کیا نواز لیگ اب مارچ کی بجائے فروری میں لانگ مارچ کرے گی؟

اپوزیشن حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں زوروں پر ہیں کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے فروری میں لانگ مارچ کرنے کے اعلان کے بعد شائد اب پی ڈی ایم بھی اپنے 23 مارچ کو لانگ مارچ شروع کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے فروری میں ہی سڑکوں پر نکل آئے۔

یاد رہے کہ ایک برس پہلے پیپلزپارٹی اسمبلیوں سے استعفے نہ دینے اور فوری لانگ مارچ نہ کرنے کا۔موقف اپناتے ہوئے پی ڈی ایم سے علیحدہ ہوگئی تھی۔ تاہم دوسری جانب پی ڈی ایم بھی پچھلے ایک برس میں نہ تو لانگ مارچ کر سکی اور نہ ہی ہی اسمبلیوں سے استعفے دینے کے فیصلے پر عملدرآمد کر سکی جس کی وجہ سے اسے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ حال ہی میں پی ڈی ایم نے 23 مارچ کو اسلام آباد کی جانب حکومت مخالف لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تو پیپلز پارٹی نے اس سے بھی ایک ماہ پہلے 23 فروری کو لانگ مارچ کا اعلان کر دیا جس سے نواز لیگ مشکل میں پھنس گئی ہے۔ چنانچی اس امکان کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ شاید اب پی ڈی ایم قیادت پیپلز پارٹی کو دوبارہ اپوزیشن اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کرے تاکہ حکومت مخالف لانگ مارچ مشترکہ طور پر شروع کیا جا سکے۔

دوسری جانب سابق صدر آصف زرداری نے پی ڈی ایم میں دوبارہ شمولیت کے امکانات کو مسترد کردیا ہے جس سے سیاسی صورتحال مزید گھمبیر ہو گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ لانگ مارچ کے معاملے میں پی ڈی ایم بالخصوص ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام ف نے پیپلز پارٹی کو اتحاد سے نکلنے پر مجبور کیا تھا لیکن بعد ازاں پی ڈی ایم نے بھی لانگ مارچ سے یوٹرن لے لیا تھا۔ اب جبکہ پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم سے پہلے فروری میں کراچی تا اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کرکے ترپ پتہ کھیل دیا ہے تو پی ڈی ایم بھی چاہتی ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ دوبارہ ہاتھ ملا کر 23 مارچ کے مجوزہ مارچ کی بجائے 27 فروری کو ہی مشترکہ لانگ مارچ کیا جائے۔

تاہم ن لیگ اور جے یو آئی ف کی اس خواہش کے جواب میں آصف زرداری نے پی ڈی ایم میں واپسی کے امکانات کو مسترد کرکے صورت حال گھمبیر بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں آصف زرداری لیگی قیادت اور مولانا فضل الرحمان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ بعض دیفر تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ شاید زرداری مستقبل کے منظر نامے میں پیپلز پارٹی کے لئے اچھی ڈیل حاصل کرنے کی غرض سے ن لیگ اور مولانا سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ آصف زرداری نے پی ڈی ایم کا دوبارہ حصہ بننے کے امکان کو مسترد کرنے کے ساتھ یہ کہہ کر کہ پی ڈی ایم کے پچھلے بے نتیجہ مارچ کی اہمیت کو بھی رد کر دیا کہ ’’مولانا فضل الرحمان ماضی میں بھی اس طرح کے مارچ کرتے رہے ہیں‘‘۔ لیکن زرداری نے اپنی گفتگو میں تحریک عدم اعتماد سے عمران خان حکومت کو گھر بھجوانے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا لیکن ایسا کرنے کے لئے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کا اکٹھے ہونا ضروری ہے۔

