بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کی محسن نقوی سے خفیہ ملاقات کا اصل مقصد کیا تھا؟

ملکی سیاست ایک بار پھر خفیہ ملاقاتوں، پسِ پردہ رابطوں اور طاقت کے ایوانوں میں ہونے والی خاموش پیش رفتوں کے باعث گرم ہو چکی ہے۔ بیرسٹر گوہر علی خان، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان ہونے والی مبینہ خفیہ ملاقات نے ملکی سیاسی منظرنامے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔خیال رہے کہ یہ ملاقات اُس وقت منظرِ عام پر آئی جب بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے انکشاف کیا کہ بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر محسن نقوی سے ملاقات کی۔ علیمہ خان کے اس بیان نے نہ صرف پارٹی کے اندر سوالات کھڑے کیے بلکہ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی مضبوط کیا کہ پسِ پردہ کسی بڑی مفاہمت یا رابطہ کاری کا عمل جاری ہے۔

روزنامہ جنگ سے وابستہ سینئر صحافی انصارعباسی کے بقول ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 14 مئی کو اسلام آباد میں بیرسٹر گوہر کی رہائش گاہ پر ہونے والی یہ ملاقات بظاہر سکیورٹی اور امن و امان کے معاملات کے لیے تھی، مگر اندرونی اطلاعات اس سے کہیں زیادہ اہم اور حساس موضوعات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس ملاقات کا اصل محور بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی، جیل ملاقاتوں میں آسانی، سیاسی کشیدگی میں کمی اور اسٹیبلشمنٹ و پی ٹی آئی کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوششیں تھیں۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی، بنوں واقعے اور مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم سیاسی معاملات گفتگو کا مرکزی نکتہ رہے۔ پی ٹی آئی قیادت نے مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر مسلسل پابندیاں سیاسی ماحول کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔ اسی تناظر میں انسانی بنیادوں پر سہولیات، طبی مسائل اور اہلِ خانہ کی رسائی جیسے نکات بھی زیرِ بحث آئے۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں اور مقتدر قوتوں کی جانب سے بھی اپنی “ریڈ لائنز” واضح کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کے سیاسی طرزِ عمل، احتجاجی حکمت عملی اور سوشل میڈیا بیانیے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اسی لیے اس ملاقات کو صرف ایک رسمی ملاقات کے بجائے “اعتماد سازی کی ابتدائی کوشش” قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر کی رہائش گاہ اس سے قبل بھی اہم اور حساس رابطوں کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ یہ ملاقات اچانک یا معمول کی نوعیت کی نہیں تھی۔ بعض حلقے اسے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان برف پگھلنے کی شروعات قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ مبصرین کے مطابق دونوں فریق مکمل تصادم سے بچنے کے لیے بیک ڈور ڈپلومیسی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ علیمہ خان کے بیان کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کے بیان نے پسِ پردہ جاری مفاہمتی کوششوں کو نقصان پہنچایا اور عمران خان کی بہنوں کو جیل ملاقات کی ممکنہ اجازت پر بھی منفی اثر ڈالا۔ اسی وجہ سے پارٹی کے اندر بھی اس معاملے پر خاموش کشمکش کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

ادھر سہیل آفریدی نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صوبے کے مسائل کے حل کے لیے ہر متعلقہ شخصیت سے رابطے میں ہیں اور یہ ان کا آئینی و سیاسی حق ہے۔ انہوں نے اس ملاقات کو خفیہ قرار دینے کے تاثر کو مسترد کیا۔ جبکہ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بھی ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں امن و امان اور سکیورٹی صورتحال پر بات ہوئی تھی۔تاہم سیاسی حلقوں میں سوال اب بھی برقرار ہے کہ اگر یہ ملاقات صرف سکیورٹی امور کے لیے تھی تو اسے خفیہ کیوں رکھا گیا؟ اور اگر سیاسی مفاہمت زیرِ بحث تھی تو اس کے اگلے مراحل کیا ہوں گے؟ یہی سوالات اس وقت ملکی سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔

Back to top button