نواز شریف کی تاحیات نااہلی ختم کروانے پر کام شروع

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کسی بھی منتخب رکن اسمبلی کی عدالت کے ہاتھوں تاحیات نااہلی کے خلاف پٹیشن دائر کرکے وزیر اعظم عمران خان کے اس خدشے کو درست ثابت کر دیا ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی ختم کروانے اور انہیں چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ تاہم دوسری جانب قانونی حلقے پر امید ہیں کہ سپریم کورٹ تاحیات نااہلی کے معاملے میں مثبت فیصلہ دے گی اور نواز شریف کو بھی ریلیف مل جائے گی کیونکہ کسی بھی پارلیمانی رہنما کی عدالت کے ہاتھوں تاحیات نااہلی آئین و قانون کے خلاف ہے اور یہ اختیار صرف الیکشن کمیشن پاکستان کے پاس ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کردہ پٹیشن میں موقف اپنایا گیا ہے کہ کسی امیدوار کو تاحیات نااہل قرار دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اپنے اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا حالانکہ کسی رکن اسمبلی کو نااہل قرار دینا صرف الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔ پٹیشن کے مطابق سپریم کورٹ بلدیاتی انتخابات میں قرار دے چکی ہے کہ منتخب نمائندگان کو عوام سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ غلطی کرنے والوں کو نظرثانی اور معافی کا حق نہ دینا اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ سپریم کورٹ بار کی پٹیشث میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان کے مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 14 اپریل 2018ء کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس کا فیصلہ سنا دیا، جس کے تحت آئین کی اس شق کے ذریعے نااہل قرار دیے گئے ارکانِ پارلیمنٹ تاحیات نااہل ہوں گے۔ یاد رہے کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے کے بعد اس بحث کا آغاز ہوا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے ارکان اسمبلی کی نااہلی کی مدت کتنی ہوگی، جس کے بعد اس مدت کا تعین کرنے کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ آئین کی اس شق کے ذریعے نااہل قرار دیے گئے ارکانِ پارلیمنٹ تاحیات نااہل ہوں گے۔

آئی ایس آئی کی غیر جانبداری عمران خان کیلئے بُری خبر

تب کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے لیے 13 درخواستوں کی سماعت کے بعد 14 فروری 2018 محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت میں جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے شخص کی نااہلی کی مدت تاحیات ہوگی اور وہ شخص عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف اسلامی اقدار کے مطابق ہے اور اس کی یہی ممکنہ تشریح بنتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی اپنی حثیت ہے، جس کا مقصد پارلیمان میں دیانتدار، راست گو اور شفاف اراکین منتخب ہوں۔ اس فیصلے کے تحت نواز شریف اور جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت کو تاحیات قرار دیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل کے تحت اراکین کا صادق اور آمین ہونا ضروری ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوگی اور جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ رہے گا نااہلیت بھی رہے گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق مسلم اور غیر مسلم دونوں پر ہوگا اور جب تک عدالتی ڈیکلیریشن موجود رہے گی، 62 ون ایف کے تحت نااہلی ہمیشہ برقرار رہے گی۔

سپریم کورٹ کے اس متنازع فیصلے کے چار سال بعد اب 11 جنوری کو 2022 نواز شریف کی تاحیات نا اہلی ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کے ذریعے دائر اس درخواست میں وفاق کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ تاحیات نااہلی کے اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جائے، آرٹیکل 184 اور آرٹیکل 99 کی تشریح کی استدعا کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ از خود نوٹس اور سپریم کورٹ کے خصوصی اختیارات سے متعلق مقدمات میں اپیل کا حق دیا جائے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کسی امیدوار کو تاحیات نااہل قرار دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ بلدیاتی انتخابات میں قرار دے چکی کہ منتخب نمائندگان کو عوام سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔ سپریم کورٹ بار کی درخواست موقف اختیار کیا گیا ہے کہ غلطی کرنے والوں کو نظرثانی اور معافی کا حق نہ دینا اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے، درخواست میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور عمران خان کے مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ وکلاء کمیونٹی پر امید ہے کہ تاحیات نااہلی قانون ختم ہو جائے گا اور نواز شریف پارلیمانی سیاست میں حصہ لے سکیں گے اور چوتھی مرتبہ وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں۔

Back to top button