مشرق وسطیٰ کامتنازع ترین سفارتی معاہدہ“میثاقِ ابراہیمی” حقیقت میں کیا ہیں؟

امریکی صڈر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ امن معاہدے کو ابراہام اکارڈز کے ساتھ مشروط کرنے کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں میں“میثاقِ ابراہیمی” کے خوب چرچے ہیں ہر طرف یہی سوال گونجتا سنائی دیتا ہے کہ یہ ابراہیمی معاہدہ دراصل کیا ہے؟ اس کا اصل مقصد کیا ہے؟ سیاسی مبصرین کے مطابق ابراہام اکارڈز، جنہیں اردو میں “میثاقِ ابراہیم” بھی کہا جاتا ہے، دراصل ایسے سفارتی معاہدے ہیں جن کے تحت کئی عرب اور مسلم ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کیا تھا۔ ان معاہدوں کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی، تجارتی، دفاعی اور معاشی تعاون بڑھانا بتایا گیا، تاہم فلسطین کے مسئلے کو نظر انداز کرنے پر یہ معاہدے شدید تنقید کی زد میں بھی آئے۔

یہ معاہدے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں طے پائے۔ اگست اور ستمبر 2020 کے دوران مختلف اعلانات کیے گئے جبکہ 15 ستمبر 2020 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس میں ان معاہدوں پر باضابطہ دستخط ہوئے۔ اس تقریب کی میزبانی خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی اور امریکا نے ثالث اور ضامن کا کردار ادا کیا۔

“ابراہام اکارڈز” کا نام تین بڑے ابراہیمی مذاہب یعنی اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے مشترکہ تاریخی و مذہبی تعلق کی علامت کے طور پر رکھا گیا۔ امریکا کا مؤقف تھا کہ یہ معاہدے خطے میں امن، استحکام اور معاشی ترقی کی نئی راہیں کھولیں گے، جبکہ ناقدین کے مطابق اصل مقصد اسرائیل کو عرب دنیا میں قبولیت دلانا تھا۔اس معاہدے کے ابتدائی اور اہم فریق متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل تھے۔ بعد میں مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے اعلانات کیے۔ بعض رپورٹس میں دیگر ممالک کے ممکنہ کردار یا غیر رسمی روابط کا ذکر بھی سامنے آیا، تاہم مرکزی اور باضابطہ فریق یہی ممالک رہے۔معاہدے کی تشکیل اور کامیابی میں ٹرمپ انتظامیہ کے اہم مشیروں نے کلیدی کردار ادا کیا، جن میں خاص طور پر جیرڈ کشنر نمایاں تھے، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ امور کے مشیر تھے۔ امریکی عیسائی صیہونی حلقوں اور اسرائیل نواز لابیز نے بھی اس عمل کی بھرپور حمایت کی۔

ابراہام اکارڈز کے پس منظر میں ایک اہم واقعہ وہ بھی تھا جب صدر ٹرمپ نے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام کو اسرائیل کے حق میں ایک بڑا سفارتی قدم قرار دیا گیا جبکہ فلسطینی قیادت اور مسلم دنیا کے کئی ممالک نے اسے متنازع اور غیر منصفانہ فیصلہ قرار دیا۔معاہدے کے حامیوں کا کہنا تھا کہ اس سے خطے میں تجارت، سیاحت، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا، جبکہ مخالفین کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام اور بیت المقدس کے مسئلے کو نظر انداز کر کے عرب دنیا نے اسرائیل کو بڑی سفارتی کامیابی دے دی۔حالیہ برسوں میں امریکا نے سعودی عرب، پاکستان، قطر اور دیگر مسلم ممالک پر بھی دباؤ ڈالنے یا آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ ابراہام اکارڈز میں شامل ہوں، تاہم کئی ممالک نے فلسطینی ریاست کے قیام کو اسرائیل سے تعلقات کی بنیادی شرط قرار دیا جبکہ سعودی عرب، مصر اور پاکستان سمیت کسی بڑے مسلم ملک نے ابھی تک کھلے الفاظ میں اس معاہدے کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

Back to top button