کیا عمران خان کا آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل ہو گا؟

پاکستان آرمی کے ہیڈ کوارٹر ، کور کمانڈر لاہور کے گھر ، فوجی چوکیوں سمیت بہت سی آرمی تنصیبات پر حملے اور انہیں جلانے والی شدت پسند سیاسی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اب آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت جلد ہی گرفتار کر کے ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کرنے پر غور کیا جارہا ہے . اس طرح اربوں روپے کے نقصان اور ریاست پاکستان کی ساکھ کو ملیامیٹ کرنے کے ذمے دار سابق وزیر اعظم کو عدلیہ کی جانب غیر معمولی اور بے مثال ریلیف فراہم کرنے کا امکان بھی لگ بھگ ناممکن ہو گا . واضح رہے کہ عمران خان نے اپنی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے دہشت گردوں کی جانب سے برپا کیۓ جانے والے فساد پر قوم سے معافی مانگنے کی بجاۓ سا ری صورت حال کا ذمہ دار پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو ہی قرار دے دیا ہے سیاسی تجزیہ کاروں نے عمران خان کی ان حرکتوں کے بعد اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ عمران خان معاملات سلجھانے کی بجاۓ اپنے مذموم مقصد کے حصول کے لئے وطن عزیز کو خانہ جنگی کی بھٹی میں جھونکنے کے درپے ہے. اس کے بعد یہ تقریباً طے ہے کہ عمران خان کو زیادہ تاخیر کے بغیر گرفتار کر لیا جائے گا۔

الزامات کیا ہوں گے اور وہ کون سے جرائم ہوں گے جن کی پاداش میں گرفتاری عمل میں لائی جائے گی اس بارے غورو خوض جاری ہے متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے اور کون سا جرم ہے جس کا رتکاب رہ گیا ہو اس مرتبہ گرفتاری جس الزام کے تحت انجام دی جائے گی۔ اس میں اوّل تو عدالتی دسترس کا عمل دخل ہی نہیں ہو گا۔ اگر کھینچ تان کر کوئی ضابطہ، قانون یا دفعہ عدالت کو بیچ میں لے بھی آتی تو بھی کوئی اسے نہ دیکھ سکے گا اور نہ ہی کہہ سکے گا کہ آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں کوئی گوانتانامے بھی نہیں ہے تاہم یہ بھی درست ہے کہ نو سے لیکر تیرہ مئی تک پاکستان میں جس طرح عسکری تنصیبات، قومی اہمیت کے مقامات اور سرکاری و غیر سرکاری املاک کو بےدردی سے برباد کیا گیا انہیں سپرد آتش کیا گیا اور ہلاکتیں ہوئیں وہ تقاضا کرتی ہیں کہ یہ سب کچھ کرنے والے اور ان کے پشتی بانوں کو ایسی سزا دی جائے جو اپنوں اور بیگانوں کے لئے نمونہ عبرت ہو۔ بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی حکومتی کارروائی سے پہلے عمران کو کسی توقف کے بغیر ثابت کرنا ہوگا کہ ان واقعات اور وارداتوں کے لئے منصوبہ بندی اور اجازت دینے میں وہ شامل نہیں تھا.

جو کچھ ہوا وہ سب جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے کسی ملک کا دوسرے پر بلاوجہ حملہ کرنا ہی جرم نہیں ہوتا جنگی جرم املاک اور دوسرے ملک کے شہریوں کو گزند پہنچانے اور انہیں موت کے گھاٹ اتار دینے سے عبارت ہوتا ہے زیر تذکرہ چار پانچ دنوں میں ہوئی وارداتیں اس تعریف پر پورا اترتی ہیں آرمی ایکٹ کا اطلاق گاڑی تیز چلانے پر عائد نہیں ہوتا اگر فوج کے کورکمانڈر کے گھر پر حملہ کرکے اسے نیست و نابود کر دیاجائے وہاں موجود ہر شے لوٹ لی جائے عمارت کو نذر آتش کر دیا جائے۔ جی ایچ کیو جو عسکری شان و شوکت کا مظہر اور فوج کا ہیڈکوارٹر ہے اس پر حملہ آور ہو کر توڑ پھوڑ کی جائے آگ لگانے کا عمل انجام دیا جائے۔

