ایرانی نیوکلیئر پروگرام یو اے ای کی پہلی بڑی تشویش ہے: صدارتی مشیر یو اے ای

 

 

 

یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے مشیر انور قرقاش کا کہنا ہےکہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام ہمارے لیے سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات (یواےای )کے صدارتی مشیر انور قرقاش کا کہنا تھاکہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک اور جنگی مرحلہ صورت حال کو مزید پیچیدہ بنادےگا۔

صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہاکہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی تبدیلی کے نا صرف خطے بلکہ یورپ پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوں گے،یورپ آبنائے ہرمز کے معاملے کو اپنے توانائی اور تجارت کے معاملے کے طور پر دیکھے۔

انور قرقاش نے کہا کہ سفارتی راستہ تلاش کرنا نہایت اہم ہےتاہم سفارتی راستے کو مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرنےکی قیمت پر نہیں ہوناچاہیے،ہم سیاسی حل چاہتےہیں لیکن خدشہ ہےکہ سیاسی حل خطے میں مزید پیچیدگیاں پیدا کردے گا۔

ایران کا آبنائے ہرمز میں ٹول نظام ناقابل قبول ہے: مارکو روبیو

یو اے ای کے صدر کے مشیر نے کہاکہ ایرانی نیوکلیئر پروگرام پہلے ہماری دوسری یا تیسری بڑی تشویش تھی،تاہم اب پہلی تشویش ہے،ایران اپنے پاس موجود ہر ہتھیار استعمال کرنےکی صلاحیت رکھتاہے۔

صدارتی مشیر انور قرقاش نےکہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کسی بھی قومی دفاعی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں،امریکا ہر خلیجی ملک کے اندازوں میں پہلے سے زیادہ مرکزی حیثیت اختیار کرچکاہے۔

ان کا کہنا تھاکہ اوپیک کو چھوڑنے کے بارے میں متحدہ عرب امارات پچھلے 3 سال سے سوچ رہا تھا۔

 

 

Back to top button