پنجابی نواز شریف کو وزیر اعظم بنانے کے اتنے خواہشمند کیوں؟

پنجاب کے عوام نے آئندہ کے وزیر اعظم کیلئے قائد مسلم لیگ نون میاں نواز شریف کو فیورٹ امیدوار قرار دے دیا۔ تاہم مبصرین کے مطابق اس بار پنجاب سمیت ملک بھر میں مقابلہ بہت سخت ہے الیکشن میں وہی جماعت فتح سے ہمکنار ہو گی جو عوام کو بیلٹ باکس تک لانے میں کامیاب ہو گی۔آئندہ عام انتخابات میں پنجاب کے عوام کس کو ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں، کون سی سیاسی شخصیت عوام کی پسندیدہ ہے، کون سی جماعت کا ووٹ بینک زیادہ ہے اور کس کو ملک کے اگلے وزیراعظم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں؟ سینٹر فار پبلک اوپینین ریسرچ نے پنجاب کے 20 اضلاع کے ووٹرز کے بارے میں تازہ ترین عوامی سروے جاری کردیا۔ سروے میں 55 فیصد افراد نے نواز شریف کو، 50 فیصد نے شہباز شریف کو اور 47 فیصد نے مریم نواز کو پسندیدہ شخصیت قرار دیا۔
سروے کے مطابق 29 فیصد شہریوں نے سوئی گیس کی قلت کو محلے، علاقے یا شہر کا واحد اہم ترین مسئلہ قرار دیا جبکہ 21 فیصد شہریوں نے سیوریج اور 11 فیصد نے مختلف علاقوں کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔سروے کے مطابق 33 فیصد عوام نے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کو بنیادی مسائل کا موردِ الزام ٹھہرایا جبکہ 29 فیصد عوام نے مسلم لیگ ن کی سربراہی میں پی ڈی ایم کی حکومت کو بنیادی مسائل کا ذمہ دار قرار دیا۔ اسی طرح 20 فیصد شہریوں نے پی ٹی آئی حکومت اور مسلم لیگ ن دونوں کو شہر کے مسائل کو حل نہ کرنے کا ذمے دار کہا۔
سروے میں55 فیصد افراد نے نواز شریف, 50 فیصد نے شہباز شریف، 49 فیصد نے عمران خان کے لیے پسندیدگی کا اظہار کیا۔42 فیصد مریم نواز جبکہ 38 فیصد نے حمزہ شہباز کو 34پسندیدہ شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ 34 فیصد نے پرویز الٰہی اور 23 فیصد افراد نے بلاول بھٹو جبکہ 14 فیصد نے آصف زرداری کے لیے پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ 17 فیصد نے علیم خان، 22 فیصد نے جہانگیر ترین کو پسندیدہ شخصیت قرار دیا۔
سروےمیں انتخابات 2018 میں ووٹ دینے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو 40 فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے مسلم لیگ ن کو جبکہ 35 فیصد نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا۔ 5 فیصد نے ٹی ایل پی کو اور 4 فیصد نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا۔ 10 فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے ووٹ ڈالا ہی نہیں۔سروے کے مطابق آئندہ عام انتخابات میں 41 فیصد افراد نے ن لیگ، 34 فیصد نے تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا اعلان کیا۔7 فیصد افراد نے ٹی ایل پی جبکہ صرف 5 فیصد نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کا اعلان کیا۔
