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاع اور سکیورٹی تعاون کے ایک نئے فریم ورک کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

تاہم سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد کسی تیسرے ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا ہے۔ معاہدے کو بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد کسی بیرونی جارحیت کی صورت میں تینوں ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کیونکہ مکہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید جغرافیائی اور عسکری کشیدگی کا شکار ہے اور ایران، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی حساس مرحلے میں ہیں۔


مبصرین کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے پر ایران کا ردعمل بظاہر محتاط ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر اسے ایران مخالف اتحاد قرار نہیں دیا گیا بلکہ یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ معاہدے کو فی الحال تہران کے لیے کسی فوری خطرے کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔

ایرانی حلقوں کے مطابق اس معاہدے کو خطے میں امریکی سکیورٹی کردار میں ممکنہ کمی اور علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کے ایک نئے رجحان کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ایران کے لیے اصل تشویش معاہدے کی موجودہ شکل سے زیادہ اس کے مستقبل کے ممکنہ دائرۂ کار سے متعلق ہے۔

اگر تین ممالک کے درمیان یہ دفاعی تعاون مستقبل میں ایک وسیع علاقائی سکیورٹی نظام میں تبدیل ہوتا ہے، مزید ممالک اس کا حصہ بنتے ہیں یا اس کے عملی عسکری ڈھانچے کو وسعت دی جاتی ہے تو تہران کے لیے اس کے اثرات زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔


مکہ معاہدے کے حوالے سے سب سے اہم بحث یہی ہے کہ آیا یہ محض پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون تک محدود رہے گا یا مستقبل میں ایک وسیع علاقائی سکیورٹی بندوبست کی شکل اختیار کرے گا۔

اگر یہ معاہدہ وسیع تر علاقائی نظام میں تبدیل ہوتا ہے تو ایران کے لیے صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔ ایک طرف تہران کے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ اہم تاریخی، مذہبی، معاشی اور سفارتی تعلقات ہیں، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ ایران کے تعلقات بھی گزشتہ برسوں میں کشیدگی سے سفارتی رابطوں اور تعلقات کی بحالی کی جانب بڑھے ہیں۔

اس لیے ایران کے لیے فوری طور پر مکہ معاہدے کو دشمنانہ اتحاد قرار دینا شاید اس کی سفارتی حکمت عملی کے مطابق نہ ہو۔ تہران بیک وقت اپنے مفادات کا تحفظ، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں توازن اور پاکستان و ترکیہ کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔


مکہ معاہدے کے بعد پاکستان نے جس پہلو کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے وہ ایران کو اعتماد میں لینا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان ایرانی قیادت کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے نمایاں خدوخال سے آگاہ کرے گا۔

ایرانی قیادت کو پاکستان کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت بھی پہنچا دی گئی ہے، جبکہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی رواں ماہ کے آخر میں اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔

تہران میں پاکستانی سفیر عمران علی صدیقی نے بھی اس دعوت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستانی مشن نے ایرانی قیادت تک جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت پہنچا دی ہے۔

یہ سفارتی سرگرمی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان مکہ معاہدے کو ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کے تناظر میں متوازن انداز میں آگے بڑھانا چاہتا ہے اور تہران کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں۔


پاکستانی سفیر کے مطابق دونوں برادر ممالک کی قیادت سفارتی مشنز کو درمیان میں لائے بغیر بھی اپنے رابطے اور گفت و شنید جاری رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان رابطوں کے لیے روایتی سفارتی چینلز کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطح کے براہ راست روابط بھی موجود ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مکہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے لیے سب سے بڑا سفارتی چیلنج یہ ہوگا کہ وہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو آگے بڑھاتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی متاثر نہ ہونے دے۔

پاکستان ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی اور دفاعی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، دوسری طرف ایران اس کا اہم ہمسایہ اور برادر ملک ہے۔ اس لیے اسلام آباد کے لیے دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک اہم خارجہ پالیسی ضرورت بن جاتا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے مکہ معاہدے کا بھرپور خیرمقدم نہیں کیا بلکہ اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، خصوصاً سعودی عرب کے کردار کے حوالے سے۔

یہ ردعمل ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی پیچیدہ تاریخ کے تناظر میں قابل فہم قرار دیا جا سکتا ہے۔ دونوں ممالک کئی برس تک علاقائی اثر و رسوخ، سکیورٹی اور جغرافیائی سیاست کے مختلف معاملات پر ایک دوسرے کے مقابل رہے ہیں۔

اگرچہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ہوئی ہیں، لیکن باہمی اعتماد ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوا۔ اسی لیے تہران مکہ معاہدے میں سعودی عرب کے کردار کو خاص توجہ سے دیکھ رہا ہے۔


مکہ دفاعی معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی خطے کے سکیورٹی ماحول کو براہ راست متاثر کر رہی ہے۔

خلیج، بحیرہ احمر اور دیگر اہم بحری راستوں کی سلامتی پہلے ہی ایک حساس مسئلہ بن چکی ہے۔ توانائی کی عالمی ترسیل، تجارتی راستوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان سمیت پوری عالمی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اسی پس منظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو بعض مبصرین خطے میں علاقائی ممالک کی جانب سے اپنی سکیورٹی ضروریات کو زیادہ منظم انداز میں پورا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔


ایرانی نقطۂ نظر سے معاہدے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اسے خطے میں امریکی سکیورٹی کردار میں کمی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اگر علاقائی ممالک مستقبل میں اپنے دفاع اور سکیورٹی کے لیے مشترکہ نظام تشکیل دینے کی طرف بڑھتے ہیں تو اس سے خطے میں بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی عکاسی ہو سکتی ہے۔

لیکن فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مکہ معاہدہ امریکی سکیورٹی نظام کا متبادل بننے جا رہا ہے۔ اس کے لیے مشترکہ دفاعی ڈھانچے، عملی فوجی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، مشترکہ مشقوں اور واضح کمانڈ نظام سمیت کئی مزید مراحل درکار ہوں گے۔


مکہ معاہدہ پاکستان کے لیے صرف ایک دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ ایک بڑا سفارتی امتحان بھی ہے۔

پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی، دفاعی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ دوسری جانب ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد، مذہبی و ثقافتی روابط، تجارت اور علاقائی سلامتی کے مشترکہ مفادات موجود ہیں۔

اسلام آباد کے لیے اس صورتحال میں کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا دکھائی دینا دوسرے فریق کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ابتدا ہی سے مکہ معاہدے کو دفاعی اور غیر جارحانہ نوعیت کا قرار دینے کے ساتھ ساتھ ایران کو براہ راست اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔


مکہ معاہدے کے ساتھ ایک اور اہم سفارتی پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کی کوششیں ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق عمان کی وساطت سے رابطے جاری ہیں اور مستقبل میں ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی امید موجود ہے۔ ممکنہ طور پر مذاکرات کے اگلے دور کے لیے سوئٹزرلینڈ یا قطر کے دارالحکومت دوحہ کو مقام بنایا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق تہران ان سفارتی کوششوں کے نتائج کے حوالے سے محتاط امید رکھتا ہے۔

اگر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر پورے خطے کے سکیورٹی ماحول پر پڑ سکتا ہے، اور ایسی صورت میں مکہ معاہدے کی سیاسی و دفاعی اہمیت کو بھی نئے زاویے سے دیکھا جائے گا۔


مکہ معاہدے کے حوالے سے سب سے دلچسپ امکان یہ ہے کہ اگر مستقبل میں یہ ایک وسیع علاقائی سکیورٹی نظام کی شکل اختیار کرتا ہے تو ایران کی ممکنہ شمولیت کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایران کے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ تعلقات موجود ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی سفارتی روابط بحال ہو چکے ہیں۔ اگر علاقائی ممالک کسی مشترکہ سکیورٹی نظام کو اس انداز میں تشکیل دیتے ہیں جو کسی مخصوص ملک کے خلاف نہ ہو بلکہ بیرونی جارحیت، دہشت گردی، سمندری سلامتی اور علاقائی استحکام پر مرکوز ہو تو مستقبل میں ایران کے لیے اس میں شمولیت کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

لیکن اس کے لیے سب سے پہلے ایران اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد میں مزید اضافہ اور خطے میں وسیع تر سیاسی مفاہمت ضروری ہوگی۔


فی الحال ایران کو مکہ دفاعی معاہدے سے فوری عسکری خطرہ درپیش نظر نہیں آتا، اور خود ایرانی ردعمل بھی محتاط ہے۔ تاہم اس معاہدے کی اصل اہمیت اس کے موجودہ حجم سے زیادہ اس کے مستقبل کے ممکنہ پھیلاؤ میں پوشیدہ ہے۔

اگر یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تک محدود رہتا ہے تو اسے تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے طور پر دیکھا جائے گا۔ لیکن اگر اس میں مزید ممالک شامل ہوتے ہیں، مشترکہ فوجی ڈھانچہ تشکیل پاتا ہے اور علاقائی سکیورٹی کے لیے مستقل نظام وجود میں آتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کا آغاز بن سکتا ہے۔

پاکستان کا تہران کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ اسی لیے انتہائی اہم ہے۔ اسلام آباد بیک وقت ریاض اور انقرہ کے ساتھ دفاعی تعاون مضبوط کرتے ہوئے تہران کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ مکہ معاہدہ کسی محاذ آرائی کا آغاز نہیں بلکہ علاقائی دفاعی تعاون کا ایک فریم ورک ہے۔

اصل امتحان آنے والے دنوں میں ہوگا کہ کیا یہ معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری تک محدود رہتا ہے یا واقعی ایک ایسے وسیع علاقائی سکیورٹی نظام کی بنیاد بنتا ہے جس میں مستقبل میں ایران سمیت دیگر ممالک کے لیے بھی جگہ نکل سکے۔ تاہم اہم سوال یہی ہے:کیا مکہ دفاعی معاہدہ خطے میں نئے محاذ کھولے گا، یا پاکستان کی سفارتی حکمت عملی اسے ایک وسیع تر علاقائی امن و سلامتی کے نظام میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرے گی؟

Back to top button