مودی نے جنرل عاصم منیر سے ممکنہ ملاقات سے بچنے کےلیے ٹرمپ کی دعوت مسترد کی : بلومبرگ

امریکی جریدے بلومبرگ نے انکشاف کیا ہےکہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ممکنہ ملاقات کے خدشے کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت کو مسترد کر دیا تھا۔
معروف امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق پاکستان اس وقت امریکی صدر ٹرمپ کی ترجیحات میں شامل ہے، جب کہ بھارت کو بڑھتےہوئے سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں اپنے پتے نہایت مہارت سے کھیلے ہیں، اور وہ ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ طےکیا۔
بلومبرگ کےمطابق پاکستان اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان روابط کا آغاز پاک-بھارت جنگ کے دوران ہوا۔پاکستان نے اس وقت ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا،جب کہ بھارت نے جنگ بندی کے کسی بھی کردار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
رپورٹ میں مزید کہاگیا ہےکہ پاکستان کے پاس ایسے اثاثے موجود ہیں جو امریکی مفادات کےلیے خاص اہمیت رکھتے ہیں،جن میں دنیا کےچند سب سے بڑے سونے اور تانبے کے غیر دریافت شدہ ذخائر بھی شامل ہیں۔
بلومبرگ نے دعویٰ کیاکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 17 جون کو امریکی صدر کی جانب سے عشائیے کی دعوت اس خدشے کے تحت ٹھکرا دی کہ کہیں اُن کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات نہ کرادی جائے۔
جریدے کے مطابق اسی دن دونوں رہنماؤں کے درمیان 45 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی،جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ اس کشیدہ گفتگو کےبعد ہی امریکا اور بھارت کے باہمی تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا۔