خیبرپختونخواہ میں عسکری عمارتوں اور یادگاروں کو تہس نہس کر دیا جائے تو اسے آرمی ایکٹ کے خلاف نہ شمار کیا جائے تو وہ کون سی دفعات ہیں جنہیں حرکت دیکر ان جرائم میں ماخوذ افراد کو اور انہیں اس پر مامور کرنے والوں کو سزا دی جائے حکام کے پاس اس امر کی دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ عمران نے تین نومبر کو جب وزیرآباد میں اس کے قافلے میں گولی چلی تھی تو اس نے اپنی جماعت کی قیادت کو بری طرح سخت سست کہا تھا کہ جس طور پر مرحومہ بے نظیر بھٹو کو شہید کئے جانے پر ردعمل ہوا تھا وہ اس کے قریب قریب بھی مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے تھے حالانکہ تباہی بربادی لانے کے لئے دہشت گردوں کے جتھے تیار کئے جا چکے تھے جنہیں ہر قسم کی تربیت سے لیس کیا گیا تھا اس ہلکا سکا عکس اس وقت پیش آیا جب اسلام آباد کی پولیس ایک عدالتی وارنٹ کی تعمیل کے لئے لاہور کے زمان پارک میں پہنچی تھی اس میں دیسی ساختہ آتشیں ہتھیاروں کی پہلی مرتبہ آزمائش کی گئی خاص طور پر بنائی گئی غلیلیں جن میں مخصوص وزن کے کنچے استعمال کئےجاتے ہیں۔ میخیں لگے ڈنڈے اور پٹرول بموں کو بے تحاشا استعمال کیا گیا۔

انہیں استعمال کرنے والے افراد دوسرے شہروں سے آئے تھے جنہیں بھاری مراعات دی گئی تھیں اور یہ بھی سراغ ملا تھا کہ ان میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے افراد بھی شامل تھے یہ مزاحمتی کارروائیاں نہیں تھیں بلکہ جارحانہ اقدامات تھے اس وقت جن کارروائیوں کے بارے میں غور و خوض ہو رہا ہے ان میں آرمی ایکٹ کو بروئے کار لانا بھی شامل ہے۔ عمران کے رویئے ’’قریبی‘‘ سابق وفاقی وزیر مراد سعید کا وڈیو پوری دنیا میں پھیل چکا ہے جس میں وہ اپنے ’’لوگوں‘‘ کو اپنے اہداف پر پہنچ کر حملہ آور ہونے اور کارروائیاں فوری طور پر شروع کرنے کا حکم دے رہا ہے جس کے بعد وہ خود روپوش ہو چکا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مراد سعید تحریک انصاف کا جنگی کمانڈر ہے ممکن ہے کہ اس نے خود بھی ایسی کارروائیوں کی تربیت حاصل کر رکھی ہو اور ایسی ہی تربیت اپنے لوگوں کو فراہم کر رکھی ہو۔

اپنے اقتدار کے دنوں میں عمران نے ٹائیگر فورس بنائی تھی۔ اس سے بھی یہی کام لیا گیا حالیہ جرائم کی روداد بیان کرنے والے حکام جرائم اور مجرموں کی نشاندہی تو کر رہے ہیں جس میں کم و بیش ہر معاملے کو عمران کی دہلیز پر لے جاتے ہیں تاہم اسے نامزد کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں ایسے میں یہ امکان موجود ہے کہ وہ بڑی کارروائی کرنے کے بعد اس کا اعلان کریں اس اثناء میں ملک بھر سے قافلے وفاقی دارالحکومت میں پہنچے ہیں جو پیر سے شاہراہ دستور کے اس ڈی چوک سے متصل خیمہ زن ہو جائیں گے جیسے احتجاج اور دھرنوں کے لئے عالمی شہرت حاصل ہو چکی ہے یہ ڈی چوک ایوان صدر، پارلیمنٹ ہائوس اور سپریم کورٹ کا ہمسایہ ہے یہاں ہونے والی سرگرمیوں کی ’’زد‘‘ میں تینوں پرشکوہ عمارتیں آتی ہیں یہ قافلے جنہیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آواز دی ہے عدالت عظمیٰ کے سہ رکنی بنچ کے رویئے اور عدالتی سربراہ کے اس غیر معمولی فیاضانہ برتائو کے خلاف احتجاج کی غرض سے جمع ہیں جس نے اسلام آباد کی عدالت عالیہ کو مجبور کردیا کہ وہ ساٹھ ارب روپے کے غبن میں ملوث مقدمے کے ملزم کو جس کے خلاف درجنوں سنگین الزامات پر مبنی مقدمات درج ہیں اس طور پر ضمانت دے کر وہ پورے شہر کو بھی قتل کردے تو اسے ہاتھ نہ لگایا جاسکے۔

Back to top button