شرپسند سویلین فوجی عدالتوں کی زد میں آگئے

جہاں ایک طرف پاک فوج نے تحریکِ انصاف کے احتجاج کے دوران عسکری تنصیبات اور املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث مظاہرین کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کا اعلان کیا ہے وہیں دوسری جانب حکومت نے بھی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت کے موقف کی تائید کر دی ہے جبکہ پنجاب کی نگران کابینہ نے شرپسندی کے کیسز فوجی عدالتوں میں چلانے کی منظوری دے دی ہے۔
خیال رہے کہ نو مئی کو پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد مشتعل مظاہرین نے کور کمانڈر ہاؤس لاہور، راولپنڈی میں فوج کے ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو جبکہ پشاور سمیت کئی دیگر مقامات میں عسکری تنصیات پر جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی تھی۔
جس کے بعد مسلح افواج کی کور کمانڈر کانفرنس میں شرپسندی میں ملوث افراد کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔منگل کو پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے ان حملہ آوروں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کی منظوری دی ہے وہیں بعض حلقے عام شہریوں یعنی سویلینز کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ جیسے سخت قوانین کے تحت کارروائی کی مذمت کر رہے ہیں اور وہ اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔صحافی، انسانی حقوق سے وابستہ کارکنان اور وکلا کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کو عالمی سطح پر ظالم حکومتیں خوف اور جبر کے آلات کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عام شہریوں پر کیسے لاگو ہوتے ہیں اور کارروائی کی صورت میں کیا سزائیں دی جا سکتی ہیں؟
خیال رہے کہ پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ان جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے جن کا ٹرائل اس ایکٹ کے تحت اس صورت میں ہوتا ہے جب ان جرائم کا ارتکاب فوجی اہلکار کریں۔ تاہم اسی ایکٹ کے اطلاق کے حوالے سے کچھ شقوں میں یہ قانون بعض صورتوں میں عام شہریوں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کی صورت میں ملزم کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کہا جاتا ہے اور یہ فوجی عدالت جی ایچ کیو ایجوٹنٹ جنرل (جیگ) برانچ کے زیر نگرانی کام کرتی ہے۔اس عدالت کا صدر ایک حاضر سروس فوجی افسر عموماً لفٹیننٹ کرنل رینک کا فوجی افسر ہوتا ہے، استغاثہ کے وکیل بھی فوجی افسر ہوتے ہیں۔ یہاں ملزمان کو وکیل رکھنے کا حق دیا جاتا ہے۔اگر کوئی ملزم پرائیویٹ وکیل رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو فوجی افسر ان کی وکالت کرتے ہیں، انھیں ’فرینڈ آف دی ایکیوزڈ‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں ہونے والی کارروائی کے بعد ملزم اپیل کا حق رکھتا ہے۔
2015 میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ نے21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی متفقہ منظوری دی تھی۔ان ترامیم کے تحت پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والے،سول اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والےدھماکہ خیز مواد رکھنے یا کہیں لانے لے جانے میں ملوث افراد، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے والےاغوا برائے تاوان کے مجرم، غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے میں ملوث افراد کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا دی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ماضی میں فوج کی جیگ برانچ سے منسلک رہنے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی میں دو ایسی شقیں موجود ہیں جن کے تحت عام شہریوں پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جن میں پہلی، جاسوسی یا عسکری راز فراہم کرنا اور دوسری فوجیوں کو حکم نہ ماننے پر اکسانا یا پھر فوج کے ادارے کے خلاف اکسانا شامل ہے۔کرنل (ر) انعام کا کہنا تھا کہ پہلی شق کے مطابق اگر کوئی شہری دشمن کو کوئی راز فراہم کرتا ہے اور اس کے ثبوت موجود ہیں تو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے گرفتار اور فوج میں اس پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
