ماں باپ اور آپ!!

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
اگر آپ نے اپنے ماں باپ کو اکیلا چھوڑ دیا ہے، یا آپ نے اپنے دل کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیا ہے کہ میرے بھائی بہن اُن کا اچھا خیال رکھ رہے ہیں، اس لیے میری ذمہ داری ختم ہو گئی، تو آپ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اگر آپ کی زندگی کی ترجیحات میں آپ کا کیریئر، کاروبار، بیوی بچے اور دنیا کی دوسری مصروفیات تو شامل ہیں مگر والدین کہیں نظر نہیں آتے، تو یہ ایک ایسی کمی ہے جسے دنیا کی کوئی کامیابی پورا نہیں کر سکتی۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر ماہ کچھ رقم والدین کو بھیج دینا کافی ہے۔ وہ خوش ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماں باپ کو صرف پیسوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اُنہیں آپ کی موجودگی چاہیے، آپ کی محبت چاہیے، آپ کا وقت چاہیے۔ اُنہیں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ آپ اُن کے پاس بیٹھیں، اُن کی بات سنیں، اُن کے ہاتھ چومیں، اُن کے ماتھے پر بوسہ دیں اور اُنہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ آج بھی آپ کی زندگی کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جو آپ کے دنیا میں آنے کا وسیلہ بنے، راتوں کی نیندیں قربان کیں، اپنی خواہشات کو آپ پر نچھاور کیا، اور اپنی زندگی کا بہترین حصہ آپ کی پرورش میں گزار دیا۔ آپ کی خوشی کو اپنی خوشی اور آپ کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا۔ اگر آج آپ کسی مقام پر ہیں، عزت، شہرت اور دولت رکھتے ہیں، تو اس میں آپ کی محنت کے ساتھ ساتھ والدین کی دعاؤں کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ آپ دنیا کے کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز کیوں نہ ہوں، کتنے ہی مالدار، بااثر یا صاحبِ اقتدار کیوں نہ ہوں، اگر آپ اپنے ماں باپ کی خدمت نہیں کر رہے، اُن کے ساتھ وقت نہیں گزارتے، اُنہیں محبت سے گلے نہیں لگاتے، تو یقیناً آپ ایک بڑی نعمت سے محروم ہیں۔ دنیا آپ کو کامیاب سمجھ سکتی ہے، مگر حقیقت میں آپ ایک بہت بڑی بدقسمتی کے شکار ہیں۔ اور اگر آپ کے والدین اس دنیا سے جا چکے ہیں تو آپ کی ذمہ داری ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ اب اُن کے لیے دعا کرنا، اُن کے نام پر صدقہ دینا، اُن کے لیے مغفرت مانگنا آپ پر قرض ہے۔ آپ کی ایک سچی دعا اُن کی قبر کو روشن کر سکتی ہے۔ آپ کی ایک نیکی اُن کے درجات بلند کر سکتی ہے۔ آپ کا صدقہ اُن کے لیے ایسا صدقہ جاریہ بن سکتا ہے جو آخرت میں اُن کے لیے نجات کا ذریعہ بن جائے۔ کتنا افسوسناک ہے کہ ہم اپنے فوت شدہ والدین کے لیے چند منٹ نکالنے میں بھی کوتاہی کرتے ہیں۔ ہم دنیا بنانے میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ اُن ہستیوں کو بھول جاتے ہیں جنہوں نے ہماری دنیا بنانے کے لیے اپنا سب کچھ لگا دیا۔ ہم ایسی دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جسے ایک دن ہمیں خود بھی چھوڑ جانا ہے، مگر اُن والدین کے لیے دعا نہیں کرتے جو ہماری ایک دعا کے منتظر ہیں۔ اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو اُن کی قدر کیجیے۔ اُن کے پاس جائیے، اُن کے ساتھ وقت گزاریے، اُن کے ہاتھ اور ماتھا چومیے اور اُن کی دعائیں لیجیے۔ اور اگر وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں تو اُنہیں اپنی دعاؤں میں زندہ رکھیے۔ یاد رکھیے، والدین کی رضا اور دعا بہت بڑی کامیابی، اور اُن کی خدمت اور محبت سے محروم ہو جانا ہے زندگی کی بہت بڑی محرومی اور ناکامی ہے۔

 

Back to top button