سروے میں آئندہ وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں 37 فیصد عوام نے شہباز شریف کے حق میں رائے دی۔ 28 فیصد پرویز الہی، 5 فیصد افراد نے علیم خان اور 5 فیصد نے مریم نواز کے حق میں رائے دی۔سروے میں 42 فیصد عوام نے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کو وزیراعظم دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا جبکہ 36 فیصد شہریوں کے خیال میں پاکستان تحریک اںصاف کا امیدوار وزیراعظم ہونا چاہیے۔سروے کے نتائج کے مطابق 59 فیصد شہریوں کا کہنا تھا کہ ان سے تاحال کسی سیاسی جماعت نے ووٹ کیلئے رابطہ نہیں کیا۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی خاص سیاسی جماعت کی ٹوپی دماغ سے اتار کر دیکھا جائے تو اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کی حکومت نے شامل اقتدار جماعتوں کی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی نے بھرپور عوامی اجتماعات اور سوشل میڈیا کمپین کے ذریعے ان جماعتوں کے خلاف ایکسپوز پروگرام شروع کیا بلکہ بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنا ہمدرد بھی بنایا۔ 9 مئی اگر نہ ہوتا اور پی ٹی آئی بروقت انٹرا پارٹی الیکشن درست کروا لیتی تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی 8 فروری کو ضمانتیں ضبط ہونے کی خبریں ہی آ رہی ہوتیں، بالخصوص پنجاب میں۔ انتخابی مہم میں جلسے برابر کے ہو رہے ہیں۔ میری نظر میں اس وقت مقبولیت کا پلڑا سب کا برابر ہے۔ کوئی بھی ایک جماعت قومی اسمبلی کے انتخابات میں کسی ایک صوبے پر اجارہ داری نہیں رکھتی، ماسوائے پیپلز پارٹی کے۔ ساتھ ہی اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی سب سے تگڑی جماعت ہے لیکن اس کے امیدواروں کے پاس بلا نہیں ہے۔ بلوچستان سے جو رپورٹس آ رہی ہیں ان کے مطابق مکس پروگرام چل رہا ہے۔ سب سے دلچسپ صورت حال پنجاب کی ہے جس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان دونوں مقبول ترین ہیں لیکن حقیقت میں کوئی بھی مقبول نہیں۔ بلاول بھٹو لاہور میں اگر معرکہ سر کر گئے تو وہ سب کو پیچھے چھوڑنے کے مترادف ہو گا کیونکہ لاہور ن لیگ کا گڑھ اور پی ٹی آئی کا گھر ہے۔
موجودہ حالات میں کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کو برتر قرار دینا درست نہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے جلسے بتاتے ہیں کہ صرف پی ٹی آئی ہی جماعت نہیں، ان کے پاس بھی لوگوں کو منہ دکھانے کے لئے کارکردگی ہے لیکن پی ٹی آئی کا چاہنے والا کسی دوسرے کو ماننے سے انکاری ہے۔
اب کی بار پاکستانی اپنی نوعیت کا ایک منفرد انتخابی ماحول دیکھ رہے ہیں۔ عام انتخابات میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ اب تک 1970 کے انتخابات میں رہا ہے جو تقریباً 53.96 فیصد تھا جبکہ سب سے کم ٹرن آؤٹ 1997 کے انتخابات میں ریکارڈ ہوا جو 35.4 فیصد رہا۔ اس کے بعد 2013 کے الیکشن میں ووٹر ٹرن آؤٹ میں بہتری دیکھی گئی جب یہ 53.62 فیصد تک پہنچا لیکن 2018 کے انتخابات میں بہتری کی یہ رفتار برقرار نہ رہ سکی اور ٹرن آؤٹ قدرے کم ہو کر 51.5 فیصد رہ گیا۔
2018 کے بعد گذشتہ برسوں میں آبادی میں اضافے کے ساتھ ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں 5 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز تو صرف نوجوان ہیں جو کل ووٹرز کا 45 فیصد بنتے ہیں۔ ان حالات میں یہ ووٹرز جتنے پرجوش ہیں اس تناسب سے نکل آئے تو ٹرن آؤٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر بھی پہنچ سکتا ہے۔تاہم۔کسی بھی پارٹی کی مقبولیت کا پتہ الیکشن نتائج کے روز لگتا یے جب بیلٹ باکس کھلیں گے۔ تاہم لگتا ہے کہ فی الحال کوئی ایک بھی لیڈر یا جماعت مقبولیت میں آگے نہیں۔ باقی اگر کسی جماعت کی محبت آپ کے دل میں ہے اور ٹوپی اس کی آپ کے دماغ پر ہے تو آپ کو وہی جیتتی ہوئی نظر آ رہی ہو گی۔
