بوریت کے فوائد

تحریر: حماد غزنوی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
اماں جانی سے اظہرہ آنٹی ملنے آئیں، معمول کے مطابق ہمیں بھی بلایا گیا کہ سلام کر لیں، ہمارا کچھ دیر مہمان کے ساتھ بیٹھنا بھی آداب میں شامل تھا، اسی نشست میں (قریباً نصف صدی قبل) آنٹی نے ایک جملہ بولا جو ہمیں یاد رہ گیا، اپنے بچوں کی عادات پر روشنی ڈالتے ہوئے شکایتاً فرمانے لگیں کہ آج کل کے بچے بھی عجیب ہیں، تھوڑی تھوڑی دیر بعد کہتے رہتے ہیں میں "بور” ہو رہا ہوں۔ کوئی کام کہہ دیں تو کہتے ہیں "موڈ” نہیں ہے۔ پھر کہنے لگیں "ہمارے زمانے میں "بوریت” اور”موڈ” نہیں ہوا کرتے تھے، ہم نے تو یہ لفظ بھی نہیں سنے تھے۔‘‘

بوریت لفظ کے گرد ایک ناخوش گوار سا ہالہ ہے۔ سادہ لفظوں میں "بوریت” کا مطلب ہے کرنے کیلئے کچھ نہیں ہے، کسی چیز بارے تجسس نہیں محسوس ہو رہا، دماغ اور جذبات میں کوئی تحریک نہیں ہے۔ جسکا نتیجہ بے چینی، خالی پن اور مرگِ عزم ہوا کرتا ہے۔ کیکے گاؤ جیسے فلسفیوں نے تو بوریت کو "تمام برائیوں کی جڑ” قرار دے دیا۔ اس کا خیال تھا کہ نفسیاتی سطح پر انسان کو ہر دم تحرک درکارہے، تبدیلی کی خواہش ہے، معنیٰ کی تلاش ہے، یعنی انسانی دماغ ایک مخصوص معنیٰ میں انتشار طلب ہے۔ اور انسان کی اکثر مصروفیات”بوریت”مٹانے کے طریقے ہیں یعنی گپیں ہانکنا، مسلسل خواہشِ حصولِ لذت، اَن حد تفریح، اکثر سماجی روابط، خواہشِ تخریب وغیرہ وغیرہ۔ اب لمحہء موجود میں آ جائیں۔ ڈیجیٹل میڈیا پر ہر لمحہ،نیا طور،نئی،برقِ تجلی، میسر ہے، منظر مسلسل بدلتا رہتا ہے، کبھی ہم اِدھر دیکھتے ہیں، کبھی اُدھر، منظر پر منظر چڑھا ہوا ہے، صوت پر صوت، آنکھ گھبرائی ہوئی ہے، سوچنے کا وقت نہیںہے، حواس معلومات اکٹھی کرتے رہتے ہیں، دماغ انہیں ضائع کرتا رہتا ہے، بدحواسی سی بدحواسی ہے۔ پھر اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ بوریت کا نام و نشان مٹ چکا ہے؟فلسفیوں کی طرف واپس چلتے ہیں جن کا خیال ہے کہ ’’بوریت‘‘ تو اچھی ہوتی ہے، یا یوں کہہ لیں کہ اسکے بہت سے فوائد بھی ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بوریت خلاقی کا در باز کرتی ہے، غور و فکر پر اکساتی ہے، نئے افق تلاش کرنے پر مائل کرتی ہے، اور خود سے ملاقات کا اہتمام کرتی ہے۔ یعنی جب باہر کی دنیا تحرک فراہم نہیں کرتی تو اندر کی دنیا جاگ اٹھتی ہے، باطن آئینہ بن جاتا ہے، اپنا چہرہ نظر آنے لگتا ہے، آپ اپنے رو بہ رو ہونا آسان نہیں ہوتا، سوال پیدا ہونے لگتے ہیں، جھنجھوڑنے لگتے ہیں، زندگی کا مقصد کیا ہے اور مجھے کن کاموں میں اپنی توانائی صرف کرنا چاہیے۔ڈیجیٹل دنیا کے مکین بھوت پریت سے کہیں زیادہ ’’بوریت‘‘ سے ڈرتے ہیں، ہمیں ہر لحظہ ڈیجیٹل سٹمیو لیشن درکار ہے، بوریت سے ہر قیمت پر بچنا ہماری زندگی کا منشور ہے، ڈیجیٹل خاموشی ہمیں بے کل کر دیتی ہے، وائی فائی سگنل میسر نہ آئیں تو ہماری بے چینی دیدنی ہو جاتی ہے۔ یعنی ہماری زندگی کی سب سے بڑی attraction اب distraction ہے۔ یہ ایک لت ہے جس میں یہ عہد گرفتار ہے۔ اس منظر سے تو یوں لگ رہا ہے جیسے ہم نے بوریت کا علاج ڈھونڈ لیا ہے، اب ہم کبھی بور نہیں ہوں گے۔ مگر اب ایک اور مسئلہ درپیش ہے، تماشے کی مسلسل ہوس اور اسکے پیہم تعاقب سے ہم بوریت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ وہی ریلز وہی پوسٹس، وہی شاٹس وہی ویوز اور لائکس۔ بہرحال، بوریت کی موجودہ شکل نے جسے غالباًڈیپریشن کہا جاتا ہے، ہم سے یک سوئی کا ہنر چھین لیاہے۔ یاد رہے کہ ڈس ٹریکشن چالاک حکومتوں کا سب سے موثر ہتھیار ہوا کرتا ہے۔ شہریوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائے رکھنا بالخصوص آمرانہ حکومتوں کا ایک بنیادی ہدف ہوتا ہے، شہریوں کو جذباتی سطح پرمصروف رکھنا، لگاتار تفریح فراہم کرنا، حواسوں کو تھکا دینا، تاکہ وہ سیاسی شعور کے”مرض” سے محفوظ رہیں۔ اگلے وقتوں میں لوگوں کو سیاست سے دور رکھنے کا سب سے موثر طریقہ طاقت کا استعمال تھا، طاقت کا استعمال اب بھی کارگر ہے مگر اس سے بھی تیر بہ ہدف نسخہ ڈس ٹریکشن ہے، حقیقت کو خرافات میں گم کر دیا جائے، سچ کو لغویت کے انبار میں دبا دیا جائے، کس نے کانز فلم فیسٹیول پر کیا پہنا، کراچی لاہور کے کھانوں کی جنگ میں کس شہر کی جیت ہوئی، کس ٹی وی میزبان کو اسکے خاوند نے شو میں اٹھا لیا۔ کالم کا دامن تنگ ہے مگر اس بحث میں دو بزرگوں کا ذکر ضروری ہے۔ جارج آرول نے اپنے ناول 1984 میں جو ڈائی سٹوپیا تخلیق کیا تھا وہ خوف اور جاسوسی کے ستونوں پر کھڑا جبر کا نظام تھا، جب کہ الڈوس ہکسلے نے بریو نیو ورلڈ میں جو ریاست دکھائی وہ ڈس ٹریکشن اور لذت کے ستونوں پر استوار ہے، جہاں لوگ اپنی رضا بلکہ خواہش سے آزادی ترک کر دیتے ہیں۔ آج کل کے حالات میں ہکسلے کی پیش بینی بالخصوص حیران کُن ہے۔قدیم ریاستیں بھی چاہتی تھیں رعایا کا دھیان بٹا رہے سو کبھی محیر العقول اہرام بنائے جاتے تھے اور کبھی عظیم الشان محل، کبھی فلک بوس مینار اور کبھی کھیلوں کے حیرت انگیزسٹیڈیم۔ پچھلی صدی میں ڈس ٹریکشن کے بہت سے آلات ایجاد ہوئے اور خوب استعمال بھی ہوئے مگر وہ کیا کہتے ہیں کہ "نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب”، یعنی ڈیجیٹل میڈیا نے جس طرح دماغوں کو چورا چورا کیا ہے وہ اسی کا حصہ ہے۔ ہماری نظروں کے سامنے ایک تہذیب شخصی آزادی، چوائس، انفارمیشن اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر دیوانگی کی دہلیز تک آن پہنچی ہے۔

پس نوشت: کالم لکھ کر سوشل میڈیا کا رخ کیا تو احساس ہوا کہ شاید ہم نے غلط موضوع پر کالم لکھ دیا ہے، اس ہفتے کی سب سے ’’اہم خبر‘‘ تو کوکین کوئین انمول پنکی ہے۔

 

Back to top button