تحریکِ عدم اعتماد کے لیے اب تک ٹیمپو کیوں نہیں بن پایا؟

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے باوجود نہ تو اب تک حکومتی جماعت کے اندر کوئی گروپ بنا ہے اور نہ ہی کسی اتحادی جماعت نے حکومت کا ساتھ چھوڑا ہے لہذا اب تک اپوزیشن کی تحریک کا ٹیمپو بنتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ ملکی سیاست کی ڈوریاں ہلانے والی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بھی مکمل چپ سادھ رکھی ہے۔
دوسری جانب حکومت نے اپنے سیاسی اور صحافتی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں تیز کردی ہیں تاکہ خوف کی فضا قائم کی جا سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینٹ میں ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کی حکومتی بینچوں کے ہاتھوں شکست سے اپوزیشن کی جانب سے اپنی مجوزہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے دعوؤں کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے اور یہ تاثر مزید پختہ ہوا ہے کہ حزب اختلاف کی حکومت مخالف سٹریٹجی بے ربط اور غیر منظم ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد اپوزیشن جماعتوں کو اپنا ٹیمپو بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ایسی سرگرمیاں کرنی چاہیے تھیں جن سے حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوتا چلا جاتا۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہیں تو کم از کم حکومت کے ناراض اراکین پر مشتمل ایک فاروڈ بلاک تو ضرور سامنے آ جانا چاہیے تھا تاکہ عمران خان کے اتحادی حکومتی بینچوں سے دوری اختیار کرنے کے بارے سوچنا تو شروع کرتے۔
یاد رہے کہ کپتان کی چاروں اتحادی جماعتیں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلتی ہیں اور انہیں بھی ابھی تک ایسا کوئی واضح اشارہ نہیں ملا کہ اگر اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاتی ہے تو انہیں کپتان کا ساتھ چھوڑنا یو گا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ قاف لیگ سے لیکر ایم کیو ایم تک تمام اتحادی جماعتیں اپنی آپشنز کھلا رکھنے کی باتیں کر رہی ہیں جس کا بنیادی مقصد شاید اقتدار میں اپنا حصہ بڑھوانا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران حکومت کی فراغت کے لیے حزب اختلاف پوری تیاری کے ساتھ سامنے آنا چاہتی ہے اور اسی لیے اپنے پتے چھپا کر رکھ رہے ہیں تاکہ تحریک عدم اعتماد کو یقینی طور پر کامیاب بنایا جا سکے۔ اپوزیشن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومتی جماعت کے اندر ایک کپتان مخالف گروپ کے قیام کا اعلان اب چند دنوں کی بات ہے جس کے بعد حکومت کے اتحادی بھی ابھی اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے اور یہی وہ وقت ہوگا جب تحریک عدم اعتماد پیش کر دی جائے گی۔
پاکستان میں گذشتہ دو ہفتوں سے سیاسی ملاقاتوں کا دور جاری ہے اور سیاست پر غیر یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ 11 فروری کو لاہور میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی سے استعفے دینے کے معاملے پر پی ڈی ایم میں موجود جماعتوں میں اختلافات سامنے آنے کے بعد مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے رہے ہیں۔ اس اجلاس کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان جلد ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اسی روز مولانا فضل الرحمان حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے گھر چوہدری برادارن سے ملاقات کے لیے پہنچے اور انہوں نے تحریک عدم اعتماد کے لیے تعاون مانگا جبکہ شہباز شریف سے چوہدری برادران سے ملاقات کی راہ بھی ہموار کی۔
اگلے ہی روز 12 فروری کو شہباز شریف مسلم لیگ ن کے وفد کے ہمراہ لاہور میں چوہدری برادران کی رہائش گاہ پہنچے جہاں انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ چوہدری پرویز الٰہی سے ملکی سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران مولانا فضل الرحمن کی جہانگیر ترین کے ساتھ ملاقات کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
ملک میں دو ہفتوں سے جاری پے درپے سیاسی ملاقاتوں اور رابطوں سے چھائی غیر یقینی صورت حال میں کچھ کمی مونس الٰہی کے اس بیان سے ضرور ہوئی جب انہوں نے 14 فروری کو ایک تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان کو تحریک انصاف کے لوگوں کو نہ گھبرانے کا پیغام دینے کو کہا۔ مسلم لیگ ق کے رکن اور وفاقی وزیر مونس الٰہی کی اس یقین دہانی کے بعد حکومتی صفوں میں کچھ اعتماد بحال ہوا ہی تھا تو ایک روز بعد جہانگیر ترین گروپ کے ارکان کے لاہور میں عون چوہدری کی رہائش گاہ پر اجلاس نے ایک بار پھر صورت حال غیر واضح کر دی۔
