PDMکا سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کا اصل مقصد کیا ہے؟

ایک ایسے موقع پر جب عمران خان کی جارحانہ اور تصادم پر مبنی حکمت عملی کے جواب میں شہباز حکومت "نیم دروں ، نیم بروں” پالیسی کے تحت ڈانوال ڈول یا سکتے میں ہے، مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں پی ڈی ایم اتحاد، سپریم کورٹ کے باہر دھرنے کا اعلان کر کے حکومت کواس کیفیت سے نکالنے کیلئے میدان میں آگیا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی اپنی ہی حکومت کے دور میں عوامی طاقت کے مظاہرے کی یہ جارحانہ حکمت عملی کس قدر کامیاب ہوگی، بالخصوص ایسے وقت میں جب دوصوبوں پنجاب اور کے پی کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی آئین کے آرٹیکل245 کے تحت امن و امان کے قیام کیلئے فوج کی خدمات حاصل کی جا چکی ہے۔ ان حالات میں اگر حکومتی اتحاد کے تحت عوامی طاقت کے مظاہرے کے دوران فریق مخالف یعنی تحریک انصاف بھی میدان میں اترتی ہے اور خدانخواستہ تصادم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو خود حکومت اور ریاست کیلئے اس صورت حال کو قابو کرناکسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔
پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت اور تقسیم اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ کوئی بھی ادارہ اس سے محفوظ نہیں رہا۔سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی پہلے سپریم کورٹ سے رہائی اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ سے نو کیسز میں ضمانت سے جہاں ان کے حامی خوش ہیں وہی حکومتی اتحاد کی جانب سے نہایت سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ بطور پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کی کال دیتے ہوئے عدلیہ کے خلاف طبل جنگ بجا دیا تھا اور واضح کیا تھا کہاگر کسی نے ہمیں ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا تو انہیں ڈنڈوں، گھونسوں اور تھپڑوں سے جواب دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کچھ عمران خان کے لیے داؤ پر لگا دیا گیا، اس نے جو کیا وہ بغاوت اور غداری کے زمرے میں آتا ہے، ہمیں آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے ملک کے اکثر صوبوں میں دفعہ 144 نافذ ہے۔خیال رہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں حکمران جماعت کے سب سے بڑے مخالف جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن دکھائی دیے وجہ صاف ظاہر تھی کہ مولانا کی جانب سے تحریک انصاف کی حکومت کو ماننے سے صاف انکار تھا جبکہ خود مولانا اسمبلی کے رکن بھی نہیں تھے۔
وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سیاست اور دھرنوں کا گہرا ساتھ ہے، اب تو رواج سا بن چکا ہے کہ ووٹ سے زیادہ دھرنوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یوں تو یہ تاریخ بہت پرانی ہے لیکن کل ہی کی بات لگتی ہے کہ عمران خان مسلم لیگ کے دور حکومت میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا دھرنا دینے میں کامیاب ہوئے، اور بدقسمتی سے اس وقت بھی ملک نازک دور سے دوچار تھا اور آج بھی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ دھرنوں کی سیاست سے پس پردہ کیا ملا وہ تو آج تک سامنے نہیں آسکا لیکن بظاہر ان دھرنوں سے کچھ بھی ملتا دکھائی نہیں دیا۔
27 اکتوبر 2019 کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف جمعیت علمائے اسلام کے احتجاجی مارچ کا کراچی سےآغاز ہوا۔ مارچ سے قبل ان کا موٴقف تھا کہ ‘وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت ناکام ہو چکی ہے، اسے مستعفی ہو جانا چاہیے۔’ اور اسی لیے وہ ’آزادی مارچ‘ لے کر اسلام آباد جا رہے ہیں۔جمیعتِ علما اسلام کے کارکنان اور حامی 27 تاریخ کو ملک کے مختلف شہروں سے ریلیوں کی صورت میں نکلے اور تین روز بعد 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوئے، اسلام آباد پہنچ کر ایک جلسے میں اعلان کیا گیا کہ اسلام آباد سے دھرنا ختم کرکے ملک بھر کی اہم شاہراہوں پر احتجاج جاری رہے گا۔
مولانا نے تحریک انصاف حکومت کا پیچھا نا چھوڑا اور 7 ستمبر 2020 کو پشاور میں ختم نبوت کانفرس میں طاقت کا مظاہرہ کیا جس کے بعد 29 اکتوبر کو کراچی اور 29 نومبر کو لاڑکانہ میں ملین مارچ کیا۔ کوئٹہ، لاہور اور اسلام آباد میں بھی بڑے جلسے عمران خان حکومت مخالف تحریک میں تیزی کے اشارے تھے۔29 مارچ 2022 کو متحدہ اپوزیشن کی بیٹھک کے بعد بطور پی ڈی ایم سربراہ مولانا نے بیان دیا کہ آزادی مارچ کے ثمرات حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں اور ان شاء اللہ یہ جنگ جاری رہے گی۔ ویسے تو سیاسی محاذ پر پی ڈی ایم کی یہ بہت بڑی کامیابی تھی جب آزادی مارچ سے شروع ہونے والی تحریک عمران خان کو وزارت سے ہٹانے میں کامیاب ہوئی لیکن دوسری جانب عمران خان بھی ہار ماننے والے نہیں۔
پی ڈی ایم حکومت کو عمران خان کو گرفتار کرنے کے لیے سر توڑ کوششوں کے بعد کامیابی ملی تو سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ اس پر پی ڈی ایم نے عدالت عظمیٰ کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کر دیا جس میں ملک بھر سے شہریوں کو اسلام آباد میں جمع ہونے کا پیغام دیا گیا۔پی ڈی ایم کے سپریم کورٹ کے باہر دھرنے بارےمسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے کہا کہ ’ایک آخری امید سپریم کورٹ سے ہوتی ہے کہ وہ ملک میں قانون کا نفاذ کرنے والوں کا تحفظ کریں گی، لیکن اگر آپ ملک میں ہونے والے فسادات کے سرغنہ کو بلا کر کہے کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی تو اس کے بعد کوئی امید نہیں رہتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’عدالتوں سے ہم مایوس ہو چکے ہیں اور سٹرکوں پر آئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔‘طلال چوہدری کے مطابق عدالتوں کے پاس اپنی تکریم برقرار رکھنے کے بہت مواقع تھے لیکن وہ کچھ نہ کر سکیں۔’فوجی تنصیبات پر حملوں اور 60 ارب روپے کی کرپشن کے ملزم کو آپ مہمان بنائیں اور بلاوجہ ریلیف دیں تو پھر سڑکوں پر آنا پڑتا ہے‘اس سوال پر کہ کیا ملک میں ایمرجنسی یا مارشل لا کے نفاذ کا خطرہ ہے؟ مسلم لیگی رہنما طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ایمرجنسی کے حالات تو پہلے سے ہیں لیکن عدالتی فیصلے پاکستان کو مارشل لا کی طرف دھکیل رہے ہیں۔‘
تاہم سینیئر صحافی اور تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق پی ڈی ایم کا احتجاج کا اعلان سپریم کورٹ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے۔’حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک طرف ہیں‘احمد ولید کا اس سوال پر کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور دوسری طرف حکومتی اتحاد خود احتجاج کا اعلان کر رہا ہے، کہنا تھا کہ حکومت خود ’دفعہ 144 کی خلاف ورزی‘ کرے گی اور ابھی تک یہ بھی نہیں معلوم کہ اس دھرنے کا دورانیہ کتنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’اسٹیبلشمنٹ اور حکومت عمران خان کے خلاف ہیں لیکن عدلیہ عمران خان کو فائدہ دے رہی ہے۔‘ایمرجنسی یا مارشل لا کے حوالے سے احمد ولید نے کہا کہ اس کا کوئی امکان نہیں، دنیا بھر میں کافی جگ ہنسائی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کا حل سیاستدانوں کے پاس ہی ہے لیکن سب جماعتوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ حالات قابو میں کریں۔
