پاکستان کا جنگ بندی کے باوجود افغانوں کی ملک بدری میں تیزی لانے کا فیصلہ

 

وفاقی حکومت نے افغان طالبان کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ طے پا جانے کے باوجود پاکستان میں مقیم غیرقانونی افغان باشندوں کی ملک بدری کے عمل میں تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، غیر قانونی مقیم افغانوں کو سرحد دوبارہ کھلتے ہی  30 روز کے اندر ملک سے نکالنے کا حکم جاری کر دیا ہے

ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے یہ حکم نامہ ملک بھر کے تمام چیف سیکرٹریز، انسپکٹر جنرلز آف پولیس اور چیف کمشنرز کو بھجوا دیا گیا گیا ہے۔ جس میں انھیں بارڈرز دوبارہ کھلنے کے 30 دن کے اندر تمام غیر قانونی افغان مہاجرین کی وطن واپسی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے بقول پولیس سربراہان کی جانب سے متعلقہ ایس ایچ اوز کو واضح طور پر مطلع کیا گیا ہے کہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور کسی بھی کوتاہی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور سمیت صوبہ بھر میں افغان مہاجرین کیخلاف کارروائی کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ جیسے ہی بارڈرز آمد و رفت کیلئے کھلیں گے فوری طور پر غیر قانونی افغان باشندوں کی ملک بدری کی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر قانونی افغان باشندوں کے حوالے سے متعلقہ یونین کونسلز کے ناظمین اور سیکریٹریز سے بھی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب میں افغان مہاجرین سے گھر اور دکانیں خالی کرانے کے اعلانات کے بعد وہاں پر اکثریتی مالکان نے اپنے مکان اور دکانیں افغانوں سے واپس لے لی ہیں۔ تاہم پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع سے ایسی معلومات مل رہی ہیں کہ یہاں ابھی تک افغان مہاجر کاروبار بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور کرائے کے گھروں میں بھی مقیم ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض افغان مہاجرین نے کرائے کے بجائے اپنے دوستوں کے گھروں میں پناہ لی ہوئی ہے۔ جن کی چھان بین بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے نے واپس نہ جانے کا بہانا سرحد کی بندش کو قرار دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ طورخم بارڈر ہر قسم کی آمد و رفت کیلئے بند ہے اور جب بارڈر کھل جائے گا، وہ بھی واپس چلے جائیں گے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ بارڈر کو بند ہوئے صرف دو ہفتوں سے کچھ زائد کا وقت ہوا ہے۔ جبکہ افغان باشندوں کو کئی بار واپس جانے کی ڈیڈ لائن دی جاچکی ہے۔ لیکن وہ بدستور حیلے بہانوں سے کام لے رہے ہیں۔ جس پر اب ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

بعض اطلاعات و ذرائع کے مطابق پنجاب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت کارروائیوں کے بعد افغانوں کی بڑی تعداد نے خیبرپختون کے مختلف اضلاع کا رخ کر لیا ہے اور وہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔ کیونکہ پنجاب کے مقابلے میں پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں ابھی تک غیر قانونی طور پر رہنے والے افغان مہاجرین کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اب پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ جبکہ اس میں تاجر اور سرمایہ داروں کا ڈیٹا بھی تیار کرلیا گیا ہے اور جیسے ہی سرحد آمد و رفت کیلئے کھلتی ہے، غیر قانونی مقیم افغانوں کو واپس افغانستان بھجوانے کیلئے اقدامات شروع کر دیئے جائیں گے اور ایک مہینے کے اندر اندر تمام افغان مہاجرافغانستان میں ہوں گے۔

Back to top button