پاکستانی ایئرسپیس کی بندش: انڈیا کی امریکہ کے لیے پروازیں بند

انڈین جہازوں کے لیے پاکستانی ائیر سپیس کی مسلسل بندش سے بھاری مالی نقصان کے باعث ایئر انڈیا بالآخر امریکہ کیلئے اپنی پروازیں معطل کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ انڈین ایئر لائنز نے اعلان کیا ہے کہ تین ماہ سے پاکستانی فضائی حدود کی بندش اور مسافر طیاروں کی کمی کے باعث اس نے یکم ستمبر سے دلی سے واشنگٹن کے درمیان چلنے والی پروازیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئی دہلی اور واشنگٹن ڈی سی کے درمیان پروازوں کی معطلی ایئر انڈیا کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایئر انڈیا جون میں احمد آباد میں ایک ہوائی حادثے کے بعد سخت ریگولیٹری جانچ پڑتال کے عمل سے گزر رہی ہے، اس حادثے میں 260 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ایئر انڈیا کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے طویل فاصلے کی پروازوں کے روٹس کو اور بھی لمبا اور آپریشنز کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ویسے بھی پاکستانی فضائی حدود کی بندش ایئر انڈیا کو تین ماہ میں 15 کروڑ ڈالرز کا نقصان پہنچا چکی ہے اور 12 ماہ میں یہ نقصان 60 کروڑ ڈالرز تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ لہذا امریکہ کے لیے ایئر انڈیا کی پروازیں بند کی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان نے ایک دوسرے کی فضائی حدود تب بند کی تھیں جب مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے کے بعد دونوں ملک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے، امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی میں سیز فائر طے پا جانے کہ باوجود دونوں ممالک نے اپنی اپنی ایئر سپیس ایکدوسرے کے لیے بند کر رکھی ہے۔ انڈیا کو اس بندش کی وجہ سے پاکستان کے مقابلے میں چار گنا زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ جانے کے خواہش مند مسافر اس کے پارٹنرز یعنی الاسکا ایئر لائنز، یونائیٹڈ ایئر لائنز اور ڈیلٹا ایئر لائنز کے ذریعے نیو یارک، شکاگو اور سان فرانسسکو کے راستے واشنگٹن ڈی سی پہنچ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کے بعد جوابی کارروائی میں اپنے رافیل جنگی طیاروں کی تباہی کے بعد سے پاکستان اور انڈیا کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی اب تک ختم نہیں ہو سکی۔ پاکستان اور انڈیا نے اس کشیدگی کے نتیجے میں اپنی اپنی فضائی حدود کو ایک دوسرے کی پروازوں کے لیے بند کر دیا تھا اور تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ابھی تک دونوں ملکوں کے درمیان موجود فضائی روٹس کی بحالی ممکن نہیں ہو سکی۔
تاہم دونوں ملکوں کے حکام نے فضائی حدود کی بندشوں کے باعث ہونے والے مالی نقصان کا اعتراف کیا ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ 24 اپریل سے 30 جون 2025 تک انڈین پروازوں کیلئے فضائی حدود کی بندش سے پاکستان کی آمدن میں4 ارب روپے کی کمی ہوئی جبکہ انڈیا کے وزیر برائے ایوی ایشین امور کا کہنا ہے کہ اس سال ریگولیٹری اور جیو پولیٹیکل مسائل کی وجہ سے 2,458 پروازیں منسوخ یا ری شیڈول کی گئیں جس سے بھارت کو اربوں روپے کا بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ’اگرچہ اس بندش سے پاکستان کو کسی حد معاشی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا لیکن جب بات اپنی خود مختاری اور قومی سلامتی کی ہو تو کوئی بھی قیمت زیادہ نہیں ہوتی۔ انکا کہنا تھا کہ اپنے ملک کا دفاع ہمیشہ اہم رہے گا۔‘ اسکے علاوہ پاکستانی ایئرلائنز کے بعض روٹ متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق انڈین فضائی حدود کی پاکستانی پروازوں کے لیے بندش کے بعد پاکستان کی ایئرلائنز کا کوئی خاص خسارہ نہیں ہوا کیونکہ پی آئی اے کی ہفتے میں چھ پروازوں کے علاوہ کوئی ایئر لائنز انڈین فضائی حدود استعمال ہی نہیں کرتی تھیں۔ پی آئی اے ترجمان نے بتایا تھا کہ پی آئی اے کی ہفتے میں تین پروازیں پاکستان سے کوالالمپور جاتی ہیں اور تین پروازیں کوالالمپور سے پاکستان آتی ہیں۔ پی آئی اے ترجمان نے بتایا کہ کوالالمپور کے لیے پی آئی اے کی پرواز اب چین کے روٹ سے جاتی ہیں جس سے مسافت اور ایندھن کی لاگت بڑھی ہے۔ پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق انڈین فضائی حدود بند ہونے سے پاکستان ایئر لائنز انڈسٹری کے لیے مالی خسارہ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ انڈین فضائی حدود استعمال کرنے والی پاکستانی پروازوں کا حجم بہت کم ہے۔
دوسری جانب بھارت کو زیادہ نقصان اس لیے ہو رہا ہے کہ اس کی پروازیں وسطی و مغربی ایشیا، یورپ، برطانیہ اور امریکہ کا سفر اب بحیرۂ عرب یا وسطی ایشیا کے طویل راستے سے کر رہی ہیں جبکہ پہلے یہی سفر پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے کی وجہ سے کم ہو جاتا تھا۔ جب انڈین ایئرلائنز یہ متبادل روٹ استعمال کرتی ہیں تو اس کے ایندھن پر اخراجات بڑھ کر دوگنا ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی ایئر سپیس کی بندش کی وجہ سے ایئر انڈیا اور دلی ایئرپورٹ سب سے ذیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
دلی سے ایئر انڈیا کی یورپ اور شمالی امریکہ کے لیے ہفتہ وار 134 پروازیں اڑان بھرتی ہیں جو پہلے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ دلی ایئرپورٹ سے سعودی، متحدہ عرب امارات، عمان، کویت، قطر اور بحرین کے لیے ہفتہ وار اڑنے والی 144 دیگر پروازیں بھی پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی تھیں۔ یعنی ایک ہفتے میں دلی ایئرپورٹ پر اوسطا 300 پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔
یاد رہے کہ ایئر لائنز کسی بھی ملک کے اوپر سے پرواز کرنے کے عوض ایک فیس ادا کرتی ہیں جسے ’اوور فلائٹ فیس‘ کہا جاتا ہے۔ جیسے کسی بھی ملک کو اپنی زمین کے حقوق حاصل ہوتے ہیں ویسے ہی انھیں اپنی فضائی حدود پر بھی مالکانہ حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ممالک اپنی اپنی فضائی حدود کو غیر ملکی ایئر لائنز کو ’کرائے پر‘ دیتے ہیں اور وہ ایئر لائنز اس کے ذریعے پرواز کرتی ہیں۔کچھ ممالک ہوائی ٹریفک کنٹرول کی سروسز بھی فراہم کرتے ہیں۔ فیس کا کچھ حصہ ان سروسز کے لیے بھی ہوتا ہے۔
دیگر ملکوں کی طرح پاکستان کے لیے بھی ایئرلائنز سے ملنے والا یہ فضائی کرایہ آمدن کا ذریعہ ہے۔ پاکستان غیر ملکی طیاروں کے ٹیک آف کے وقت وزن اور کلومیٹرز میں پرواز کے فاصلے کے اعتبار سے اوورفلائٹ فیس کا تعین کرتا ہے۔ بعض اوقات ایئر لائنز اس فیس سے بچنے کے لیے لمبے روٹس بھی اپناتی ہیں لیکن کسی فضائی حدود سے بچنا اتنا آسان بھی نہیں کیونکہ یہ کسی ملک کے سائز سے بھی زیادہ بڑی ہو سکتی ہے۔
