بھٹو کے ساتھی اورنواز شریف کے تقریر نویس، نذیر ناجی

پاکستان کی صحافتی تاریخ معروف صحافی اور کالم نگار نذیر ناجی کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی۔ نذیر ناجی نہ صرف پیپلزپارٹی کے اخبار مساوات کے مدیر رہے بلکہ وہ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف کے حلقہ احباب میں بھی شامل تھے اور ان کی تقریر نویس بھی رہے۔نذیر ناجی نے اپنے صحافتی کیرئیر کے دوران ملک کے تمام بڑے اخبارات بشمول نوائے وقت، جنگ اور روزنامہ دنیا میں کام کیا۔وہ آخری وقت تک شعبہ صحافت سے منسلک رہے اور بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ دنیا فرائض سر انجام دیتے رہے۔
ان کے ہم عصر اور پاکستان کے نامور صحافی مجیب الرحمٰن شامی ان کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’نذیر ناجی صحافت کی دنیا کا ایک بہت بڑا نام تھے انہوں نے ورکنگ صحافی کے طور پر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔‘’70 کی دہائی میں انہوں نے ہفت روزہ شہاب جو کہ پیپلز پارٹی کا ہفت روزہ تھا اس میں بڑی جارحانہ صحافت کی۔ یہ وہ دور تھا جب مولانا کوثر نیازی جماعت اسلامی چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں آ گئے تھے۔‘انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اس کے بعد نذیر ناجی پیپلزپارٹی کے اخبار مساوات کے مدیر بھی رہے۔ ’لیکن وہ بھٹو کے کتنے قریب تھے میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ البتہ نوے کی دہائی میں جب نواز شریف کی سیاست عروج پر تھی تو وہ ان کے بہت قریب ہو گئے تھے۔‘
مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ ’ایک وقت آیا کہ ناجی صاحب کو نواز شریف کے تقریر نویس کا مقام حاصل ہو گیا۔ ان لفظوں سے پاکستان کی سیاست میں بھونچال آجاتا تھا۔ نواز شریف کی وہ مشہور زمانہ تقریر جس میں انہوں نے صدر غلام اسحاق خان کو للکارا تھا وہ تقریر نذیر ناجی کی ہی لکھی ہوئی تھی۔ وہ ایک سکہ بند صحافی اور مدیر تھے جو لفظوں کو اپنا غلام بنا لیتے تھے۔‘
نذیر ناجی ان افراد میں بھی شامل تھے جنہیں 12 اکتوبر 1999 کو صدر پرویز مشرف کے مارشل لا کے دوران وزیر اعظم ہاؤس سے گرفتار کیا گیا تھا اورانہیں پوچھ گچھ کے طویل عمل سے بھی گزرنا پڑا تھا۔نذیر ناجی اُس وقت وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا وہ خطاب تحریر کر رہے تھے، جو وہ پرویزمشرف کی جانب سے مارشل لا لگائے جانے سے قبل بطور وزیر اعظم قوم سے کرنے والے تھے۔بعد میں نذیر ناجی نے فوج سے معافی مانگ لی تھی اور مشرف دور میں مسلم لیگ (ق) کے حق میں لکھنے لگے، پرویز مشرف کی حکومت ختم ہوئی تو انہوں نے برملا پرویز مشرف اور ان کی حکومت کے خلاف قلم اٹھایا۔
نذیر ناجی نے 27 سال روزنامہ جنگ میں گزارے اور سال 2012 میں وہ روزنامہ دنیا سے منسلک ہو گئے ان کا مشہور زمانہ کالم ’سویرے سویرے‘ اخبار کے قارئین کا سب سے پسندیدہ کالم رہا۔روزنامہ دنیا کے ایڈیٹر ندیم نثار کہتے ہیں کہ ’ہم نے صحافت کی دنیا میں نذیر ناجی سے بڑا صحافت کا استاد نہیں دیکھا۔ ویسے تو ان کے سارے ہم عصر بڑے بڑے نام ہیں تاہم ان کا اپنا ہی مقام تھا۔ ایک دہائی سے بھی زائد عرصہ ان کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا وہ بڑے سے بڑے مضمون کو ایک سطر اور بعض اوقات ایک لفظ میں بند کرنے کے ماہر تھے۔ اور یہی ان کا سب سے بڑا فن تھا۔‘
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ندیم نثار کہتے ہیں کہ ’چونکہ نذیر ناجی شاعری بھی کرتے تھے اس لیے کم لفظوں میں بات کرنے میں ان کو ملکہ حاصل تھا۔ آخری دنوں میں جب وہ صاحب فراش ہوئے تو ہم لوگ ان کی خیریت دریافت کرنے گھر جاتے تو اس وقت بھی وہ کتابوں اور خبروں سے منسلک ہی نظر آئے۔‘
حکومت پاکستان نے نذیر ناجی کو صحافت میں ان کی خدمات کے اعتراف میں تمغہ امتیاز بھی عطا کیا تھا جبکہ وہ لاہور پریس کلب کے تاحیات ممبر بھی تھے۔نذیرناجی نے روزنامہ جنگ میں اردو کے سینیئر کالم نگار کی حیثیت سے 27 سال سے زیادہ خدمات انجام دیں۔ وہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔ انہوں نے 2012 میں جنگ گروپ چھوڑ دیا اور روزنامہ دنیا میں بطور گروپ ایڈیٹر شامل ہوئے۔ صحافت میں ان کی خدمات پرانہیں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔پاکستان کے ممتاز اخبار نویس اور کالم نگار نذیر ناجی طویل علالت کے بعد 81سال کی عمر میں21 فروری کو لاہور میں انتقال کر گئے۔
