پاکستان کی علاقائی برآمدات میں 5.7 فیصد کمی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق کووڈ 19 کے اثرات کی وجہ سے رواں مالی سال کے 9 ماہ میں پاکستان کی اپنے 9 علاقائی ممالک کو برآمدات 5.7 فیصد کم ہوگئی۔
افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کےلیے ملکی برآمدات کا حجم 2 ارب 78 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہوگیا جو مالی سال 21 کے 9 ماہ میں پاکستان کی کل عالمی برآمدات کا محض 14.91 فیصد ہے جو رقم کے اعتبار سے 18 ارب 68 کروڑ 80 لاکھ ڈالر بنتا ہے۔ پاکستانی برآمدات دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں چین سرفہرست ہے، بھارت اور بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا۔ پاکستان نے سرحدی تجارت صرف سمندر کے راستے نیپال، سری لنکا، بھوٹان، بنگلہ دیش اور مالدیپ کے ساتھ کی۔ دوسری طرف ملک کا تجارتی خسارہ قدرے کم ہوگیا کیونکہ ان ممالک سے درآمدات میں بھی کمی آئی۔ جولائی تا مارچ 21-2020 کے دوران چین کو پاکستان کی برآمدات میں اچھا اور مثبت نمو دیکھنے میں آیا۔ علاقائی برآمدات میں زیادہ تر حصص یعنی 50.46 فیصد چین جب کہ باقی 8 ممالک کےلیے ہے۔ چین کےلیے پاکستانی برآمدات مالی سال 20 کے 9 ماہ کے دوران ایک ارب 29 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں مالی سال 21 کے 9 ماہ میں ایک ارب 40 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہی جو فیصد کے اعتبار سے 8.4 ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ فائدہ جزوقتی ہے یا بیجنگ کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت وزارت تجارت کے دعووں کا نتیجہ ہے کہ وہ مقامی مصنوعات کےلیے ترجیحی منڈی تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔ افغانستان کےلیے پاکستان کی برآمدات مالی سال 20 کے 9 ماہ میں 79 کروڑ 37 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں مالی سال 21 کے 9 میں 74 کروڑ 63 لاکھ 28 ہزار ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ چند برس قبل تک امریکا کے بعد افغانستان، پاکستان کےلیے دوسری بڑی برآمدی منڈی تھی۔ افغانستان سے ٹماٹر، آلو، پیاز اور تازہ اور خشک میوہ جات کی درآمدات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں بھارت کےلیے پاکستانی برآمدات میں 90.5 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جب کہ مالی سال 20 کے 9 ماہ کے دوران اس کا حجم 2 کروڑ 31 لاکھ 67 ہزار ڈالر رہا۔ حکومت نے نئی دہلی کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کردیے ہیں۔ حال ہی میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے زمینی راستے کے ذریعے بھارت سے روئی کے سوت اور چینی کی درآمد کی منظوری دی تھی لیکن اسی فیصلے کو وفاقی کابینہ نے مسترد کردیا تھا جس سے بھارت کے ساتھ تجارت کا کوئی امکان نہیں بچا تھا۔ کووڈ 19 کے بعد حکومت نے بھارت سے صرف دواسازی کی مصنوعات کی درآمد کی اجازت دی ہے۔ ایران کو برآمدات مالی سال 20 کے 9 ماہ میں 55 ہزار ڈالر کے مقابلے میں مالی سال 21 کے 9 ماہ میں 2 لاکھ 61 ہزار ڈالر ریکارڈ کی گئی جو 374 فیصد زیادہ ہے۔ تہران کے ساتھ زیادہ تر تجارت بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں غیر رسمی چینلز کے ذریعے کی جاتی ہے۔
