مون سون کی تباہ کاریاں جاری؛ پنجاب و کے پی میں بارشوں سے سیلاب الرٹ

مون سون کے ساتویں اسپیل کے زیر اثر پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس سے مختلف علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران خیبر پختونخوا کے اضلاع چترال، دیر اور چارسدہ، اور آزاد کشمیر کے علاقوں نیلم، پونچھ اور باغ میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
پنجاب میں صورتحال
ملتان، جھنگ، کبیر والا اور چکوال سمیت کئی شہروں میں بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا ہے، تاہم چکوال میں موسلا دھار بارش کے باعث متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے جبکہ کلرکہار کے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو ندی نالوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
خانیوال، کوٹ ادو، سرگودھا اور وہاڑی میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
خیبر پختونخوا میں شدید صورتحال
سیلاب سے حال ہی میں متاثر ہونے والے ضلع بونیر میں بارشوں کا نیا سلسلہ ریلیف سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ پشاور کے علاقوں کوہاٹ روڈ، گل آباد، نوتھیا، چارسدہ روڈ، پھندوں، زریاب کالونی، گلبرگ اور فقیر آباد نمبر 2 میں گھروں میں پانی داخل ہو گیا۔
مردان میں بھی کئی علاقے زیرِ آب آ گئے، جہاں نکاسی آب نہ ہونے کے باعث سڑکیں اور دکانیں پانی میں ڈوب گئیں۔
آزاد کشمیر میں بارشوں کا تسلسل
وادی نیلم، جاگراں ویلی، اپر نیلم، لوات بالا، شاردہ، اڑنگ کیل، گریس اور شونٹر ویلیز میں وقفے وقفے سے بارش جاری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کی بحالی کا کام جاری ہے، اور نیلم تا تاوبٹ مرکزی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
سندھ میں شدید بارش
ضلع تھرپارکر کی تحصیل ڈیپلو میں 112 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے شہر کے کئی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ اللہ ولا چوک، بدین اسٹاپ اور تعلقہ اسپتال روڈ پر پانی جمع ہے۔ چیئرمین میونسپل کمیٹی کے مطابق نکاسی آب کے لیے پمپنگ مشینیں کام کر رہی ہیں۔
مزید بارشیں متوقع
محکمہ موسمیات کے مطابق ستمبر کے پہلے 10 دنوں تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور ہنگامی اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔
