نصاب میں اسلامی مواد سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا

گورنر پنجاب چوہدری سرور نے اسلامی مضامین کے علاوہ نصاب میں اسلامی مواد کو خارج کرنے کا نوٹس لے لیا۔
ان کی ہدایت پر محکمہ انسانی حقوق اور اقلیتی امور نے ایک رکنی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔ چوہدری سرور نے شعیب سڈل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد فوری طور پر روک دیا اور اس حوالے سے ایک نیا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا جس پر مسلم اسکالرز نے گورنر پنجاب سے اظہار تشکر کیا۔ گزشتہ روز ایک اجلاس میں مسلم دینی اسکالرز سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری سرور نے کہا کہ اسلامی مواد کو نصاب سے نہیں ہٹایا جائے گا اور یہ صرف اسلامی علوم کے موضوع تک ہی محدود نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی مولانا طاہر اشرفی، رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبد الخبیر آزاد نے اس اقدام پر گورنر سرور سے اظہار تشکر کیا۔ اس کے علاوہ بھارت اور پاکستان میں کورونا وائرس کی صورت حال کےلیے گورنر ہاؤس میں ایک خصوصی دعا کا اہتمام بھی کیا گیا۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی، رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبد الخیر آزاد، وفاق مدارس کے چیئرمین مولانا حنیف جالندھری، جماعت اہلحدیث کے چیئرمین علامہ زبیر احمد ظہیر، مفتی عاشق حسین، جامعہ نعیمہ کے سربراہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، جامعہ رحمانیہ کے چیئرمین مولانا امجد خان، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن سید حبیب الرحمٰن عرفانی موجود تھے۔ شرکا نے پنجاب کے نصاب میں اسلامک اسٹڈیز کے علاوہ دیگر کتابوں سے اسلامی مواد خارج کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ایک اجلاس کے دوران دینی علما نے اس معاملے میں ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ کورونا وائرس کی صورت حال کے بارے میں بات کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ ضرورت کی اس گھڑی میں پاکستان نے بھارت کو مکمل تعاون کی پیش کش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن باہمی تعلقات کی حمایت کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button