امریکہ کا ایران پر نیا حملہ، کیا واقعی مجوزہ امن معاہدہ خطرے میں ہے؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کو امید تھی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری خفیہ سفارتکاری شاید کسی بڑے امن معاہدے کی شکل اختیار کر لے گی، اچانک جنوبی ایران میں امریکی حملوں نے صورتحال کو دوبارہ خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ بندر عباس کے قریب ایرانی تنصیبات پر حملے، آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی عسکری کشیدگی، اور ٹرمپ انتظامیہ کے سخت بیانات اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ خطے میں امن کی امید ابھی بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ حملے صرف “دفاعی نوعیت” کے تھے، لیکن سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اگر مذاکرات واقعی کامیابی کے قریب تھے تو پھر حملوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا واشنگٹن ایران پر دباؤ بڑھا کر اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے؟ یا پھر یہ حملے کسی بڑے خفیہ منصوبے کا حصہ ہیں؟ دوسری جانب ایران بھی مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مگر تہران کی خاموشی خود ایک معنی خیز پیغام بن چکی ہے۔ قطر میں جاری سفارتی سرگرمیاں، افزودہ یورینیم کا معاملہ، آبنائے ہرمز کی اہمیت اور اسرائیل کے خدشات — یہ سب عوامل مل کر اس بحران کو صرف ایران اور امریکہ کا تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی نئی جنگِ اعصاب بنا رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق امریکہ نے جنوبی ایران میں ایک مرتبہ پھر فضائی حملے کر کے خطے کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں بندر عباس کے قریب کی گئیں جہاں ایرانی میزائل تنصیبات اور وہ کشتیاں نشانہ بنائی گئیں جو مبینہ طور پر سمندر میں بارودی سرنگیں بچھا رہی تھیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے “اپنے دفاع” میں کیے گئے تاکہ خطے میں موجود امریکی افواج کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم عالمی مبصرین کے مطابق ان حملوں کا وقت انتہائی حساس ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اگرچہ واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے، لیکن ان کا یہ بیان بھی خاصا اہم ہے کہ “صدر ٹرمپ یا تو ایک اچھا معاہدہ کریں گے یا کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔” اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال کر اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے۔
قطر اس پوری سفارتی کوشش میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی کی دوحہ آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ پسِ پردہ مذاکرات تیزی سے جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیوں، منجمد ایرانی اثاثوں اور افزودہ یورینیم کے ذخائر جیسے حساس معاملات زیرِ بحث ہیں۔
آبنائے ہرمز اس بحران کا سب سے اہم پہلو بن چکی ہے۔ دنیا کی تیل سپلائی کا بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر دباؤ ڈالنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ہل کر رہ گئی ہیں۔ امریکہ واضح کر چکا ہے کہ وہ ہر صورت آبنائے ہرمز کو کھلا رکھے گا، کیونکہ اس کی بندش عالمی معیشت کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے حالیہ بیانات میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم یا تو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کیا جائے یا پھر اسے ایران کے اندر ہی تباہ کر دیا جائے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل تنازع صرف جنگ بندی نہیں بلکہ ایران کی ایٹمی صلاحیت ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے اور خفیہ مقام پر منتقل ہونے کی رپورٹس نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگر ایران کی اعلیٰ قیادت مکمل طور پر فعال رابطے میں نہیں تو مذاکراتی عمل بھی سست پڑ سکتا ہے۔مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں دو امکانات واضح نظر آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی ثالثی سے ایک محدود معاہدہ طے پا جائے جس میں جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور محدود جوہری نگرانی شامل ہو۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ معمولی عسکری جھڑپیں دوبارہ بڑی جنگ میں تبدیل ہو جائیں، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔فی الحال ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں جنگ سے مکمل طور پر بچنا چاہتے ہیں، لیکن دونوں ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطہ اس وقت امن اور جنگ کے درمیان خطرناک توازن پر کھڑا ہے۔
