محسن بیگ کے وکیل کا ریحام خان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ

عمران خان اور مراد سعید کے ایما پر گرفتار ہونے والے آن لائن نیوز ایجنسی کے مالک محسن بیگ کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ انصاف کا دہرا معیار اپناتے ہوئے ان کے موکل کو جس کتاب کا حوالہ دینے پر گرفتار کیا گیا ہے اس کی لکھاری ریحام خان کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی اس لیے نہیں کی جا رہی چونکہ وہ وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ہیں۔

دوسری جانب محسن بیگ نے پولیس حراست میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی ذلت کے دن شروع ہو چکے ہیں اور انشاء اللہ جس حوالات میں مجھے بند کیا گیا ہے بہت جلد وہاں عمران خان خود بند ہوں گے۔

18 فروری کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اپنے موکل کا دفاع کرتے ہوئے سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ پورے پاکستان میں یہ بات چل رہی ہے کہ وفاقی وزیر مراد سعید کو کس کارکردگی پر ایوارڈ ملا ہے؟ نیوز ون ٹی وی پر غریدہ فاروقی کا شو بھی اسی موضوع پر تھا اور محسن بیگ نے صرف اتنا کہا تھا کہ مراد سعید کو ملنے والے ایوارڈ کی وجہ شاید ریحام خان کی کتاب میں موجود ہے۔

انھوں نے محسن بیگ کے خلاف ایف آئی اے لاہور میں درج ہونے والی ایف آئی آر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مطابق انکے موکل نے کہا کہ ریحام خان کی کتاب میں پتہ نہیں کچھ لکھا ہے۔

لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ ’ہم روزانہ کتابوں کا حوالہ پیش کرتے ہیں۔ اگر ان کے موکل نے کسی کتاب کا حوالہ دیا ہے تو حوالہ دینے والے کو نہیں بلکہ کتاب لکھنے والی یعنی ریحام خان کو پکڑو۔‘ انھوں نے کہا کہ ریحام خان موجودہ وزیراعظم کی اہلیہ رہ چکی ہیں اور شاید اسی لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس پر اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج محمد علی ورائچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’اچھا فارمر فرسٹ لیڈی‘۔

حکومت کا حکومت پر عدم اعتماد

جج کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہہ گونج اٹھا۔ محسن بیگ کے وکیل کھوسہ نے کہا کہ الزام تو اصل میں وزیر اعظم عمران خان کی سابق بیوی نے لگایا ہے اب ان کے موکل محسن بیگ کو کیا معلوم کہ وہ الزام درست ہے یا غلط۔ انھوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنا مذاق خود بنا رہے ہیں۔

سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ درخواست گزار مراد سعید خود اپنی درخواست میں ریحام خان کی کتاب کا قابل۔اعتراض صفحہ بھی بتا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ دیگر پینیلسٹس نے بھی اس پر بات کی لیکن ’اس پروگرام میں شریک کسی دوسرے پینلسٹ کو تو گرفتار نہیں کیا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ ایف آئی اے کا وہ اہلکار کدھر ہے جو اس واقعہ میں زخمی ہوا ہ

ے۔ اس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ایف ائی اے کا سب انسپکٹر وسیم سکندر واقعہ میں زخمی ہوا تھا اور اس کا میڈیکل بھی کروایا گیا ہے۔ پراسیکوٹر نے ملزم کے وکیل کی بات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کی ٹیم جب محسن بیگ کو گرفتار کرنے کے لیے آئی تو انھوں نے ون فائیو پر پولیس کو اطلاع دیکر مدد مانگی تھی۔ انھوں نے کہا کہ محسن بیگ نے ایف آئی اے کے اہلکار پر فائرنگ کی جس سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔

اس موقع پر ملزم محسن بیگ نے عدالت کے جج کو بتایا کہ وہ انھیں اس واقعہ کے بارے میں کچھ حقائق بتانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے۔ جب انھیں گرفتار کیا گیا تو انہیں تھانہ مارگلہ کے ایس ایچ او کے کمرے میں لے جایا گیا جہاں ایس ایس پی بھی موجود تھے۔

انھوں نے کہا کہ ایس ایس پی کی موجودگی میں ایف آیی اے کے اہلکاروں نے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا کیونکہ وزیر اعظم عمران خان ایسا چاہتے تھے۔ تاہم عدالت نے مزید تین روزہ ریمانڈ دے کر محسن بیگ کو پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس حراست میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن بیگ نے کہا کہ عمران خان کی ذلت کے دن شروع ہو چکے ہیں اور جس حوالات میں آج مجھے بند کیا ہے انشاء اللہ اسی حوالات میں جلد عمران خان خود بھی بند ہوں گے۔

Back to top button