نسلہ ٹاور کیس:ملزم کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا

نسلہ ٹاور کیس میں سندھی مسلم کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی کے سابق اعزازی سیکرٹری نوید بشیر کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے 27 دسمبر کو سماعت میں پولیس اور اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کو نسلہ ٹاور کے بلڈر اور مختلف اداروں کے عہدیداروں کیخلاف الگ الگ مقدمات درج کرنے کی ہدایت کی۔

فیروزآباد پولیس سٹیشن میں اگلے روز عمارت کی زمین کے مالک عبدالقادت، منصوبے کا بلڈر، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیئرپرسن اور سیکریٹری، ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کے ڈئرایکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر نوید بشیر سمیت ایس ایم سی ایچ ایس کے عہدیداروں، ان کے ماتحتوں اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔

انویسٹی گیشن آفیسر کی جانب سے بشیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور تحقیقات کے لیے ان کے جسمانی ریمانڈ کی بھی درخواست کی گئی، ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران تسلیم کیا کہ وہ اس وقت ایس ایم سی ایچ ایس کی کابینہ کے اعزازی سیکریٹری تھے۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے عملے نے متعلقہ صوبائی اور شہری اداروں کے عہدیداروں کی ملی بھگت سے روڈ کے ایک حصے پر غیرقانونی قبضہ کیا، زیرحراست ملزم سے مزید انکشافات متوقع ہیں اور ان انکشافات کی روشنی میں کیس کے حوالے سے اہم دستاویزات برآمد ہوسکتے ہیں۔

نور عالم کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رکنیت ختم کرنے کی درخواست

کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے دلائل کی روشنی میں زیر حراست ملزم کی تفتیش کے لیے 14 روزہ ریمانڈ کی درخواست کی تاکہ تحقیقات اور دیگر قانونی معاملات مکمل کیے جا سکیں۔

جج نے اس کے برعکس 21 جنوری تک ریمانڈ کی اجازت دی اور تفتیشی افسر کو اگلی سماعت میں ملزم کو پیش کرنے کی ہدایت کی، جوڈیشل مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر کو اگلی سماعت میں تفتیشی رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

Back to top button