القادر یونیورسٹی سکینڈل میں عمران اور بشریٰ کا بچنا نا ممکن کیوں ؟

 

قومی احتساب بیورو ساٹھ ارب روپے کے القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اوران کے قریبی دوست زلفی بخاری کے علاوہ سابق خاتوں اول بشریٰ بی بی سے بھی فوجداری تفتیش کرے گا، اس ضمن میں یہ سوال اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ برطانوی ادارے این سی اے سے حاصل شدہ رقم کو کس قانون کے تحت سپریم کورٹ کے کھاتے میں رکھا گیا ہے اور یہ رقم کورٹ کے کس کھاتے میں جمع کرائی گئی۔

معلوم ہوا ہے کہ القادر ٹرسٹ سکینڈل کی تحقیقات شروع کرنے سے قبل نیب نے سابق وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے ان تمام ارکان کو طلب کیا تھا جنہوں نے 3 دسمبر 2019 کے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں بند لفافے کے ذریعے برطانوی ادارے این سی اے سے موصولہ رقم کو قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے سپریم کورٹ کو دیدیا گیا تھا، اس ساری غیر قانونی کاروائی کا مقصد یہ تھا کہ ساٹھ ارب روپے کی یہ خطیر رقم اس کاروباری شخص پر سپریم کورٹ کی جانب سے عائد جرمانے کے طور پر ادا کر دی جائے جس کے کالے دھن کو برطانوی ادارے نے سراغ ملنے پر پاکستان کی حکومت کو لوٹا دیا تھا بعد ازاں اس کاروباری شخصیت نے سوہاوہ ضلع جہلم میں 458؍کینال سے زیادہ اراضی عمران اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو دیدی تھی جس کی مالیت سات ارب روپے بنتی ہے۔

علاوہ ازیں دو سو چالیس کنال اراضی بنی گالا میں بشریٰ بی بی کی دوست فرح گوگی کے نام پرمنتقل کی گئی، عمران خان نے ہفتے کی شب اپنے ویڈیو خطاب میں پہلی مرتبہ اعتراف کرلیا ہے کہ یہ رقم سپریم کورٹ کو دیدی گئی تھی جسے نیب مقدمے کی کارروائی کا حصہ بنائے گا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال 29؍ نومبر اور 15؍ دسمبر کو زلفی بخاری کواس مقدمے میں طلب کیا تھا جنہیں پہلے ہاتھ کے طور پر سوہاوہ کی اراضی منتقل ہوئی تھی وہ نیب کے روبرو پیش نہیں ہوئے نیب نے اپنے سربراہ کے خلاف عمران خان کی دیروزہ ہرزہ سرائی پرکارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہوئے فی الوقت اسے نظرانداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ عمران خان نیب اور دیگر شخصیات کے خلاف گالم گلوچ کرکے اپنے جرم سے توجہ ہٹانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

نیب نے تحقیقاتی عمل کے دوران یہ سوال اٹھانے کابھی فیصلہ کیا ہے کہ برطانوی ادارے این سی اے سے حاصل شدہ رقم کو کس قانون کے تحت سپریم کورٹ کے کھاتے میں رکھا گیا ہے اور اسے کورٹ کے کونسے کھاتے میں جمع کرایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عمران کابینہ کےاجلاس کے چار وزراء نے اسی وقت نشاندہی کردی تھی کہ جس طرح برطانیہ سے موصولہ رقم کو سرکاری خزانے کی بجائے سپریم کورٹ میں کسی کے جرمانے کی ادائیگی کے لئے جمع کرایا جا رہا ہے، اس میں یہ سیدھے سبھائو نیب کامقدمہ بنے گا۔ ذرائع کے مطابق عمران حکومت کے خود ساختہ ادارے ریکوری یونٹ کےسربراہ شہزاد اکبر نے اس میں دو ارب روپے وصول کئے اب وہ مفرور ہو کر بیرون ملک پناہ گزین ہے القادر یونیورسٹی جسکے نام پر اراضی حاصل کی گئی تھی۔

اسے پنجاب کا ہائر ایجوکیشن کمیشن بطور تعلیمی ادارہ تسلیم نہیں کرتا اس القادر ٹرسٹ کو اٹھارہ کروڑ روپے کی رقم آپریشنل اخراجات کی شکل میں وصول ہوئی جبکہ ریکارڈ میں ساڑھے آٹھ کروڑ کے اخراجات ظاہر کئے گئے ہیں عمران نے 5؍ مئی 2019ء کو اس ٹرسٹ یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا جس کے بعد مالی معاملات کے غبن سامنے آئے۔ ذرائع کے مطابق نیب اس مقدمے کی تفتیش کو آگے بڑھائے گا اور اس سلسلے میں زلفی بخاری، عمران خان اور بشری بی بی تینوں کو طلب کیا جائے گا قبل ازیں ان کی طرف سے نیب کو اپنے موقف کی حمایت میں کوئی دستاویز پیش نہیں کی گئیں۔ نیب کا کہنا ہے کہ سنگین کرپشن کے اس مقدمے میں عمران نے تفتیشی حکام سےرجوع کرنے میں حیل و حجت سے کام لیا اور وہ پنی صفائی دینے میں ناکام رہے تو قومی احتساب بیورو ان کی ضمانت منسوخ کرانے کی غرض سے اعلی عدلیہ سے رجوع کرے گا۔

Back to top button