عمران خان کیخلاف ریمارکس،اولمپین رشیدالحسن پر10 سال کی پابندی عائد

ملک میں آزادی اظہار رائے کے حوالے نیا تنازع سامنے آگیا،تازہ پیش رفت نے آزادی اظہار رائے پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں، ہاکی فیڈریشن آف پاکستان کی جانب سے سابق اولمپیئن رشید الحسن پردس سال کی پابندی عائد کردی گئی ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر ملک میں ہاکی کے زوال سے متعلق سوشل میڈیا پر جارحانہ کمنٹس کیے تھے۔

1984میں لاس اینجلس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے رشید الحسن نے غیر مہذب زبان استعمال کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے اور پابندی کو عدالت میں چیلنج کرنے پر غور کر رہے ہیں۔پی ایچ ایف کے جاری کردہ بیان میں کہاگیا کہ پی ایچ ایف کے صدر ریٹائرڈ بریگیڈئیر خالد سجاد کھوکھر اور سیکریٹری آصف باجوہ کی ہدایت پر رشید الحسن کی جانب سے پی ایچ ایف کے سربراہ اور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف غیر مہذب الفاظ کے استعمال سے متعلق تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

معاملے سے متعلق رشید الحسن کو 2 نوٹس بھیجے گئے جس پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا، بعدازاں کمیٹی نے پی ایچ ایف کے صدر کی ہدایت پر رشید الحسن پر 10 سال کی پابندی عائد کردی۔نوٹیفیکشن کی کاپی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کو بھی بھیج دی گئی ہے۔

مذکورہ معاملے پر بات کرتے ہوئے رشید الحسن  نے وزیر اعظم کےلیے غیر مہذب زبان کے استعمال کا تاثر رد کیا۔62 سالہ رشیدالحسن کا کہناتھا کہ’میں نے ہمیشہ سوشل میڈیا اور دیگر میڈیا پلیٹ فارم پر وزیر اعظم کا احترام کیا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’میں صرف واٹس ایپ گروپ پر یہ کہا تھا کہ کنٹینر پر عمران خان نے ہاکی کے کھیل کو صحیح راستے پر لانے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن گزشتہ 3 سالوں کے زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں‘۔

فیس بک صارفین میں ریکارڈ کمی، کمپنی کو اربوں ڈالر کا نقصان

اولمپیئن نے اپنے الفاظ پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان ہاکی کے لیے کچھ اچھا نہیں کریں گے‘۔راشد الحسن کا کہنا تھا کہ بطور شہری انہیں اظہار خیال کا حق حاصل ہے، لیکن انہوں نے کسی قسم کی غیر مہذب زبان کا استعمال نہیں کیا۔پی ایچ ایف کی جانب لگائی گئی پابندی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے راشد الحسن کا کہنا تھا کہ ان کے پاس فی الحال پی ایف کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔

راشد کے مطابق انہیں پی ایچ ایف کی جانب سے پہلا نوٹس 5 ماہ قبل موصول ہوا تھا، اس میں اتنا سنجیدہ مواد موجود نہیں تھا اس لیے اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’دوسرا وضاحتی نوٹس انہیں 45 روز قبل موصول ہوا ہے‘۔

انہوں نے دہرایا کہ ’میں نے پی ایچ ایف کو لکھے گئے مختصر جواب میں الزامات کی تردید کی اور کہا ہے کہ میں نے عمران خان کے خلاف غیر مہذب زبان کا استعمال نہیں کیا ہے‘۔ دریں اثنا، پی ایچ ایف نے پاکستان اسپورٹس بورڈ ( پی سی بی) درخواست کی ہے کہ پیمرا اور دیگر متعلقہ اداروں کو لیٹر جاری کرتے ہوئے راشد الحسن کی پابندی کے اقدامات اٹھائے جائیں۔

Back to top button