اس اجلاس کے فوراً بعد مسلم لیگ ق نے بھی اسلام آباد میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا اور حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ سیاسی صورت حال پر فیصلوں کا اختیار سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو دے دیا۔ اسی دوران ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر عامر خان نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں واضح کیا کہ اگر حکومت کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو وہ بھی فیصلہ کریں گے جو دیگر اتحادی جماعتیں کریں گی۔
عامر لیاقت نے عامیانہ پن کی تمام حدیں کیسے پار کیں؟
لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جہانگیر ترین گروپ کیا سوچ رہا ہے۔ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اس وقت پیپلز پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے جارہے ہیں اور موجودہ سیاسی صورت حال سے متعلق مشاورت کی جارہی ہے۔ تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور تمام ارکان نے فیصلوں کا اختیار جہانگیر ترین کو دیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت تک تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے، جب تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے کوئی عملی اقدام اپوزیشن کی جانب سے اٹھایا جائے گا تو تحریک انصاف کی قیادت رابطہ کرے گی اور اس کے بعد ہی کوئی حکمت عملی طے کی جائے گی، اس وقت کوئی بھی چیز حتمی نہیں۔‘ ذرائع کا دعوی یے کہ جہانگیر ترین اور آصف علی زرداری کے درمیان رابطے ماضی میں بھی رہے ہیں اور اس وقت بھی دونوں رابطے میں ہیں۔‘
’تاہم حالیہ دنوں میں مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی جہانگیر ترین سے رابطہ کیا گیا ہے اور عدم اعتماد کے حوالے سے تعاون مانگا ہے تاہم اس وقت جہانگیر ترین اور پرویز الٰہی بھی اسٹیبلشمنٹ کے پیغام کا انتظار کررہے ہیں کیونکہ ان دونوں کو مسلم لیگ ن کے وعدوں پر اعتماد نہیں ہے اور اگر ان کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے یقین دہانی کروائی جاتی ہے تو پھر کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔ یعنی اس وقت عمران کی تمام اتحادی جماعتیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سگنل کا انتظار کررہی ہیں۔
سینیئر صحافی سہیل وڑائچ موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس وقت جہانگیر ترین کے پاس اپوزیشن کی حمایت کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں ہے اور عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کا ساتھ دیں گے جبکہ دیگر اتحادی جماعتیں اس وقت سوچ بچار کر رہی ہیں اور تحریک انصاف کے اندر سے اگر کوئی بڑا گروپ تعاون کرے گا تو اس کے بعد ہی وہ کسی فیصلے پر پہنچ سکتے ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق اس وقت اپوزیشن جماعتیں عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے بظاہر سنجیدہ نظر آرہی ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عدم اعتماد بہت مشکل سے کامیاب ہوتی ہے، اگر تحریک انصاف کے اندر سے 20، 25 ارکان کا گروپ سامنے آجائے تو ہی کامیاب ہوگی۔‘ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ابھی تک غیر جانبدار ہی نظر آرہی ہے اور اس کی غیر جانبداری کا فائدہ اس وقت حکومت کو ہوگا۔
ایک اور سوال پر سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اس وقت پنجاب میں انتخابات جیتنی کی پوزیشن میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ن لیگ چاہتی ہے کہ اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کروائے جائیں لیکن مسلم لیگ ق اور جہانگیر ترین گروپ نئے الیکشن کے حامی نہیں ہیں۔
وہ ان ہاؤس تبدیلی کے حق میں ضرور ہیں لیکن مسلم لیگ ن کی یقین دہانی پر اعتبار نہیں کیونکہ ایک دفعہ عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو پارلیمنٹ میں مسلم لیگ ن دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے تو وہ اسمبلی تڑوا دیں گے اور گیم چوہدریوں کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔
سہیل وڑائچ کے مطابق آصف علی زرداری اور نواز شریف تحریک عدم اعتماد کے لیے سنجیدہ تو ہیں لیکن ابھی تک عدم اعتماد کی تحریک لانے کی حکمت عملی میں کافی کمزوریاں نظر آرہی ہیں جنہیں دور کیے بغیر عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
