تحریک لبیک کی 200 سے زیادہ مساجد محکمہ اوقاف کے حوالے

وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس کے زیر انتظام پنجاب بھر میں 200 سے زائد مساجد کو محکمہ اوقاف کے کنٹرول میں دے دیا ہے۔ اسکے علاوہ پارٹی کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کر کے اس کی فنڈنگ روک دی گئی ہے، جب کہ 3800 ایسے بینک اکاؤنٹس کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے جہاں سے ٹی ایل پی مالی امداد لیتی تھی۔
ترجمان محکمہ اوقاف پنجاب نے بتایا ہے کہ تحریک لبیک کے نام سے مساجد یا مدارس کی رجسٹریشن تو موجود نہیں، البتہ 200 ایسی مساجد موجود ہیں جو کہ ٹی ایل پی کے رہنما اپنی مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان میں لاہور میں واقع مسجد رحمت الالعالمین بھی شامل ہے جسے تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی بطور اپنا مرکز استعمال کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کے حالیہ مریدکے دھرنے سے پہلے مسجد رحمت اللعالمین کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مورچہ بند کاروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ چنانچہ ملک بھر میں موجود وہ تمام مساجد جنہیں تحریک لبیک اپنا انتہا پسند ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی تھی، انہیں حکومتی تحویل میں لے لیا گیا ہے اور انکا انتظام محکمہ اوقاف کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں مساجد وقتی طور پر ضلعی انتظامیہ کے کنٹرول میں دے دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے تحریک لبیک کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم جماعت قرار دے دیا ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔ تنظیم پر پابندی کی ایک وجہ 2021 میں عائد پابندی اٹھاتے وقت پارٹی قیادت کی جانب سے فیصلہ سازوں کو دی گئی ضمانتوں سے روگردانی ہے۔مریدکے میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد ملک بھر میں ٹی ایل پی کے مرکز سمیت ان تمام مساجد کو محکمہ اوقاف اور ضلعی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا جن میں تنظیمی سرگرمیاں ہوتی تھیں۔
ٹی ایل پی کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی اور ان کے چھوٹے بھائی انس حسین رضوی 13 اکتوبر کو سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد سے روپوش ہیں۔ دونوں بھائیوں کے خلاف ایک پولیس والے کے قتل کا کیس درج ہو چکا ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے ملک بھر میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔پنجاب بھر میں درج 72 کیسز میں ان دونوں مفرور بھائیوں کے خلاف اقدام قتل اور دہشت گردی کی سنگین دفعات شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مریدکے دھرنے کے بعد سے اب تک پانچ ہزار کے قریب ٹی ایل پی کارکن حراست میں لیے جا چکے ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کریک ڈاؤن ابھی جاری ہے۔ جماعت کی مرکزی مجلس شوری سمیت اہم رہنما اور عہدے دار بھی منظر سے غائب ہیں۔ یاد رہے کہ ’ٹی ایل پی کا قیام 2011 میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ان کے محافظ پولیس اہلکار ممتاز قادری کی رہائی کے مطالبے سے شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں چند مذہبی رہنماؤں نے مل کر تحریک لبیک یارسول اللہ کے پلیٹ فارم سے ممتاز قادری کی رہائی کے لیے جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا۔
لیکن جب ممتاز قادری کو 2016 میں پھانسی دے دی گئی تو یہ تحریک مزید زور پکڑ گئی۔ بعد ازاں تحریک لبیک یارسول اللہ کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی میں اراکین کے حلف ناموں میں تبدیلی اور توہین مذہب کے الزام میں گرفتار آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ سے رہائی کے خلاف اس پلیٹ فارم سے فیض آباد میں دھرنا دیا گیا۔
تب نون لیگ کی حکومت کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ تحریک لبیک کے احتجاج اور دھرنوں کے پیچھے فیض حمید ہے۔ یہی وہ موقع تھا جب ٹی ایل پی ناموس رسالت کے نام پر گلی محلوں تک پھیل گئی۔
ابتدا میں پیر افضل قادری، آصف جلالی اور خادم رضوی نے اس جماعت کی قیادت سنبھالی لیکن جب فیض آباد کا دھرنا ختم کرانے کا مرحلہ آیا تو ان تینوں میں سے سخت ترین موقف رکھنے کی وجہ سے خادم حسین رضوی زیادہ نمایاں ہو گئے۔ بعد میں ان تینوں رہنماؤں میں اختلافات پیدا ہو گئے جس کے بعد پارٹی کی مجلس شوری نے خادم رضوی کے سپرد کر دی۔
سال 2020 میں خادم رضوی کے کرونا کے باعث انتقال کے بعد ٹی ایل پی کا سربراہ ان کے بڑے صاحب زادے سعد حسین رضوی کو بنا دیا گیا۔ ٹی ایل پی نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو 2016 میں الیکشن کمیشن میں اسے تحریک لبیک پاکستان کے نام سے رجسٹرڈ کروایا گیا۔ ادھر آصف جلالی نے تحریک لبیک اسلام کے نام سے الگ جماعت بنا لی جس کو متحمل مزاج ہونے کی وجہ سے زیادہ پذیرائی نہ مل سکی۔ ٹی ایل پی نے 2017 میں لاہور سے نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی نشست پر پہلی بار امیدوار کھڑا کر کے ساڑھے سات ہزار ووٹ لیے۔
ٹی ایل پی کی مجلس شوری نے 2018 کے انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلی کی سینکڑوں نشتوں پر اپنے امیدوار میدان میں اتارے۔ انتخابی نشان کرین پر ملک بھر میں کئی حلقوں میں ٹی ایل پی کے امیدوار دوسرے یا تیسرے نمبر پر رہے۔ کراچی سے ٹی ایل پی کو دو صوبائی اور ایک مخصوص نشست ملی۔ اسی طرح فروری 2024 کے عام انتخابات میں حصہ لے کر تحریک لبیک نے 22 لاکھ ووٹ حاصل کیے اور ملک کی پانچویں بڑی جماعت بن گئی۔ لیکن یہ جماعت صرف ناروال سے پنجاب اسمبلی کی صرف ایک ہی نشست جیت سکی۔ اکتعبر 2022 میں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں جب ٹی ایل پی نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تو چھ پولیس والے مارے گئے جس کے بعد اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔ تاہم احتجاجی مظاہروں کے بعد ٹی ایل پی کی قیادت سے تحریری یقین دہانیاں کر کے پابندی ختم کر دی گئی تھی۔ اس مرتبہ تحریک لبیک پر پابندی کے فیصلے کا کیا مستقل ہو گا یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو گا۔
