’گوادر کو حق دو‘ ریلی نے کوسٹل ہائی وے بند کردی


بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں صورت حال مزید خراب ہوگئی ہے اور اب خواتین اور بچوں سمیت اپنے حق کے لئے نکلنے والے ہزاروں مظاہرین نے ملک کی اہم ترین مہران کوسٹل ہائی وے کو چار مختلف مقامات سے بند کردیا ہے۔
یاد رہے کہ گوادر کے شہریوں کا ایف سی کی چیک پوسٹس کے خاتمے، ٹرالر مافیا کے خلاف ایکشن اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی سیمت دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے دھرنا دو ہفتوں سے جاری ہے، جس میں شدت آنے کے بعد بالآخر مظاہرین نے مہران کوسٹل ہائی وے کو چار مختلف مقامات سے بند کردیا ہے۔ جماعت اسلامی کے ایک مقامی رہنما مولانا ہدایت الرحمٰن کی قیادت میں جاری دھرنا 18ویں روز میں داخل ہونے کے بعد 2 دسمبر کو ’گوادر کو حق دو ریلی‘ کے قائدین نے گوادر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان بھینکردیا جس کے بعد شہر بھر کی مارکیٹس اور دکانیں بند کرادی گئیں۔ دوسری جانب ٹریڈ یونینز کے مطالبے کے بعد بلوچستان کے علاقوں اورماڑہ اور پسنی میں بھی شٹر ڈاون ہڑتال شروع ہو گئی ہے۔ ضلع بھر میں آج ماہی گیروں نے بھی سمندر کا رخ نہ کر کے اہنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
مظاہرین نے عزم کا اظہار کیا کہ مولانا ہدایت الرحمٰن کے مطالبات پر من و عن عملدرآد نہ ہونے تک احتجای تحریک جاری رہے گی۔
ادھر وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بلوچستان ظہور بلیدی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ ’مولانا ہدایت الرحمن اور انکی ٹیم سے بامعنی مذاکرات ہوئے اور ان کے تمام مطالبات پر پیش رفت کے باعث مشترکہ حکمت عملی پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد گوادر کے دھرنے پر مثبت نتیجہ ملے گا جو عوام اور بلوچستان کے حق میں ہوگا۔
تاہم حکومت کی جانب سے مطالبات پر عملدرآمد کے لیے مزید مہلت مانگنے پر مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کو 70 سال مہلت دی گئی لیکن اب کسی تعطل کے بغیر مطالبات پر عملدرآمد کے سوا حکومت کے پاس کئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ دوسری جانب بلوچستان میں رونما ہونے والی پیش رفت کے مد نظر دھرنا کے شرکا کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ پولیس نے 5 ہزار اہلکاروں سمیت افسران کو گوادر روانہ کردیا ہے ان میں ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز شامل ہیں۔ ان میں بلوچستان کانسٹیبلری کے 22 سو اہلکار بھی شامل ہیں جو حکومت کے بقول ’امن و امان اور ممکنہ کشیدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں اومی کرون کا پہلا کیس رجسٹرڈ

خیال رہے کہ جماعت اسلامی کے مقامی رہنما مولانا ہدایت الرحمٰن کی قیادت میں گوادر، تربت، پشکان، زرمان، بلیدا، اورماڑا اور پسنی سے بڑی تعداد میں شہری گوادر کو حقوق دو تحریک میں شامل ہیں۔ مولانا ہدایت الرحمٰن کا کہنا ہے کہ جب 2002 میں گوادر بندرگاہ کا افتتاح کیا گیا اور پھر پاک-چین سی پیک شروع ہوا تو گوادر کے لوگوں کو بتایا گیا تھا کہ ان منصوبوں کو پورے پاکستان کے ساتھ ساتھ صوبےمیں توسیع دی جائے گی۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ سی پیک پروجیکٹ شروع ہونے کے بعد گوادر کے باسیوں کے لیے حالات اور بھی ابتر ہو گئے۔ انکامکہنا ہے کہ ‘گوادر وہ ایک ملٹری چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے اور عوام کے پاس نہ تو پانی، بجلی، تعلیم، طبی سہولیات اور روزگار ہے اور نہ ہی ان کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جارہا ہے، انکے مطابق سی پیک ہراجیکٹ کا ایک ذرہ بھی بلوچستان کے عوام کی فلاح پر خرچ نہیں کیا گیا۔ مولانا کا کہنا ہے کہ ان حالات میں جب تک حکومت گوادر کے عوام کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع نہیں کرتی ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

Back to top button