NDMA نے کرونا کے نام پر قومی خزانے کو ٹیکا کیسے لگایا؟


تحریک انصاف حکومت کی جانب سے کرونا وبا کی آڑ میں ڈالے گئے 40 ارب روپے کے ڈاکے کی تفصیلات سے پتہ چلا ہے کہ وفاقی حکومت کے علاوہ آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے قومی ادارے این ڈی ایم اے نے بھی قومی خزانے کو خوب ٹیکا لگایا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک کیس میں مہنگے وینٹی لیٹرز کی خریداری پر سرکاری خزانے کو 19 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا جس کی ذمہ داری ادارے کے اس وقت کے حاضر سروس تھری سٹار جرنیل جنرل محمد افضل پر عائد ہوتی ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 2020 میں کورونا وائرس وبا کے دوران نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یا این ڈی ایم اے کی جانب سے خریداری اور اسٹاک میں نہ صرف مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے بلکہ یہ بھی قرار دیا ہے کہ وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے اتھارٹی مکمل تیار نہیں تھی۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے کووِڈ 19 پر کیے گئے اخراجات کی آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ اتھارٹی قومی منصوبہ کو سالانہ بنیادوں پر اپ گریڈ کرنے میں ناکام رہی، جو کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2010 کے تحت ضروری ہے۔ اس میں کہا گیا کہ اس کی وجہ سے کوویڈ 19 کے تناظر میں اتھارٹی کی منصوبہ بندی کے عمل میں تعطل کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ این ڈی ایم اے نے 250 بستروں پر مشتمل آئسولیشن ہسپتال اور انفیکشنز ٹریٹمنٹ سینٹر اسلام آباد کی تعمیر کے لیے چین کی جانب سے عطیہ کیے گئے 40 لاکھ ڈالر کو برقرار رکھا لیکن کووڈ 19 سے لڑنے کے لیے فنڈز کو استعمال کرتے ہوئے تعمیراتی کام ایف ڈبلیو او کو تفویض کیا۔ این ڈی ایم اے ایف ڈبلیو او کو ادا کی گئی پیشگی ادائیگی کے واؤچرز وغیرہ حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا اور آئی ایچ آئی ٹی سی کی تعمیر اور حج کمپلیکس، راولپنڈی کی تزئین و آرائش، کراچی میں قرنطینہ سینٹر کی سہولیات کی فراہمی اور نیشنل کنٹرول روم کا قیام کے لیے 69 کروڑ روپے کی ایڈجسمنٹ بھی نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان اور ایرانی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کووڈ 19 وبائی بیماری کے پھیلنے کے بعد اتھارٹی نے خریداری کا عمل شروع کیا اور چین سے براہ راست ہنگامی خریداری شروع کی جس کا تعلق بنیادی طور پر بائیو میڈیکل آلات، ٹیسٹنگ کٹس اور ذاتی حفاظتی سامان یعنی پی پی ای سے ہے۔ چین سے 30 جون 2020 تک کل خریداری تین مراحل میں 6 کروڑ 22 لاکھ ڈالر تھی اور این ڈی ایم اے نے چین میں ممکنہ سپلائرز سے رابطہ کیا لیکن اس حوالے سے کوئی دستاویزی ثبوت دستیاب نہیں تھا اور نہ ہی ٹیکنیکل کمیٹی کے درمیان ویڈیو کانفرنس کے منٹس دستیاب تھے۔ رپورٹ کے مطابق این ڈی ایم اے 123 کیسز میں 2ارب، 80 لاکھ ڈالر کے 11 دیگر کیسز میں کووڈ 19 پروکیورمنٹس سے متعلق اشیاء کی تاخیر سے فراہمی پر سپلائرز سے لیکویڈیٹڈ ڈیمیجز چارجز کی وصولی میں بھی ناکام رہا۔ آڈٹ رپورٹ میں نمایاں ہونے والی بے ضابطگیوں میں زیادہ نرخوں پر وینٹی لیٹرز کی خریداری پر سرکاری خزانے کو 19 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا۔ آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ این ڈی ایم اے کو کنٹریکٹ مینجمنٹ کے عمل اور اندرونی کنٹرول کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
کرونا فنڈز کی آڈٹ رپورٹ میں دفاعی سروسز کے ریکارڈ میں تقریباً 3.87 ارب روپے اور 70 لاکھ ڈالرکی کمی کی بھی نشاندھی کی گئی۔ کووڈ 19 وبائی امراض کے دوران، پاکستان آرمی کی مرکزی خریداری ڈائریکٹر جنرل پروکیورمنٹس آرمی نے کی تھی جبکہ پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی کے لیے یہ بالترتیب ڈائریکٹر پروکیورمنٹ ایئر اور ڈائریکٹر پروکیورمنٹ نیوی نے کی۔ اس کے علاوہ خریداری سینٹرل آرڈیننس ڈپوز، میڈیکل ڈائریکٹوریٹ جی ایچ کیو اور اس کے زیر کنٹرول ہسپتالوں نے مقامی ادویات اور الیکٹرو میڈیکل آلات کی خریداری کی۔ سب سے سنگین آڈٹ اعتراض ایک ارب 89 کروڑ روپے پر مشتمل ہے، آڈیٹرز نے بتایا کہ بجٹ ڈائریکٹوریٹ جی ایچ کیو نے گزشتہ برس 30 جون کو پاکستان آرمی کو کووڈ 19 سے لڑنے کے لیے 4 ارب 86 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔

Back to top button