ریاست بچانے کے چکر میں شہباز نے سیاست کیسے قربان کی؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ میرا یہ شبہ اب یقین میں بدلنا شروع ہوگیا ہے کہ وزیراعظم منتخب ہوجانے کے بعد مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف اب آئندہ انتخاب جیتنا تو کیا اس میں حصہ لینے کی فکر میں بھی مبتلا نہیں رہے، ان کا کہنا یے کہ ریاست بچانے کی تڑپ میں شہباز شریف نے نے نواز شریف کی دہائیوں کی سیاست قربان کرنے میں چند ماہ بھی نہیں لگائے، ربّ کریم سے فریاد ہے کہ ہماری ریاست کے کرتا دھرتا ان کی ’’تاریخی قربانی‘‘ کو ہمیشہ یاد رکھیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں کبھی کبھار کینیڈا سے اچانک پاکستان پہنچ جانے والے موسمی انقلابی طاہر القادری ’’سیاست نہیں ریاست بچائو‘‘ کا نعرہ بلند کیا کرتے تھے تاہم وہ اپنے خواب کو عملی صورت فراہم کرنے میں ناکام رہے لیکن اب سیاست کی بجائے ریاست بچانے کا فریضہ شہباز شریف ہی کو نبھانا پڑ رہا ہے بالآخر بہت انتظار کے بعد سفاک ساہوکار کی طرح آئی ایم پاکستان سے اپنی تمام شرائط منوانے کے بعد امدادی رقم کی بھاری بھر کم قسط مہیا کرنے کو رضا مند ہو گیا ہے اور پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا لیکن ممکنہ دیوالیہ پن سے محفوظ رہنے کے لئے ہماری ہر نوع کی اشرافیہ نے نہیں بلکہ میرے اور آپ جیسے محدود آمدنی والے بے تحاشہ گھرانوں نے بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافے کی اذیت برداشت کی۔
آئی ایم ایف سے خیر کی خبر آنے کے بعد امید یہ بندھی کہ پاکستانی روپے کی قدر اب امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدرے مستحکم ہونا شروع ہو جائے گی۔ متوقع استحکام اس تناظر میں مزید اُمید افزا محسوس ہوا جو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رحجان نمایاں کر رہا تھا، ان دو حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے مجھ جیسے ذلت واذیت کے مارے پاکستانیوں نے اُمید باندھ لی کہ ڈالر اور پیٹرول کی قیمت میں نمودار ہونے والا استحکام ہماری روزمرہّ مشکلات میں بھی تھوڑی کمی لائے گا مگر پھر اچانک حکومت نے بجلی کے فی یونٹ نرخ میں مزید اضافے کا اعلان کر دیا، ابھی وہ اعلان ہضم ہی نہیں کر پائے تھے تو رات گئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافے کا فیصلہ ہوگیا۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اوپر تلے عوام پر گرائے جانے والے مہنگائی کے بموں سے لگتا ہے کہ ’’ریاست‘‘ کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے مجھے اور آپ کو مزید قربانیاں دینا ہوں گی اور اگر ہم ان قربانیوں کے لئے آمادہ نہ ہوئے تو ہم ’’غدار‘‘ پکارے جائیں گے۔ نصرت کے بقول ’’غداری‘‘ کی تہمت شوکت ترین جیسے ’’کامیاب بینکاروں‘‘ کا کچھ نہیں بگاڑتی۔ عام پاکستانی پر یہ الزام لگے تو وہ ’’مسنگ پرسن‘‘ نہ بنے تب بھی علی وزیر کی طرح ضمانت سے محروم ہو کر کئی مہینوں تک جیل کی سلاخیں گنتا رہتا ہے۔
5 ڈوبتے دوستوں میں سے زندہ بچ جانے والے کی کہانی
آئی ایم ایف سے خیر کی خبر آ جانے کے بعد ہونے والے حکومتی اعلانات نے امیرمینائی کا وہ شعر یاد دلا دیا جو وصل کی رات کو ’’اس قدر مختصر؟‘‘ محسوس کرتے ہوئے سینہ کوبی کو مجبور کر دیتا ہے لیکن ’’ریاست‘‘ شہباز شریف کی کارکردگی سے خوش ہے اور اس کی یہ سوچ ثابت ہو گئی کہ اپنے بڑے بھائی کے مقابلے میں وہ واقعتا ایک بہتر منیجر ہیں اور وہ بھی ڈوبتے یا دیوالیہ ہوتے ہوئے دھندے کو سنبھالنے کی مہارت سے مالا مال۔
لیکن ان صلاحیتوں کے باوجود شہباز شریف پر اب بھی ’’سیاستدان‘‘ ہونے کی تہمت لگائی جاتی ہے، اپنے بھائی کے ساتھ مل کر شنید ہے انہوں نے 1985 کی دہائی سے نہایت لگن کیساتھ ’’ووٹ بینک‘‘ نامی شے متعارف کروائی تھی۔ بدترین حالات میں بھی وہ مستحکم ہوتا اور پھیلتا چلا گیا لیکن ’’ریاست بچانے‘‘ کی تڑپ میں وسیع تر قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے شہباز نے اسے قربان کرنے میں چند ماہ بھی نہیں لگائے، ربّ کریم سے فریاد ہے کہ ہماری ریاست کے کرتا دھرتا ان کی ’’تاریخی قربانی‘‘ کو ہمیشہ یاد رکھیں۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ریاست کے کرتا دھرتا شہباز صاحب کی بے لوث قربانی کی بابت کیا سوچ رہے ہیں اس کے بارے میں اپنے گھر تک محدود ہوا مجھ جیسا قلم گھسیٹ قطعاَ بے خبر ہے۔ مگر عمران خان انہیں معاف کرنے کو اب بھی آمادہ نہیں اور انہیں بوٹ پالشیہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بوٹ جتنا بڑا ہو شہباز اتنی ہی اچھی پالش بھی کرتے ہیں۔ لیکن صرف کہتے ہیں کہ عمران خان غصے میں شاید اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پا رہے کہ شہبازشریف ہی تحریک انصاف کو آئندہ انتخابات میں بھاری بھر کم اکثریت دلوانے میں بنیادی سہولت کار ثابت ہوں گے، اس لیے واجب ہوگا کہ وزیر اعظم کے منصب پر لوٹنے کے بعد عمران خان اپنی افتتاحی تقریر میں ’’تھینک یو شہباز شریف‘‘ کہتے ہوئے تھوڑی فراخ دلی ضرور دکھائیں۔
