نواز شریف دل ٹوٹنے کی کس بیماری کا شکار ہیں؟

میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق جاری کردہ رپورٹ میں ان کے معالج ڈاکٹر فیاض شال نے لکھا ہے کہ وہ ذہنی تناؤ کی وجہ سے ممکنہ طور پر ٹاکا سوبو نامی دل کی غیر معمولی بیماری کا شکار ہیں جس میں مریض کے دل ٹوٹ جاتا ہے۔ انہوں نے لکھا ’مجھے بتایا گیا ہے کہ پاکستان واپس جانے پر نواز شریف کو قید تنہائی میں رکھا جائے گا لہٰذا میرے خیال میں قید تنہائی کا ذہنی دباؤ اور ان کی اہلیہ کی وفات کا صدمہ دونوں مل کر ان کی صحت کے لیے زہر قاتل ثابت ہوسکتے ہیں۔

سابق وزیراعظم کی میڈیکل رپورٹ پبلک ہونے کے بعد دل ٹوٹنے کی بیماری کے نام کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خاصی گفتگو ہو رہی ہے اور لوگ اس بیماری کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ ماہرین امراض دل کے مطابق ٹاکا سوبو جاپانی زبان کا لفظ ہے، اس کو انتہائی غیر معمولی بیماری کے طور پر جانا جاتا ہے جس کی بظاہر کوئی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو پائی۔

اس بیماری میں مبتلا مریض کے خون کی رپورٹس میں کسی بیماری کے اثرات تو نظر نہیں آتے لیکن دل کے پٹھے کمزور ہونے کی وجہ سے اچانک دل کا عارضہ لاحق ہو جاتا یے۔ ایسا عام طور پر انتہائی ذہنی دباؤ یا صدمے کی کیفیت کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ نواز شریف کے وکلا نے لاہور ہائی کورٹ میں انکی صحت بارے ایک طبی رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں ڈاکٹر فیاض شال نے تین صفحات پر مشتمل بیماری کی سابقہ ہسٹری بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ نواز شریف کو 2004 سے جانتے ہیں اور ان کا علاج کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر فیاض شال نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ نواز شریف کی طبیعت میں موجودہ بہتری، صحت مند خوراک اور ورزش کو روز مرہ زندگی کا حصہ بنانے کی وجہ سے آئی ہے، تاہم ان کی بیماری کی صورت حال ویسی ہی ہے۔ فیاض شال نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ذہنی دباؤ نواز شریف کی صحت میں بگاڑ پیدا کرسکتا ہے۔ انہوں نے لکھا جیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ پاکستان واپس جا کر انہیں قید تنہائی میں رکھا جائے گا تو قید تنہائی کا ذہنی دباؤ اور ان کی اہلیہ کی وفات کا صدمہ دونوں ان کی صحت کے لیے زہر قاتل ثابت ہوسکتے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی جانے والی یہ رپورٹ 28 جنوری 2022 کو جاری کی گئی جبکہ اس پر ریفرینس کے طور پر نواز شریف کے گھر پارک لین کا پتہ درج ہے۔ رپورٹ کے اگلے حصے میں گذشتہ دو دہائیوں میں نواز شریف کو دی جانے والی ادویات اور گاہے گاہے ہونے والے آپریشنز کا تاریخ وار ذکر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فیاض شال نے اپنی رپورٹ میں ان 12 ادویات کا نسخہ بھی درج کیا جو نواز شریف ان کی ہدایت پر اس وقت لے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ نواز شریف کو عدالت نے اپنے علاج سے متعلق ہر 15 روز بعد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کی تھی۔ ہائی کورٹ میں اس سے قبل ان کی آخری رپورٹ چار ستمبر 2020 کو تقریباً ڈیڑھ سال قبل جمع کرائی گئی تھی۔

خیال رہے کہ حکمراں جماعت تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان واپس لایا جائے گا۔ اس حوالے سے ایک طبی بورڈ بھی تشکیل دیا گیا ہے جو نئے سرے سے نواز شریف کی صحت کا جائزہ لے گا۔ ملک کے اٹارنی جنرل نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو ایک خط بھی لکھا ہے کہ چونکہ ان کی ضمانت پر نواز شریف کو علاج کے لیے ملک سے باہر بھیجا گیا تھا لہٰذا اب وہ انہیں واپس لائیں۔ اس خط میں اٹارنی جنرل نے یہ بھی لکھا ہے کہ نوازشریف کی سامنے آنے والے ویڈیوز اور تصاویر جو سوشل میڈیا پر دستیاب ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اب صحت یاب ہوچکے ہیں۔

اپوزیشن کے دن گنے جا چکے ہیں

دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ میں داخل کی جانے والی رپورٹ میں نواز شریف کے معالج نے لکھا ہے کہ نوازشریف ایئرپورٹ پر کرونا کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کو جو بیماری لاحق ہے اس میں ان کی قوت مدافعت بہت کمزور ہے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ نواز شریف اینجیو گرافی اور مکمل علاج کے بغیر برطانیہ سے باہر نہیں جا سکتے۔ برطانیہ میں ان کی دیکھ بھال کے لیے ہمہ وقت ڈاکٹرز موجود ہیں۔

رپورٹ میں نواز شریف کی اینجیوگرافی میں تاخیر کی وجہ کرونا وبا کو قرار دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے ن لیگ کی جانب سے جمع کروائی گئی تازہ رپورٹس سے لگتا ہے کہ انہیں وطن واپس لانے کا حکومتی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔

Back to top button