نواز شریف کا ’کبوتر ‘پھر ظلم کے شاہین کا شکار بنے گا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ھے کہ نواز شریف امن کی فاختہ پہلے بھی کندھے پر بٹھا کر پھرتے رہے ہیں لیکن ظلم کا شاہین ہمیشہ اس فاختہ کو شکار کرتا رہا ۔ اب نواز شریف کو اس بات پر غور نہیں کرنا کہ وہ چوتھی دفعہ وزیر اعظم بنیں گے یا نہیں بلکہ یہ سوچنا ہے کہ دوہزار اٹھائیس میں مینار پاکستان کا اقبال پارک کون بھرے گا اور اس وقت کبوتر کس کے ہاتھ پر بیٹھے گا؟ اپنے ایک کالم میں عمار مسعود لکھتے ہیں کہ نواز شریف وطن واپس آئے، کامیاب جلسہ کیا، مریم نواز سرخرو ہوئیں،اور شہباز شریف تکون کا حصہ بنے۔ منظر ایسا تھا کہ بعض پر رقت طاری ہوئی اور بعض نے مگر مچھ کے آنسو بہائے۔ جلسہ گاہ سے باہر بھی بے شمار لوگ تھے جو نواز شریف کے دیدار اور بریانی کے ذائقے سے محروم رہے۔
فضا میں کبوتر، ڈرون اور غبارے چھوڑے گئے۔ نئے نغمات جن میں مرکزی کردار نواز شریف کا تھا وہ ریلیز کیے گئے۔ نواز نے اپنی تقریر میں خود پر ڈھائے جانے والے مظالم کا تذکرہ بارہا کیا۔ نہایت سادگی سے عوام سے بار بار پوچھا کہ وہ کون ہے جو نواز شریف کو اپنے عوام سے جدا کر دیتا ہے۔ جیسے وہ خود اور عوام جانتے ہی نہیں کہ ان کارہائے نمایاں کا سہرا کس کے سر سجتا ہے۔ جانتے سب ہیں ، مانتے سب ہیں بس ذرا پریس کانفرنسز میں آبدیدہ لوگ دیکھ کر دل ڈرے ہوئے ہیں۔ ورنہ کون قوم کے مرد ان مجاہد سے واقف نہیں۔
عمار مسعود کا کہنا ھے کہ نواز شریف نے خطاب میں حد درجہ احتیاظ برتی۔ نہ کسی پر الزام لگایا نہ دشنام کی نوبت آئی۔ نہ جنرل باجوہ کا ذکر چھیڑا نہ فیض حمید کو یاد کیا۔ نہ ووٹ کی عزت کا مطالبہ کیا نہ آئین وغیرہ کا کوئی خاص ذکر کیا۔ حتیٰ کہ پارلیمان کی بالادستی اور جمہوریت کے خصائص گنوانے سے بھی احتیاطاً اجتناب کیا۔ عمران خان کے سہولت کاروں کا کیا نام لینا تھا عمران خان کا نام بھی نہیں لیا۔ ایک دفعہ شاید سہواً عمران خان کا نام زبان پر آ گیا تو فوراً اس کی بھی تردید ہی فرما دی اور کہا میں نام نہیں لینا چاہتا۔ نواز شریف نے تقریر میں امن کا وہ تصور پیش کیا کہ کبوتر ان کے ہاتھ پر آکر بیٹھ گیا۔ امن کی فاختائیں ان کے گرد رقص کرنے لگیں۔ آشتی کا وہ پیغام دیا جس کی مثال نہیں بنتی۔ اس تقریر کے بعد نواز شریف کو امن کے نوبل انعام کے لیے تو نامزد کیا جا سکتا ہے لیکن پاکستانی سیاست کا یہ دستور ہے نہ روایت۔ یہ رسم نہیں ہے اس سماج کی۔ ایک سابق وزیراعظم ہوا کرتے تھے، نام تھا ان کا عمران خان۔ وہ اپنے غصے کو اپنی سچائی کی دلیل سمجھتے تھے۔ گالیاں دینے کو اپنا حق گردانتے تھے۔ کسی کی گیلی شلوار کو تذکرہ مباح سمجھتے تھے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ عمران خان نے اینگری ینگ مین کا تصور بڑی کامیابی سے بیچا حالانکہ اہم میٹنگنز میں نہ وہ اینگری ہوتے تھے نہ اس عمر میں انہیں ینگ کہنے کی کوئی جسارت کر سکتا ہے۔ یہ انتقامی مزاج عوام میں بہت مقبول ہوا ۔ لوگ گلی محلوں میں اپنے لیڈر کی تقلید میں مخالفین کا گریبان پھاڑنے لگے۔ ٹاک شوز میں جوتے، گالیاں، تھپڑ اور مکے چلنا شروع ہو گئے۔ عزت دار آدمی زیادہ ریٹنگ والے ٹاک شوز سے ایسے دور رہنے لگے جیسے شرفا کسی بدنام محلے کے قریب پھٹکنے سے بھی گریزکرتے ہیں۔ لیکن اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ان ہتھکنڈوں نے عمران خان کو بہت مقبول کیا۔ لوگوں کو یوں لگا جیسے انہوں نے ظلم کی دیواریں گرا دیں، ہر نقش کہن کو مٹا دیا، اسٹیبلشمنٹ تک کو لٹا دیا۔ اب ہم ایسا سماج تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ جہاں نیلسن منڈیلا بھی ستائیس سال جیل کاٹنے کے بعد ظالم گوروں کے لیے عام معافی کا اعلان کرتا تو لوگوں نے کہنا تھا کہ ’تھلے لگ گیا ، تھلے لگ گیا‘۔
عمار مسعود نواز شریف سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اب پاکستان میں عام معافی بزدلی سمجھی جاتی ہے، یہاں تحمل بے وقوفی سمجھا جاتا ہے، یہاں بسم اللّٰہ پڑھ کر بڑھک مارنا پڑتی ہے، یہاں مخالف کی ’کنڈ‘ زمین پر لگانا پڑتی ہے۔ آپ شہباز شریف کی مصلحت کے پیش نظر نہ عمران خان کے سہولت کاروں کا نام لے سکتے ہیں نہ جنرل باجوہ کا ذکر ہو سکتا ہے۔ نہ آئین کی حرمت کا نعرہ لگایا جا سکتا ہے اور نہ ووٹ کی عزت کا علم بلند کیا جا سکتا ہے لیکن ثاقب نثار کا تو احتساب ہو سکتا ہے،عمران خان کے بارے میں بات ہو سکتی ہے۔ آئین سے غداری کرنے والوں کا اگر احتساب نہیں ہو سکتا تو کم از کم ان کا نام تو لیا جا سکتا ہے۔ اس سے بہتر موقع تاریخ آپ کو نہیں دے گی۔ امن کی فاختہ پہلے بھی آپ کندھے پر بٹھا کر پھرتے رہے ہیں لیکن ظلم کا شاہین ہمیشہ اس فاختہ کو شکار کرتا ہی رہا ہے۔آپ کو اس بات پر غور نہیں کرنا کہ آپ چوتھی دفعہ وزیر اعظم بنیں گے یا نہیں، آپ کو یہ سوچنا ہے کہ دوہزار اٹھائیس میں مینار پاکستان کون بھرے گا؟ اس وقت کبوتر کس کے ہاتھ پر بیٹھے گا؟ میڈیا کس کی آمد کی بریکنگ نیوز چلائے گا؟
