نیازی نے پی ڈی ایم حکومت کے ہاتھ کیسے مضبوط کئے؟

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کاکہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے تحریک عدم اعتماد کے بعد اسمبلیوں میں نہ بیٹھ کر حکومت کیلئے آسانیاں پیدا کیں رہی سہی کسر اسمبلیاں توڑ کر نکال دی اگر عمران خان اپنے ارکان کے ساتھ اسبملیوں میں بیٹھ جاتا تو ہماری حکومت کا 14ماہ میں چلنا مشکل تھا ۔

خواجہ آصف کاکہنا ہے کہ پچھلے سال سے چیئرمین پی ٹی آئی کو سیاسی یتیمی تنگ کر رہی ہے۔اس شخص کو سیاست کی زیر زبر معلوم نہیں، اس شخص نے آرمی چیف کی تقرری پر بھی تماشا کیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت پراکسی کے ذریعے پروپیگنڈا کر رہے ہیں، 9 مئی کو جو ان لوگوں نے کیا، اللہ کے فضل سے ناکام ہوا، ناکامی کے بعد دوبارہ یہ پلان پراکسی کے ذریعے لانچ کیا گیا ہے۔

خواجہ آصف کاکہنا تھا کہ کل آئی ایم ایف کے ساتھ زوم پر جو لوگ تھے سب مفرور ہیں، ہم پر بھی مشکل وقت آیا، ہم نے عزت آبرو سےکاٹا، خدشہ ہے یہ شخص یہاں رکےگا نہیں، یہ انتہائی ڈپریسڈ شخص ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا مصیبت یہ ہے کہ اب ان کو کوئی گود لینے کو تیار نہیں ہے، ان کے خلاف ضرور اقدامات کیے جائیں گے، یہ ملک کے خلاف کھیل

وفاق نے بار کونسلز کی آمدن انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیدی

کھیل رہے ہیں۔

Back to top button