سابق صدر کے اس موقف کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہائوس میں قیاس آرائیاں اور تبصرے بھی ہو رہے جن میں تجسس کے ساتھ زرداری کا موقف نہ صرف زیر بحث ہے بلکہ اسے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تنہائی سے بھی تعبیر کیا جا رہا یے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر جو سرگرمیاں رابطے اور ملاقاتیں ازسرنو تیزی سے شروع ہوئے ہیں ان میں قومی اسمبلی کے ایوان میں نمایاں اکثریت رکھنے والی اپوزیشن کی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہی معاملات پر زیادہ مشاورت ہو رہی ہے اور بلاول بھٹو اور شہباز شریف اعلانیہ اور غیر اعلانیہ رابطوں میں مصروف ہیں۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں مشترکہ اپوزیشن کی جانب سے عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے حوالے سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی اشتراک عمل کرسکتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے بھی کہا ہے کہ پارلیمان میں سپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جاسکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کا فیصلہ کرے گی تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے ایک اور رہنما خواجہ آصف نے بھی ایک ٹی وی ٹاک شو میں کہا کہ ‘یہ بہتر ہو گا کہ ہم پیپلز پارٹی کے 27 فروری کو اعلان کردہ لانگ مارچ میں مل کر شامل۔ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ پی ڈی ایم کے پیلٹ فارم سے 27 فروری کے لانگ مارچ کا حصہ بننے کا فیصلہ ہو جائے۔ اس بارے احسن اقبال نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کا ہمیں بھی فائدہ ہو گا، حکومت کے خلاف جتنے احتجاج ہوں گے حکومت اتنی ہی کمزور ہو گی۔

اس معاملے پر پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ پارٹی چیرمین بلاول بھٹو کا یہ پرانا اور واضح موقف ہے کہ ہمیں حکومت کو نکالنے کے لیے پارلیمانی آپشنز کو استعمال کرنا چاہیے۔خصوصاً ایک ایسے وقت میں کہ جب ملک میں مہنگائی عروج پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تب پیپلز پارٹی کی تجویز رد کر دی گئی اور نواز لیگ اور مولانا کی جانب سے اس پر استعفوں کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ مصطفیٰ نواز کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ایک سال میں استعفے نہ دے۔کر پی ڈی ایم نے بلاول بھٹو کے موقف کی تائید کی ہے۔ جب پوچھا گیا کہ کیا پیپلز پارٹی قومی اسمبلی یا سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد لانے پر غور کر سکتی ہے، تو مصطفی نے کہا کہ ‘جی بالکل قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پنجاب میں بھی تحریک عدم اعتماد لائی جا سکتی ہے۔

وزیر اعظم کیISI ہیڈ کوارٹر میں نئے ڈی جی سے ملاقات

ان کا کہنا تھا کہ اگر نمبر گیم کی بات کریں تو سینیٹ میں حکومت کو عددی اکثریت حاصل ہے لیکن قومی اسمبلی اور پنجاب میں حکومت کے پاس بہت معمولی اکثریت ہے اور ماضی میں ہم نے یوسف رضا گیلانی کے موقع پر ثابت بھی کیا. پارلیمان سے باہر سڑکوں پر مشترکہ لانگ مارچ اور تحریک پر مصطفیٰ نواز کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں سب سے پہلے تو اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے اور اگر ان جماعتوں میں اتفاق پیدا ہو جاتا ہے تو اس کے بعد اس کے امکانات کھلے ہیں۔

اس معاملے پر مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے پہلے ہی 23 مارچ کے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے لیکن اگر اس سے پہلے دیگر جماعتیں بھی پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں شریک ہونے کا اعلان کرتی ہیں تو ہم بھی اس پر غور کر سکتے ہیں۔ لیکن اسکا فیصلہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہو گا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار مجیب الرحمان شامی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کے راستے جدا ہو چکے تھے لیکن کچھ عرصے سے دونوں کے درمیان رابطے بڑھتے اور فاصلے کم ہوتے دکھائی دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں میں تعاون جاری ہے اور اب کوشش ہو رہی ہے کہ پارلیمان سے باہر بھی کوئی اتفاق رائے ہو جائے۔ پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد یا ان ہاؤس تبدیلی کے بارے میں تجز یہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک تحریک عدم اعتماد کا تعلق ہے تو میں اس کی کامیابی کا امکان نہیں دیکھ رہا کیونکہ ابھی تک حکومت کے کسی اتحادی نے بغاوت نہیں کی۔ تقہم شامی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی اپنی صفوں میں کچھ دراڑیں پڑتی دکھائی دیتی ہیں، ایسے میں اگر پی ٹی آئی کے کچھ لوگ ناراض ہو گے تو اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت بھی ممکن ہے۔

Back to top button