PTIمائنس، کس سیاسی جماعت کو کتنی مخصوص سیٹیں ملیں گی؟

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا پہلا اجلاس بلانے میں کم وقت رہ جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے خواتین اور اقلیتی مخصوص نشستوں کیلئےابتدائی ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔ مخصوص نشستوں کیلئے امیدواروں کے انتخابی اخراجات اور گوشوارے جمع کرانے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق انتخابی نتائج کے بعد 13 سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی دوڑ سے باہر ہو گئی ہیں۔
جماعت اسلامی ،جے یو آئی ف ،تحریک لبیک،اے این پی مخصو ص نشستوں کی دوڑ سے باہر ہو گئیں، مرکزی مسلم لیگ ، نیشنل پارٹی ، بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکیں۔پختونخوا ملی عوامی پارٹی ،گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ، پی ٹی آئی پالیمنٹرین بھی میدان سے آؤٹ ہو گئیں جبکہ آئی پی پی، مسلم لیگ ضیاء ،مسلم لیگ ق کو بھی مخصوص نشستوں کے حصول میں مشکلا ت درپیش ہیں۔
جن جماعتوں کو مخصوص نشستیں ملیں گی ان میں مسلم لیگ ن کو قومی اسمبلی میں 16خواتین اور 5 اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ملنے کا امکان ہے، پیپلز پارٹی کو 11 خواتین اور 2 اقلیتوں کی مخصوص نشستیں متوقع ہیں، ایم کیو ایم کو قومی اسمبلی میں خواتین کی 4 اور ایک اقلیتی نشست ملنے کاامکان ہے۔
پی ٹی آئی کی27مخصوص نشستوں کافیصلہ الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے، الیکشن کمیشن کی صوابدید پر خواتین کی23اور 4 اقلیتی نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملیں گی۔
خیال رہے کہ ملک میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے حوالے سے اہم مرحلہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کا تعین ہے۔ پاکستان کے انتخابی قوانین کے مطابق قومی وصوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں انتخابات میں کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتوں کو دی جاتی ہے۔ الیکشن 2018 میں کامیاب ہونے والی جماعت تحریک انصاف کے امیدواران چونکہ اس مرتبہ آزاد حیثیت میں جیتے ہیں، اس لیے سوموار کو پریس کانفرنس کے ذریعے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر خان نے اپنے کامیاب امیدواران کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس عمل کے بعد بھی تحریک انصاف یا سنی اتحاد کونسل قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائے گی یا نہیں۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں جنرل نشستوں کی تعداد 266 ہے، جس میں سے ایک نشست پر انتخابات ملتوی ہونے کے سبب 265 نشستوں پر انتخابات ہوسکے ہیں۔ ان 265 نشستوں کے بعد خواتین کے لیے 60 جبکہ اقلیتوں کے لیے 10 نشستیں مخصوص ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں ٹوٹل نشستوں کی تعداد 371 ہے جس میں سے جنرل نشستیں 297 جبکہ خواتین کے لیے 66 اور اقلیتوں کے لیے 8 نشستیں مخصوص ہیں۔ اسی طرح سندھ اسمبلی میں ٹوٹل نشستوں کی تعداد 168 ہے جبکہ مخصوص نشستوں میں خواتین کے لیے 29 اور اقلیتوں کے لیے 9 نشستیں مخصوص کی گئی ہیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے 124 ممبران میں سے 99 براہِ راست منتخب ہوتے ہیں جبکہ خواتین کے لیے 22 اور غیر مسلموں کے لیے 3 نشستیں مخصوص ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کے 65 ممبران میں سے 51 براہِ راست منتخب ہوتے ہیں جبکہ خواتین کے لیے 11 اور غیر مسلموں کے لیے 3 نشستیں مخصوص ہیں۔ یوں قومی اسمبلی کی 70 اور صوبائی اسمبلی کی 151 نشستوں کو کُل ملا کر مخصوص نشستوں کی تعداد 221 بنتی ہے۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد جیتنے واکی سیاسی جماعتوں میں مخصوص نشستیں تقسیم کرنے کا فارمولا کیا ہے؟ قانونی ماہرین کے مطابق انتخابی نتائج آنے کے بعد نشستیں جیتنے والی سیاسی جماعتوں کی ٹوٹل نشستیں دیکھی جاتی ہیں اور ان میں گزٹ رزلٹ جاری ہونے کے 3 روز کے اندر اندر کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے والے آزاد رکن کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی ٹوٹل نشستوں پر خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو تقسیم کر کے اوسط نمبر نکال لیا جاتا ہے۔
آئینی ماہرین کے مطابق اگر تحریک انصاف کے آزاد اراکین کو سنی اتحاد کونسل کا حصہ بننے کے باوجود مخصوص نشستیں نہیں ملتیں اور مزید آزادارکان میں سے کوئی سیاسی جماعتوں میں شامل نہیں ہوتا تو موجودہ نمبر گیم کے مطابق سیاسی جماعتوں کے اراکین کی تعداد 167 ہو گی۔ گویا 16.7 نشستوں پر اقلیتوں کی ایک نشست ملے گی۔
البتہ خواتین کی نشستوں کے معاملے میں چونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کی صوبائی سطح پر حاصل کی گئی سیٹوں پر فارمولا بنتا ہے، اس لیے وہاں نمبرز مختلف ہوں گے۔قومی اسمبلی میں پنجاب کی جنرل نشستوں کی تعداد 141، سندھ 61، خیبرپختونخوا 45اور بلوچستان کی 16 سیٹیں ہیں۔ اسی طرح خواتین کی مخصوص نشستوں پر پنجاب کو 32، سندھ کو 14، خیبرپختونخوا کو 10 اور بلوچستان کو 4 نشستیں ملتی ہیں۔
دوسری جانب پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 نشستوں میں سے 60 پر آزاد جبکہ 81 پر سیاسی جماعتیں کامیاب ہوئی ہیں۔ یعنی تقریباً اوسطاً اڑھائی نشست پر پنجاب سے قومی اسمبلی میں خواتین کی ایک نشست ملے گی۔ ن لیگ 67 نشستوں کے حساب سے 26 نشستیں، پیپلزپارٹی 5 نشستوں کے حساب سے 2، جبکہ باقی 4 نشستیں ق لیگ، استحکام پاکستان پارٹی اور دیگر جماعتوں میں تقسیم ہوں گی، بشرطیکہ دیگر آزاد امیدواران مقررہ وقت میں کسی سیاسی جماعت میں شامل نہ ہوں۔
تاہم اگر تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں نہیں ملتیں تو قومی اسمبلی کی 70 مخصوص نشستوں میں سے ن لیگ کو لگ بھگ 35 نشستیں مل سکتی ہیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی کو 18، جے یو آئی اور ایم کیو ایم کو 5،5، مجلس وحدت المسلمین کو 2 اور باقی 5 استحکام پاکستان پارٹی، ق لیگ، بی این پی اور دیگر جماعتوں میں تقسیم ہونے کا امکان ہے۔