دوسری شق کے مطابق اگر کوئی شخص کسی کو فوجی کمان کے خلاف بغاوت، فساد برپا کرنے کے لیے اشتعال دلانے، اُکسانے یا ترغیب یا تحریک دینے کا سبب بنے تو اس صورت میں بھی فوج اس کے خلاف آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کے تحت مقدمہ چلا سکتی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’چاہے ایسا کسی تقریر کے ذریعے ہی کیا گیا ہو، اگر اس سے فوج کے خلاف اکسانے کا تاثر بھی ملے تو اس صورت میں بھی اس شخص کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔‘کرنل (ر) انعام رحیم کہتے ہیں کہ ’اگر کوئی شخص تقریر میں کہتا ہے کہ فوج یا اپنی کمان کا حکم نہ مانیں تو اس پر بھی یہ قانون لگے گا۔‘آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کے تحت کسی بھی سویلین کا معاملہ 31 ڈی میں لا کر اس کا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے پہلے اس سویلین کے خلاف کسی تھانے میں مقدمہ کے اندارج اور مجسٹریٹ کی اجازت ضروری ہے۔ان کے مطابق ’خاص کر جب فوج کو سویلین حکومت کی مدد کے لیے بلایا جائے، ان حالات میں فوج کو یہ اختیارات حاصل ہیں۔‘
خیال رہے کہ تحریکِ انصاف کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے تناظر میں پنجاب، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے امن و امان کے قیام کے لیے آئین کی شق 245 کے تحت فوج تعینات کی گئی تھی۔کرنل (ر) انعام کا کہنا ہے چونکہ اس معاملے میں فوج کو سویلین حکومت کی مدد کے لیے بلایا گیا تھا اور جب فوج سویلین حکومت کی مدد کو آئے اس صورت میں فوج کو لا اینڈ آرڈر کے لیے کچھ اضافی اختیارات بھی مل جاتے ہیں۔دوسری جانب یہ سوال بھی پیدا ہوت ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیا ہے اور اس کے تحت کیا سزائیں دی جاسکتی ہیں؟
انعام الرحیم کے مطابق آرمی ایکٹ میں شامل آفیشل سیکرٹ ایکٹ برطانوی دورِ حکومت سنہ 1923 میں بنایا گیا تھا اور تب سے چلتا آ رہا ہے۔اس کے مطابق اگر کوئی دشمن یا کسی بھی شخص کو فوج سے متعلق کوئی خفیہ معلومات فراہم کرے تو اس ایکٹ کے تحت اس ملزم کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ سیکرٹ ایکٹ میں سیکشن 2 ون ڈی میں کسی سویلین کے ٹرائل کا پورا طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت: سب سے پہلے اس شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے پھر اسے سیشن جج کے پاس پیش کیا جاتا ہے جس کے بعد مقدمے کو ملٹری کورٹ میں ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔
کرنل (ر) انعام کے مطابق اس میں سزاؤں کا انحصار جرم کی نوعیت پر ہے اور اس میں دو سال سے لے کر عمر قید اور سزائے موت تک کی سزائیں ہوسکتی ہیں۔عسکری تنصیبات پر حملوں کے تناظر میں کرنل (ر) انعام نے بتایا کہ ان افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے جنھوں نے مبینہ طور پر ان مقامات پر حملے کا منصوبہ بنایا یا اس کی ہدایت جاری کی۔ ’اس صورت میں فوج کو ان سویلینز کے خلاف ٹو ون ڈی کے تحت ٹرائل کا اختیار حاصل ہے۔
کرنل (ر) انعام الرحیم مزید کہتے ہیں کہ یہاں سیکشن 59 اور 60 لگائے گئے ہیں اور سیکشن 60 کا مطلب ہے سہولت کاری یعنی اگر کوئی شخص جائے وقوعہ، اس شہر میں یا پاکستان میں موجود بھی نہیں ہے اور ملک سے باہر ہے لیکن وہ فوج کے خلاف اکسانے میں مدد کا باعث بنا ہے تو اس پر بھی ٹو ون ڈی کا اطلاق ہوگا۔
