اداکار بابر علی نے بالی ووڈ سٹارز کو کھری کھری کیوں سنائیں؟

معروف اداکار بابراعلی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی اداکار سنی دیول سمیت پاکستان مخالف فلمیں بنانے والوں کیلئے ملک میں کوئی عزت نہیں ہے، کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسرے ملک کو نیچا دکھائے، نادر علی کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بابرعلی کا کہنا تھا کہ ان کا آبائی تعلق سیالکوٹ، پنجاب سے ہے لیکن ان کی پرورش اور زندگی کا زیادہ حصہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں گزرا اور انہوں نے کراچی کی گلیاں اور پارکس دیکھ رکھے ہیں۔ان کے مطابق ان کے والد حافظ قرآن ہیں، اس لیے ان کی اداکاری کا سوال ہی نہیں بنتا تھا لیکن انہیں حد سے زیادہ اداکاری کا شوق تھا اور وہ اداکار بننے کے لیے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کراچی سینٹر کے باہر کھڑے رہا کرتے تھے پھر ایک دن ان پر ہدایت کار قاسم جلالی کی نظر پڑی، قاسم جلالی نے انہیں ’لبیک‘ ڈرامے میں محمد بن قاسم کے کردار کی پیش کش کی تو انہوں نے والد کو بتایا کہ وہ ڈرامے میں سپہ سالار بنیں گے، جس وجہ سے انہیں اجازت ملی۔بابر علی نے اعتراف کیا کہ ان کی وجہ شہرت ٹی وی ہے، اسی لیے انہوں نے آج تک ٹی وی میں کام کرنا نہیں چھوڑا، پہلی فلم ’جیوا‘ کی کامیابی کے بعد انہوں نے فوری طور پر 60 فلموں میں کام کرنے کا معاہدہ کرلیا اور وہ بیک وقت 14 سے 18 فلموں کی شوٹنگ کیا کرتے تھے۔1994 سے 1998 تک ان کی فلمی مصروفیات زیادہ رہیں اور انہیں ایسی شہرت ملی کہ لوگ انہیں دور سے دیکھ کر پہنچاننے لگتے تھے۔بابر علی کے مطابق اس زمانے میں فلموں میں کام کا اتنا معاوضہ ملتا تھا کہ دو فلموں میں کام کرنے کے بعد اپنا گھر خریدا یا بنایا جا سکتا تھا، آج بھی فلموں میں پیسے زیادہ ہیں اور انہیں بھی ڈراموں کے مقابلے فلموں میں کام کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے، آج کل وہ ہر دوسرے یا تیسرے ڈرامے میں کسی نہ کسی نوجوان اداکارہ کے والد بنے ہوئے ہوتے ہیں لیکن انہوں نے کبھی کسی نوجوان لڑکی کو غلط نظر سے نہیں دیکھا چوںکہ ان کی شریک حیات اتنی اچھی اور بہترین ہیں کہ دوسری جگہ دیکھنے کا ان کا دل ہی نہیں کرتا۔بالی وڈ فلموں اور خصوصی طور پر سنی دیول کی فلموں پر بات کرتے ہوئے بابر علی نے واضح کیا کہ وہ بھلے سیکوئل فلمیں بنائیں لیکن اگر وہ پاکستان کو گالی دیں گے تو وہ ان کی عزت نہیں کریں گے، ان کے لیے ان کا ملک اور ملکی ادارے اہم ہیں، پاکستان اور بھارت کے فلم سازوں اور اداکاروں میں یہی فرق ہے کہ ہم کسی کو گالی نہیں دیتے اور وہ ہر فلم میں دوسروں کو گالی دیتے ہیں۔اداکار کے مطابق ہرکس کو حق ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے کچھ بھی کرے لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے ملک کو گالی دے، وہ پاکستانی جھنڈے، ملک اور فوج کو بدنام کرنے والے اداکاروں کی عزت نہیں کریں گے، ان کے لیے ان کا وطن اور ادارے اہم ہیں۔
