امریکہ پاکستانی سفیر کی تعیناتی میں تاخیر کیوں کر رہا ہے؟

امریکہ اور پاکستان کے مابین سرد تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے واشنگٹن میں مسعود احمد خان کو نیا سفیر تعینات کرنے کی سفارش پر جو بائیڈن انتظامیہ نے تین ماہ گزر جانے کے باوجود کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اس دوران بھارتی میڈیا میں ایسی خبریں بھی چل رہی ہیں کہ امریکہ نے واشنگٹن کے لیے پاکستان کے نامزد کردہ سفیر مسعود خان کی سفارتی اسناد کی منظوری کاعمل عارضی طور پر روک دیا ہے۔
تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا ہے کہ مسعود خان ایک تجربہ کار سفارت کار ہیں اور ان کی سفارتی اسناد کی منظوری کا عمل امریکی نظام کار کے مطابق جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلائی گئی افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں۔
تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ مسعود خان کی واشنگٹن ڈی سی میں بطور سفیر تقرری تب ہی ہو سکتی ہے جب امریکی حکومت اس کی منظوری دے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں حال ہی میں شائع ہونے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسعود خان کے کشمیر کے حق اور کشمیری علیحدگی پسند عناصر کی حمایت میں دیے گئے بیانات کی وجہ سے امریکہ نے انکی پاکستان کے سفیر کے طور پر نامزدگی کی منظوری عارضی طور روک دی ہے۔
یاد رہے کہ سابق پاکستانی سفارتکار مسعود احمد خان ماضی میں آزاد کشمیر کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے بھارتی میڈیا کے دعوے کو بے بنیاد اور گمراہ کن قراردیتے ہوے اسے پاکستان کے خلاف ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ قراردیا ہے۔ اُن کے مطابق اس مہم کا مقصد مبینہ طور پر پاکستان اور اس کی نمائندگی کرنے والوں کو بدنام کرنا ہے۔
یادر ہے کہ اسلام آباد نے گزشتہ برس نومبر میں آزاد کشمیر کے سابق صدر مسعود خان کو واشنگٹن میں سفیر نامزد کیا تھا۔ مسعود خان قبل ازیں کئی ممالک میں پاکستان کے سفارت کار کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ امریکی محکمہٌ خارجہ کی طرف سے تاحال اس بارے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے ۔لیکن بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے امریکہ کی طرف سے مسعود خان کی سفارتی اسناد کی منظور ی میں ہونے والی تاخیر کی وجہ سے یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ شاید امریکہ نے ان کی سفارتی اسناد کی منظوری کاعمل عارضی طور پر روک دیا ہے ۔
دوسری جانب امریکی ریاست پینسلوینیا سے ری پبلکن رکنِ کانگریس اسکاٹ پیر ی نے صدر جو بائیڈن کو ایک خط لکھا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ مسعود خان کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیم حزب المجاہدین سمیت بعض جہادی عناصر کی حمایت کرتے ہیں۔
لہذٰا، ان کی سفارتی اسناد کی منظوری نہ دی جائے۔ اسکاٹ پیری نے مسعود خان کی امریکہ کے لیے پاکستان کے سفیر کے طور پر نامزدگی پر تشویش کا ااظہارکرتے ہوے یہ دعوی کیا کہ وہ خطے میں ہمارے مفادات اور ہمارے اتحادی بھارت کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بنتے رہے ہیں۔ خط میں اسکاٹ پیر ی نے کہا کہ ان کے لیے یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اطلاعات کے مطابق محکمہ خارجہ نے مسعود خان کی نامزدگی کی توثیق کرنے کے عمل کو عارضی طور پرروک دیا ہے۔ لیکن ان کےنزدیک یہ کافی نہیں۔ بلکہ انہوں نے صدر بائیڈن پر مسعود خان کی سفارتی اسناد مسترد کرنے پر زور دیا ہے۔
صدارتی نظام کے نفاذ کی کوشش ملکی سلامتی سے کھلواڑ
تاہم ابھی تک باضابطہ طورپر مسعود خان کی نامزدگی کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے کہ ان کی بطور سفیر نامزدگی کی توثیق میں تاخیر کی وجہ کیا ہے۔ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ مسعود خان کی نامزدگی معمول کے طریقۂ کار کے مطابق ہوئی ہے۔ انہوں کہا کہ ہر حکومت کا اختیار ہوتا ہے کہ کسی شخص کی بطور سفیر نامزدگی کو قبول کریں یا مسترد کریں۔ناُن کے بقول حکومت نے مسعود خان کی نامزدگی سے قبل ان ممکنہ رکاوٹوں کا جائزہ لیا ہو گا ، لہذٰا اس معاملے پر قیاس آرائیاں نہیں کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ مسعود خان چین اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر کام کر چکے ہیں، اس کے علاوہ وہ امریکہ میں کئی سال تک بھی پاکستان کے نائب سفیر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ مسعود خان کی نامزدگی کی توثیق میں تاخیر ایک ا یسے وقت ہورہی جب مبصرین کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے تعلقات افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کے بعد بظاہر سردی مہری کا شکار ہیں۔ پاکستان کے سابق سفیر شاہد امین کا کہنا ہے کہ سفارتی روایت رہی ہے کہ ایک ملک جب دوسر ے ملک میں کسی شخص کو اپنا سفیر نامزد کرتا ہےتو میزبان ملک کا یہ حق ہے کہ وہ اس تقرری کی منظوری دینے میں وقت لے سکتا ہے اور اس میں وقت لگ سکتا ہے۔
لیکن ان کےبقول بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ مسعود خان کے معاملے میں امریکہ معمول سے زیادہ وقت لے رہا ہے جو ایک غیر معمولی بات ہے کیوں کہ ماضی میں ایسا کم ہی ہوا ہے۔ شاہد امین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں امریکی محکمۂ خارجہ ہی وضاحت کر سکتا ہے کہ مسعود خان کے نام کی منظوری میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ مسعود خان پاکستان کے ایک کریئر سفارت کار رہے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔ شاہد امین کا کہنا ہے کہ کشمیر کی حمایت میں ان کابیان کوئی نئی بات نہیں ہے عمومی طور پر پاکستان کے عہدیدار ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ ان بیانات کی وجہ سے مسعود خان کی واشنگٹن میں پاکستان سفیر کی طور پر تقرری رک جائے گی۔
