سپریم کورٹ میں تقسیم ختم ہونے کا امکان کیوں نہیں؟

رواں ہفتے کے دوران مختلف مقدمات کی سماعت کے لئے چیف جسٹس صاحب نے جو ”بنچ“ تشکیل دئے ہیں وہ اس تاثر کی نفی کرتے محسوس ہورہے ہیں کہ ہماری اعلیٰ ترین عدالت متحارب دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ مذکورہ تناظر میں ایک ایسا بنچ بھی بنایا گیا ہے جس میں ایک سینئر ترین جج اس جج کے ہمراہ بیٹھ کر فیصلہ کریں گے جن کے خلاف وہ جوڈیشل کمیشن سے ”کرپشن“ کے الزامات کی چھان بین کا تقاضہ کرچکے ہیں۔اگر محاورے والے شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے نظر آئے تو سپریم کورٹ میں تقسیم کا تاثر اسی ہفتے کے دوران ”بے بنیاد“ ثابت ہوسکتا ہے . ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ اپنی حکومت کی فراغت کا ایک سال گزرنے کے بعد عمران خان نے اتوار کے روز قوم سے خطاب فرمایا سابق وزیر اعظم اب بھی مصر ہیں کہ ان کی حکومت کے خلاف ”سازش“ ہوئی تھی۔گزشتہ برس ان کی مخالف جماعتوں نے باہمی اختلافات بھلاکر قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی تو عمران خان نے امریکہ کو اس کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی آزادانہ اور خودمختار روش سے اکتاکر دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کے دعوے دار امریکہ نے ”رجیم چینج“ کی سازش تیار کی۔
ان دنوں امریکہ میں پاکستان کے سفیر کو وہاں کی وزارت خارجہ کی درمیانی سطح کا ایک افسر ملا۔ اس نے عمران حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھجوانے کی ”تڑی“ لگائی۔ سفیر پاکستان نے مبینہ تڑی کو ”سائفر“ کے ذریعے حکومت پاکستان کو آگاہ کردیا۔عمران خان مگر گھبرائے نہیں۔ ”ہم کوئی غلام ہیں“ کا ورد کرتے سپرطاقت کے روبرو ڈٹ کرکھڑے ہوگئے۔ریاستی اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز ”میر جعفر“ اس ضمن میں بقول ان کے تاہم ”بکری“ ہوگئے۔ یوں عمران حکومت کے خلاف ”سازش“ کامیاب ہوگئی۔ خان صاحب مگر اب بھی سرنگوں نہیں ہوئے۔ ”حقیقی آز دی“ کی جنگ میں مصروف ہوچکے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ ہر صاحب ایمان اور محب وطن ہونے کے دعوے دار پاکستانی کو مذکورہ جنگ میں ان کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔ نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز ”قوم سے خطاب“ کی جو وڈیوز میں عمران خان امریکہ کو اپنے خلاف ہوئی ”سازش“ کا براہ راست ذمہ دار ٹھہراتے محسوس نہیں ہوئے۔ ایک برس گزرنے کے بعد تحریک انصاف کے قائد نے دریافت کیا ہے کہ ”سازش“ کا آغاز درحقیقت ہمارے طاقت ور ترین ادارے میں کلیدی عہدوں پر براجمان افراد نے کیا تھا۔دکھاوے کے لئے تین سے زیا دہ برس تک عمران خان وطن عزیز کے ”منتخب“ چیف ایگزیکٹو رہے ہیں۔اپنے ”تحریری آئین“ پر تکیہ کریں تو ”چیف ا یگزیکٹو“ کے علم اورمنشاءکے بغیر سرکار سے تنخواہ لینے والا طاقت ور ترین افسر- خواہ وہ سول سروس میں ہو یا عسکری اداروں سے وابستہ- از خود کوئی پیش قدمی نہیں لے سکتا۔
خان صاحب کا مگر یہ دعویٰ ہے کہ ان کی منظوری اور علم کے بغیر قمر جاوید باجوہ جیسے کلیدی عہدے داروں نے حسین حقانی کو جانے کتنی رقم پر اپنا ”سہولت کار“ بنالیا۔حقانی کو یہ ٹاسک سونپا گیا کہ وہ امریکی حکام کو سمجھائے کہ عمران خان ضرورت سے زیادہ ”وطن پرست“ ہیں۔امریکہ سے پنگالینے کو ہمہ وقت بے چین رہتے ہیں۔قومی سلامتی کے بارے میں فکر مند قمر جاوید باجوہ البتہ انہیں مسلسل ٹھنڈا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔
عمران خان کا اتوار والا خطاب میرے جھکی ذہن کو یہ سوال اٹھانے کو اکساتا رہا کہ اگر دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کے دعوے دار امریکہ کو پاکستان کے بارے میں درست معلومات کے حصول کے لئے فقط حسین حقانی کی فراست ہی سے رجوع کرنا پڑتا ہے تو اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں اس کا اتنا بڑا سفارت خانہ کیا کرتا ہے۔امریکی ٹیکس گزاروں کو اس کا نوٹس لینا چا ہیے۔ ”قومی بچت“ کے نام پر یہ سفارت خانہ بند کردیا جائے اور حسین حقانی سے رجوع کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں آگہی حاصل کریں
