عمران اب سب سے بڑے ڈاکو سے کیوں نہیں ملنا چاہتا؟

چودھری مونس الٰہی کے بہکاوے اور دباؤ میں آکر اپنے بھائی جیسے کزن چودھری شجاعت حسین کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر عمرانڈو ہق جانے والے چودھری پرویز الٰہی جلد در بدر ہونے والے ہیں۔ پی ٹی آئی سے وفاداری کیلئے ہر طرح کی یقین دہانیاں کروانے کے باوجود عمران خان چودھری پرویز الٰہی پر اعتماد کرنے پر قطعا آمادہ نظر نہیں آتے۔ عمران خان نے چودھری پرویز الہی لو اسٹیبلشمنٹ کی ٹیم کا حصہ قرار دے کر ان سے دوری اختیار کر رکھی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے صدر پرویز الہی پچھلے کچھ عرصے سے سیاسی منظرنامے سے بھی غائب رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے پارٹی چھوڑنے کے حوالے سے بہت قیاس آرئیاں چل رہی ہیں۔ اگرچہ انھوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اس کی نہ صرف تردید کی ہے بلکہ عمران خان کو اپنی وفاداری کا یقین بھی دلایا ہے تاہم عمران خان یہ سمجھ چکے ہیں کہ جو بندہ اپنے بھائی اور خاندان کا نہیں بن سکا وہ ان سے یا تحریک انصاف سے کیا وفا کرے گا۔دوسری جانب چودھری پرویز الٰہی کی تحریک انصاف سے دوری بارے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پرویز الہی نے پچھلے چند دن سے 4مرتبہ عمران خان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے مگر ان کا عمران خان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پرویز الہی سے ناراض ہیں۔ ناراضی کی وجہ پوچھنے پر رہنما نے بتایا کہ ناراضی کی بڑی وجہ پرویز الہی عمران خان کی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانئے سے اتفاق نہیں کرتے۔ عمران خان جیل بھرو تحریک کے حوالے سے بھی پرویز الہی سے ناراض ہیں۔
جب پی ٹی آئی رہنما سھ پوچھا گیا کہ کیا پرویز الہی پی ٹی آئی کو خیر باد کہہ سکتے ہیں ؟ تحریک انصاف کے رہنما نے بتایا کہ پرویز الہی پارٹی چھوڑ سکتے ہیں، وہ 9مئی کے بعد والا دباؤ برداشت نہیں کر سکتے۔ پرویز الہی اب بھی ڈیل کے چکر میں ہیں کہ کسی طرح ڈیل ہو جائے تو تحریک انصاف کی صدارت سے استعفی دے دوں، اگر ڈیل نہ بنی تو وہ خاموش رہیں گے۔ کافی امید ہے کہ وہ جلد دوبارہ ق لیگ جوائن کر لیں گے۔
دوسری جانب 9 مئی کے واقعات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما آئے روز پریس کانفرنسز کر کے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ کوئی9 مئی کے واقعات کو بنیاد بنا کر پارٹی سے علیحدگی اختیار کر رہا ہے تو کوئی ٹکٹ نہ ملنے کا غصہ پارٹی چھوڑ کر نکال رہا ہے۔ تحریک انصاف کی اہم رہنما شیریں مزاری اور فیاض الحسن چوہان بھی پارٹی چھوڑنے والوں میں تازہ ترین اضافہ ہیں۔ خیال رہے کہ 25؍اپریل 1996ء کو تحریک انصاف کے قیام کے بعد سے ان 27برسوں میں کئی رہنماؤں نے پارٹی چھوڑی یا منحرف ہوئے۔اسی طرح چوہدری پرویز الہی کے کزن چوہدری وجاہت حسین نے بھی پارٹی چھوڑ دی۔لاہور میں پاکستان مسلم لیگ ق کے جنرل سیکرٹری شافع حسین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وجاہت حسین نے میڈیا کو بتایا کہ پورا پاکستان فوجی تنصیات پر حملے کی مذمت کر رہا ہے۔ ہمارے خاندان کے کچھ فیصلے درست نہیں تھے، ان لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ان کے فیصلے درست نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت کا بڑا دل ہے، جو لوگ واپس آنا چاہتے ہیں، انہیں لے رہے ہیں، جو خاندان کے لوگ پی ٹی آئی میں گئے ہیں، ان سے کہوں گا کہ پی ٹی آئی چھوڑ کر واپس ق لیگ میں آجائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا بیٹا بیرون ملک سے واپس آکر ق لیگ جوائن کرے گے۔
چوہدری وجاحت حسین کے دوبارہ ق لیگ میں شمولیت کے بعد یہ قیاص آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہی بھی جلد تحریک انصاف سے راہیں جدا کر لیں گے تاہم پرویز الہی نے ان قیاس آرائیوں پر خاموشی توڑتے ہوئے ویڈیو بیان جاری کر دیا اور عمران خان کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کی ناکام کوشش کی۔
ایک ویڈیو بیان میں پرویز الہی نے کہا کہ ’اقتدار کوئی انسان نہیں دیتا، اللہ جس کو مناسب سمجھتا ہے، اس کوعزت دیتا ہے، ’مونس اور میں عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم عمران خان کے بیانیہ کو بھی سپورٹ کرتے ہیں، فوج ہمارا اپنا ادارہ ہے، غلط فہمیاں علیحدہ چیز ہے، ہمیشہ کوشش رہی کہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے ہوں۔‘تحریک انصاف کے صدر پرویز الہیٰ نے کہا کہ ’عمران خان نے ہم سے جو وعدہ کیے پورے کیے، اب ہمارا فرض ہے کہ ہم مشکل وقت میں عمران خان کا ساتھ دیں۔‘
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سنئیر رہنما شفقت محمود کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے بعض لوگ پریشر برداشت نہیں کر رہے جس کی وجہ سے وہ پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ بہت سے لوگ پارٹیاں چھوڑتے ہیں مگر ان چیزوں سے پارٹیوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک سوال کے جواب میں شفقت محمود کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں اور وہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے ۔
