سب سے زیادہ اسرائیلی لڑاکا طیارے گرانے والا پاکستانی پائلٹ کون؟

کسی بھی ایک پائلٹ کی جانب سے سب سے زیادہ اسرائیلی لڑاکا طیارے گرانے کا ریکارڈ آج بھی پاکستان ائیر فورس کے پائلٹ سیف الاعظم کے نام ہے. انہوں نے یہ کارنامہ 1967 کو دوسری عرب اسرائیل جنگ کے چھ روز میں اسرائیلی ایئر فورس کے تین جہاز مار گرا کر سر انجام دیا. پانچ جون 1967 کو دوسری عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی جو صرف چھ روز تک جاری رہی۔ مصر، اردن، شام اور عراق نے اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا۔ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں، غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے جس میں مشرقی بیت المقدس کا علاقہ بھی شامل تھا اس پر قبضہ کر لیا۔ اسرائیل نے 1948 میں جتنے علاقے پر قبضہ کیا تھا 1967 کی جنگ میں اس نے اس سے چار گنا زیادہ علاقہ ہتھیا لیا۔ عرب دنیا میں اس واقعے کو آج بھی شدید دھچکہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس جنگ کے بعد عرب اسرائیل تنازع مزید گہرا ہوا گیا۔ اس جنگ میں اسرائیل کی فتح کی اہم وجہ امریکہ ہتھیار تھے جبکہ عربوں کے پا س مقابلے کے لیے روسی اسلحہ تھا جو امریکہ ہتھیاروں کی مقابلے پر کم کارگر ثابت ہوا۔ تاہم اس جنگ میں پاکستان ایئر فورس کے ایک پائلٹ نے بہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ اس نے چھ دن میں نہ صرف اسرائیلی ایئر فورس کے جہاز مار گرائے بلکہ اردن اور عراق کو بڑے نقصان سے بچا لیا۔ پاکستانی ہوا باز اردن، مصر اور عراق کی فضائیہ کی جانب سے لڑے اور اسرائیلی فضائیہ کے 3 جہازوں کو مار گرایا جبکہ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ عرب ممالک نے پاکستان سے اپیل کی کہ اسرائیل نے اچانک حملہ کردیا ہے اور ان کے پاس ماہر پائلٹ نہیں ہیں۔ اس پر فلسطینی کاز کی حمایت میں ذوالفقار علی بھٹو نے فوری طور پر ایک درجن سے زائد پائلٹ شام بھیجے جنہوں نے داد شجاعت دی اور اسرائیل پر کئی کامیاب پروازیں کیں اور عرب ممالک میں بمباری کرنے آنے والے تین جہازوں کو مار گرایا جب کہ اسرائیلی زمینی دستوں کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا۔ انہوں نے درجنوں جاسوسی پروازیں کر کے بھی توپ خانے کی مدد کی جب کہ پسپائی میں بھی عرب فوج کو ہوائی مدد دے کر محفوظ بنایا۔ کسی بھی ایک پائلٹ کی جانب سے سب سے زیادہ اسرائیلی جہاز گرانے کا ریکارڈ آج بھی سیف الاعظم کے نام ہے۔ جنگی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی پائلٹ سیف الاعظم ہی تھے جس نے کہ اردن کی ایئر فورس کو مکمل تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ورنہ مصر کی ایئر فورس تو اس جنگ میں 90 فیصد ناکارہ ہو گئی تھی۔ سیف الاعظم تاریخ میں وہ واحد ہواباز ہیں جنہیں چار ممالک پاکستان، اردن، عراق اور بنگلہ دیش کی طرف سے جنگی جہاز اڑانے کا اعزاز حاصل ہوا اور جنہوں نے دو ملکوں کے جنگی جہاز تباہ کیے۔ انہیں تین ملکوں کی جانب سے بہادری کے تمغے عطا ہوئے جن میں اردن، عراق اور پاکستان شامل ہیں۔ سیف الاعظم نے 1965 کی جنگ میں ایک بھارتی جہاز مار گرایا تھا انہوں نے 19ستمبر کو سرگودھا ایئر بیس سے ایف 86 اڑاتے ہوئے یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا جبکہ دشمن کے ایک دوسرے جہاز کو بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ ۔ 1966 میں انہیں اردن کی ایئر فورس میں ڈپوٹیشن پر بھیجا گیا جس کا مقصد وہاں کے ہوا بازوں کی تربیت تھا۔ مگر جب عربوں کی اسرائیل کے ساتھ جنگ چھڑ گئی تو پاکستان کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد وہ بھی اس میں شامل ہو گئے۔ جب اسرائیل نے اردن کے سب سے اہم ہوائی اڈے مفرق پر حملہ کیا تھا تو سیف الاعظم نے ایک اسرائیلی جہاز مار گرایا اور دوسرے سے بھی دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ دو دن بعد اسرائیل نے عراق کے ایک ہوائی اڈے پر حملہ کیا تو یہاں بھی ان کا مقابلہ سیف الاعظم سے ہوا جنہوں نے دو اسرائیلی جہاز مار گرائے۔ ۔ اس جنگ میں مجموعی طور پر جتنا اسلحہ عرب ممالک کے پاس تھا وہ اسرائیل کے مقابلے پرکئی گنا زیادہ تھا، مگر اسرائیل کو برتری اس لحاظ سے تھی کہ اس کا اسلحہ جدید ترین تھا جو امریکی اور فرانسیسی ساختہ تھا جبکہ عرب اتحادیوں کے پا س زیادہ تر ہتھیار روسی ساختہ تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوجی جدید ترین جنگی اصولوں پر تربیت یافتہ تھے۔ اسرائیل کی فوج کی مجموعی تعداد بھی 50 ہزار جبکہ صرف مصر کی دو لاکھ 40 ہزار، شام، اردن اور عراق کی فوجوں کی تعداد تین لاکھ سے اوپر تھی۔ اس طرح اسرائیل کے مقابلے پر عربوں کی فوج 10 گنا زیادہ تھی۔ عربوں کے پاس 957 جہاز اور 2504 ٹینک تھے جبکہ اسرائیل کے پاس صرف 300 جہاز اور 800 ٹینک تھے۔ صرف چھ روز میں عربوں کا جانی نقصان تقریباً 12ہزار اور اسرائیل کا صرف 900 کے قریب تھا۔ اس چھ روزہ جنگ میں عرب ممالک کے 452 جہاز اور اسرائیل کے صرف 46 تباہ ہوئے۔
