کیا کپتان کا راوی ریور پراجیکٹ آگے بڑھ پائے گا؟

تحریک انصاف حکومت کے سب سے بڑے منصوبے پر خدشات منڈلانے لگے،عمران خان کے فلیگ شپ راوی ریور فرنٹ منصوبے کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے قابل عمل سمجھتے ہوئے ایک نئی زندگی تو دے دی ہے لیکن قانونی موشگافیوں کو دیکھتے ہوئے دریائے راوی کے کنارے ’جدید شہر‘ بسانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا محال دکھائی دیتا ہے۔
سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے برخلاف حکومت پنجاب کو صرف اتنی اجازت دی ہے کہ اس نے جتنی زمین مالکان سے خرید لی ہے اس پر تعمیراتی عمل جاری رکھا جا سکتا ہے۔ راوی ریور منصوبے کے تحت دریائے راوی کے دونوں کناروں پر ایک لاکھ دو ہزار ایکڑ زمین درکار ہے۔ حکومت پنجاب نے ریور راوی فرنٹ منصوبے کے لیے ایک نیا ترقیاتی ادارہ روڈا کے نام سے قائم کیا تھا۔
روڈا کے ترجمان شیر افضل کے مطابق اس ادارے نے اب تک لگ بھگ پانچ ہزار ایکڑ زمین حاصل کر لی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کل 10 ہزار ایکڑ رقبے کے لیے روڈا کی جانب سے کسانوں کو رقم ادا کی جا چکی ہے اور اس کے علاوہ تقریباً 20 ہزار ایکڑ رقبہ ایسا ہے جو پہلے ہی سے حکومت کی ملکیت تھا۔ تاہم فی الحال روڈا اس سے زیادہ زمین نہیں خرید سکتی۔ یعنی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں روڈا اب صرف 20 ہزار ایکڑ رقبے پر ہی تعمیراتی کام کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں روڈا کی چند شقوں کو غیر آئینی اور زمین حاصل کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ شیر افضل کے مطابق روڈا نے پہلے مرحلے میں لگ بھگ دو ہزار ایکڑ پر بنائے جانے والے ’سیفرون بے‘ نامی منصوبے کے لیے ٹھیکہ دے رکھا ہے۔ یہ ٹھیکہ مقامی تعمیراتی کمپنیوں پر مشتمل ایک گروپ ’جاوداں گروپ‘ کو دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ روڈا نے حال ہی میں ’چہار باغ‘ نامی ایک منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔ روڈا ترجمان کے مطابق یہ سکیم لگ بھگ تین سو ایکڑ پر محیط ہے جس پر ترقیاتی کام روڈا خود کرے گی۔اس رہائشی منصوبے میں زندگی کی تمام تر سہولیات میسر ہوں گی جن میں سکول و کالج، یونیورسٹیاں، ہسپتال اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں روڈا خود پلاٹس بنا کر فروخت کرے گی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو سپریم کورٹ سے مشروط اجازت نہ ملتی تو روڈا اس نوعیت کے سکیموں پر ترقیاتی کاموں کو تب تک آگے نہیں بڑھا سکتی تھی جب تک وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق مطلوبہ تبدیلیاں نہ کر لیتی۔
ماہرین کے مطابق روڈا کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کے بعد ملنے والا حالیہ ریلیف اتنا ہی ہے کہ وہ خریدی گئی زمینوں پر ترقیاتی کام آگے بڑھا سکتی ہے۔ روڈا کا دعوٰی ہے کہ اس کے پاس 20 ہزار ایکڑ زمین ایسی موجود ہے جس پر وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ترقیاتی کام جاری رکھ سکتی ہے۔
اگر روڈا سرمایہ کار لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور اتنی زمین پر تعمیراتی کام کروا لیتی یے تو پھر قانونی کارروائی پر وقت لگنے کا بھی انھیں کوئی زیادہ نقصان نہیں ہو گا۔ ماہرین کے مطابق 20 ہزار ایکڑ زمین پر اگر ترقیاتی کام ہو جاتا ہے تو اس صورت میں منصوبے کی شکل ابھرنی شروع ہو جائے گی۔ اس کے بعد اس کو روکنا مشکل ہو گا۔
ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات جھوٹ ہیں
تاہم ناقدین کے مطابق دیکھنا یہ ہو گا کہ ایک ایسا منصوبہ جو عدالت میں ہے اس پر سرمایہ کاری کتنی ہو پاتی ہے۔ یاد رہے کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی روڈا نے اس منصوبے کو تین مرحلوں میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پہلے مرحلے کے لیے تقریباً 44 ہزار ایکڑ ، دوسرے کے لیے 28 ہزار ایکڑ اور تیسرے مرحلے کیے لیے 30 ہزار ایکڑ زمین درکار تھی۔
تاہم اب پروجیکٹ کا پہلا مرحلہ ہی 20 ہزار ایکڑ زمین تک محدود ہو گیا ہے۔ روڈا کا ارادہ پہلے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ساتھ باقی تینوں مراحل پر بھی کام جاری رکھنے کا تھا تاہم اس کے لیے بنیادی ضرورت زمین کا حصول ہے جس کا زیادہ تر حصہ کسانوں کا زیرِکاشت علاقہ ہے۔ گزشتہ برس جب متاثرہ کسانوں نے عدالت سے رجوع کیا تو لاہور کی عدالت نے روڈا کو زمین خریدنے کا عمل جاری رکھنے سے روک دیا تھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ کہا ہے کہ سالہا سال سے پراپرٹی ڈویلپرز کی خواہش رہی ہے کہ دریائے راوی کے کنارے آباد لوگوں کو کسی نہ کسی طرح یہاں سے نکال کر زرعی زمینوں کو رہائشی علاقوں میں بدلا جائے اور مال بنایا جائے۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے واضح کر دیا ہے کہ روڈا نے لاہور ریور راوی پراجیکٹ کیلئے کوئی ماسٹر پلان فراہم نہیں کیا تھا۔
اس کے بغیر کوئی بھی پراجیکٹ شروع ہی نہیں ہو سکتا۔ نیا بھر میں یہ قوانین ہیں کہ اگر کسی زرعی زمین کو اشد ضرورت کے تحت حاصل کیا جاتا ہے تو اتنی ہی زمین کو محفوظ کرنے کا بھی بندوست کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ اس سے مستقبل میں خوراک کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ عدالت نے کہا کہ راوی ریور پراجیکٹ جہاں شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا وہاں اہم فصلیں اور پھل اگتے ہیں۔
عدالت کے سامنے یہ پرابلم بھی آئی کہ پاکستان گذشتہ سال گلوبل ہنگر انڈیکس میں 116 ملکوں میں 92 نمبر پر آیا تھا۔ اگر اتنے بڑے رقبے پر مشتمل زمین پر شہر بنانے کی اجازت دیدی جائے تو خوراک کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ لاہور میں آج تک کوئی ایسی سکیم نہیں بنی جس کا رقبہ 75 ہزار ایکڑ ہو اس لئے راوی ریور پراجیکٹ ایک ناقابل عمل منصوبہ ہے جو صرف پراپرٹی ڈویلپرز کو نوازنے کی غرض سے بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
