فلسطین کی مسلم سرزمین پر صیہونی اسرائیل کا بیج کس نے بویا؟

مشرق وسطیٰ کے سینے میں پیوست اسرائیل نامی خنجر نے پورے خطے کا امن برباد کررکھا ہے، یہ خنجر انہی لوگوں نے پیوست کیا تھا جنہوں نے کشمیر کو بھارت کے سپرد کرکے پھر اسے متنازع علاقہ بناکر جنوبی ایشیا کے امن کو مستقل گرہن لگایا ،سرزمین فلسطین پر اسرائیل کا بیج برطانیہ نے بویا، روزنامہ جنگ میں شائع ایک تحریر میں بتایا گیا ھے کہ پہلی جنگ عظیم سے پہلے فلسطین خلافت عثمانیہ کے زیر تسلط تھا، پہلی جنگ عظیم کے بعد فلسطین کا علاقہ برطانیہ کے قبضے میں آگیا برطانوی راج میں یہودی سرزمین فلسطین پر آباد ہونا شروع ہوئے،دوسری جنگ عظیم کے بعد اسرائیل کو بطور ملک سرزمین فلسطین پر بنانے کا کام شروع ہوا،اس مقصد کیلئے اقوام متحدہ کو استعمال گیا،واضح رہے کہ بڑی طاقتوں نےیہ ادارہ اپنی من مانیوں کیلئے بنایا تھا،من پسندی کی انتہا پر اقوام متحدہ نے یہ فیصلہ کیا کہ سرزمین فلسطین پر دو ملک بنیں گے،ایک یہودی ریاست اسرائیل ہوگی اور دوسرا ملک عرب فلسطین ہوگاجبکہ یروشلم ایک بین الاقوامی شہر ہوگامگر جونہی 14مئی 1948کو اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا،اس سے اگلے ہی دن مصر، اردن،شام اور عراق نے اسرائیل پر حملہ کردیا،اس کے نتیجے میں جہاں فلسطینی ریاست بننا تھی وہاں کے بہت سے علاقے پر اور ممالک قابض ہوگئے،اس مرحلے پر سات لاکھ فلسطینیوں کو وطن چھوڑنا پڑا۔ 1967کی عرب اسرائیل جنگ میں عرب اتحاد کو شکست ہوئی ،اسرائیل نے مصر سے غزہ کی پٹی ،شام سے گولان اور اردن سے مشرقی یروشلم سمیت غرب اردن بھی چھین لیا،مصر کو سینائی سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ 1973میں مصر اور شام نے اپنے علاقے چھڑوانے کیلئے حملہ کیا جسے یوم کپور جنگ کہا جاتا ہے ، اس میں گولڈا مئیر کامیاب رہی ،چھ سال بعد ایک معاہدے کے تحت مصر کو صرف سینائی کا علاقہ واپس کیا گیا،اس کے بعد اردن نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرکے معاہدہ کرلیا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا فلسطین کے علاقے کم ہوتے گئے اور مسلمان ممالک اسرائیل کو تسلیم کرتے گئے ،
چند برس قبل جب یو اے ای سمیت کچھ اورعرب ملکوں نے اسرائیل کو تسلیم کیا تو پاکستان پر بھی ایسا ہی کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا مگر ہر سویلین پاکستانی حکمران نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار ہی کیا ۔ آج فلسطینیوں کے پاس صرف دو علاقے ہیں ، ایک غزہ کی پٹی اور دوسرامغربی کنارا،انہیں یہاں بھی چین سے نہیں رہنے دیا جاتا،اب حماس کی جانب سے اسرائیل پر فضائی، سمندری اور زمینی حملوں کے باعث سب کے ہوش ٹھکانے آنے لگے ہیں۔ ہفتے کی صبح قریباً ساڑھے چھ بجے حماس نے اسرائیل پر فضائی، سمندری اور زمینی اطراف سے پانچ ہزار کے قریب راکٹ فائر کیےاور حماس کے جنگجوئوں نے شہری آبادی کے متعدد مراکز کا کنٹرول سنبھال لیا ’’آپریشن الاقصیٰ فلڈ‘‘ کے تحت فلسطینی مجاہدین کی بڑی تعداد غزہ کی سرحد پر موجود باڑ ہٹاتے ہوئے زمینی راستے سے اسرائیل کے شہر اشکلون سمیت جنوبی شہروں میں داخل ہوئی جبکہ سمندری راستے اور پیرا گلائیڈرز کی مدد سے بھی حماس نے حملہ کیا۔حماس کے ترجمان خالد قدومی نے کہا ہے کہ’’دہائیوں پر مشتمل اسرائیلی مظالم کے خلاف ہم نے فوجی کارروائی کی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف، ہمارے مقدس مقامات جیسے الاقصیٰ پر ہونے والے مظالم بند کروائے اور یہی مظالم اس جنگ کو شروع کرنے کی وجہ ہیں۔ یہ زمین پر آخری قبضے کو ختم کرنے کی سب سے بڑی جنگ کا دن ہے۔‘‘حالیہ دنوں میں اسرائیلی انٹیلی جنس ناکام ہو گئی ہے، اس ناکامی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی ایجنسیوں کے مخبر ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ انہی مخبروں کو استعمال کرتے ہوئے ماضی میں اسرائیل نے کئی فلسطینی رہنماؤں کو شہید کیا۔ حالیہ ناکامی پر اسرائیل بہت پریشان ہے،اس وقت اسرائیل کی ترجیحات میں اہم ترین کام سرحدی علاقوں میں اُن رہائشی مقامات سے عسکریت پسندوں کا کنٹرول چھڑوانا ہے جن پر حماس کا قبضہ ہے۔ ممکن ہے کہ اپنے یرغمال شہریوں کی آزادی کیلئے اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑے۔ اس کے علاوہ، اسرائیل اُن مقامات کو تباہ کرنے کی کوشش بھی کرے گا جہاں سے اسرائیل پر راکٹ داغے جا رہے ہیں۔تاہم اس میں شاید اسرائیل کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے کیونکہ حماس کے مسلح افراد کسی ایک خاص مقام سے راکٹ فائر نہیں کر رہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر حماس نے مدد کیلئے آواز دی تو اسرائیل اسے کیسے روکے گا کیونکہ لبنان کیساتھ اس کی شمالی سرحد پر حزب اللہ کے جنگجو بھی اس لڑائی میں کود پڑے ہیں۔ جنگ پھیلی تو پھر اور طاقتیں بھی آجائیں گی،مغربی ممالک تو اسرائیل کی پشت پر آن کھڑے ہوئے ہیں جبکہ امت مسلمہ کے اکثر ممالک محوخواب ہیں ۔
