الیکشن: وسطی پنجاب میں نون لیگ کو کس جماعت سے خطرہ ہے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ھے کہ پنجاب میں نون لیگ کی مہم کی تاخیر اور تحریک انصاف کے عدم موجودگی نے تحریک لبیک کو کسی حد تک جگہ دے دی ہے جو گزشتہ کچھ ماہ میں وسطی پنجاب میں خاص طور مشروم کی طرح پنپ چُکی ہے۔ دائیں ہاتھ کی سیاست کی عدم موجودگی نے بہرحال وسطی پنجاب میں خطرے کی گھنٹی بجائی ہے جسے ن لیگ بروقت بھانپ نہیں سکی۔ اپنی ایک تحریر میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ تحریک انصاف کی عدم موجودگی اور ن لیگ مخالف ووٹر کو پیپلز پارٹی نے بھی انگیج کیا ہے اور یہی نہیں بلکہ سیاست کا رُخ ’نواز مخالف‘ بنا کر تحریک انصاف کی جگہ کسی حد تک پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلاول بھٹو نے نواز مخالف انتخابی مہم کے ساتھ پیپلز پارٹی کی پنجاب میں نہ صرف واپسی کی بنیاد رکھی بلکہ ایک مزاحمانہ ماحول بنانے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ البتہ اُن کا لہجہ بعض اوقات ناقابل قبول حد تک تلخ ہو جاتا ہے جو نامناسب ہے۔ بلاول بھٹو نے گُزشتہ دو ماہ میں محنت کی اور سیاست کو روایتی دو جماعتوں تک واپس لے آئے ہیں۔ یہ حکمت عملی ہے تو موثر اور اگر یہ غیر ارادی طور پر ہے تو پنجاب میں اس کا نتیجہ گزشتہ انتخابات کی نسبت بہتر نکل سکتا ہے۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق مسلم لیگ ن کی سیاست میں مریم نواز سینٹر سٹیج پر آ گئی ہیں اور نواز شریف صاحب کے بعد مائیک اُن کے ہاتھ آنے کا مطلب یہ ہے کہ ن لیگ میں اُن کی مرکزی حیثیت تسلیم ہو چکی ہے۔ یہ حیثیت انتخابات کے بعد اُن کی اہم عہدے کے لیے نامزدگی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی قیادت جوانوں کے پاس جانا بھی باہر ایک حکمت عملی کا ہی حصہ ہے۔ ہدف ملک کی نوجوان آبادی ہے تاہم اس کے لیے بلاول، آصفہ بھٹو اور مریم نواز کو زیادہ سے زیادہ نوجوانوں میں اُترنا ہو گا اور انہیں اُمید دلانا ہو گی۔ یقین مانیے نوجوان بزرگوں سے کہیں آگے ہیں البتہ اُنہیں روایتی سیاست کو خیر باد کہنا ہوگا۔ نون مخالف جذبات کی طرح ’سیاسی آزاد‘ بھی انتخابات کے بعد سیاسی مستقبل بچانے کے لیے پسندیدہ جماعت چُننے میں ’آزاد‘ ہوں گے۔ یہ جماعتیں ان نمائندوں کو اپنے پروں کے نیچے سمیٹ کر تحریک انصاف کی اسمبلیوں میں نمائندگی کو مزید محدود کرنے کی کوشش کریں گی ۔اب اس حکمت عملی میں بظاہر کوئی رکاوٹ تو نظر نہیں آتی تاہم ایسا کرنے میں جلد بازی سے احتراز برتنا ہی سمجھداری ہو گا۔ میدان سج چُکا ہے، کھلاڑی کھیلنے کو تیار ہیں، کوئی ایک پلیئر ہمیشہ کی طرح میدان سے باہر ہے۔ امپائر کریز پر موجود جبکہ سیٹی بج چُکی ہے۔ الٹی گنتی کے ساتھ حتمی مرحلے کا کھیل شروع ہو رہا ہے۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق امپائر نے کھیل سے پہلے پرانے اور کچھ نئے رولز آف دا گیم بھی سیٹ کر دیے ہیں۔ کھلاڑی سب دیکھ رہے ہیں، سمجھ رہے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ جو کھیل امپائر نے شروع کیا ہے وہی ختم کرے تاکہ نئی اننگز کا آغاز ہو سکے۔ اب نئی اننگز کے لیے وہی پرانا کھیل کون جیتے گا ۔۔ اصل مقابلہ یہ ہے۔ آگ کے ہالے میں کھیلے جانے والے کھیل کے تقاضے کچھ اور ہیں اور ضروریات کچھ اور۔۔۔ بہرحال اس آگ سے گُزرنا ہو گا اور شرط یہ ہے کہ دامن بھی بچایا جائے اور کھیل بھی۔۔۔ اب دیکھیں کس کے ہاتھ کیا لگتا
آخر میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ عمران خان کے بظاہر جیل سے نکلنے کے امکانات تو معدوم ہیں البتہ سیاسی جماعتیں نئی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی بات چیت اور گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا آغاز کر سکتی ہیں۔ مذاکرات کے لیے نظر انتخاب عمران خان ہوں گے یا ان کی جگہ کوئی اور ۔۔ یہ فیصلہ سیاسی قیادت کے ہاتھ کس حد تک ہو گا آنے والے دنوں میں اس کا اندازہ ہو جائے

Back to top button