حنیف عباسی کیس میں عمران کی نااہلی کا امکان کیوں ہے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حنیف عباسی اور فیصل واوڈا کیسوں کی روشنی میں عمران خان کا نااہلی سے بچنا بہت مشکل نظر آتا ہے کیونکہ بظاہر اب وہ صادق اور امین نہیں رہے اور اس لیے کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھ سکتے، جہاں عوامی حلقوں میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ زیر بحث ہے وہیں کچھ مبصرین اس سے پیدا ہونے والی قانونی پیچیدگیوں پر بھی تبصرے کر رہے ہیں، واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ پی ٹی آئی نے فارن فنڈنگ وصول کی اور غیر ملکی افراد اور کمپنیوں سے چندہ لیا جوکہ کہ قانونا جرم ہے۔
اس فیصلے کے بعد حزب اختلاف کی صفوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ن لیگ عمران کو ملنے والے ‘صادق اور امین ‘ کے خطاب کو ہدف تنقید بنا رہی ہے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا ہے، جس میں پوچھا گیا ہے کہ کیوں نا اس ممنوعہ فنڈنگ کو ضبط کر لیا جائے۔ لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ فنڈز کی ضبطی کے علاوہ بھی اس فیصلے کے قانونی پہلو ہیں، اور اب عمران خان رہنماؤں کے سر پر نااہلی کی تلوار لٹک گئی ہے۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے قانونی ماہر کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا نا اہلی کیس میں الیکشن کمیشن یہ واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی طرح کے حقائق کو چھپانا ایک جرم ہے اگر بیان حلفی یا ڈیکلیریشن میں جھوٹ بولا گیا ہے، تو پی ٹی آئی کے سربراہ کو باآسانی نااہل قرار دیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ جن لوگوں نے بھی حقائق چھپانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے چاہے وہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن ہوں یا اراکین اسمبلی ان کو بھی نااہل کیا جا سکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ایف کے تحت نواز شریف کو عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیتے وقت سپریم کورٹ نے بھی یہی فیصلہ دیا تھا کہ انہوں نے اپنا اقامہ چھپایا لہٰذا وہ صادق اور امین نہیں رہے اور اس لیے انہیں نااہل قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب معروف تجزیہ کار اور قانونی ماہر ریما عمر کا کہنا ہے کہ 2016 میں نون لیگی رہنما حنیف عباسی نے سپریم کورٹ میں عمران خان کی نااہلی کی درخواست دائر کی تھی اور یہ دلیل دی تھی کہ عمران نے پی ٹی آئی کی فنڈنگ کے حوالے سے جھوٹے سرٹیفکیٹس جمع کرائے ہیں، سپریم کورٹ نے جواب دیا تھا کہ عدالت اس سوال کا فیصلہ صرف تب کر سکتی ہے جب

اداکارہ صاحبہ نے کبھی بیٹی کی خواہش کیوں نہیں کی؟

الیکشن کمیشن کو اس بات کا ثبوت مل جائے کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی ہے چنانچہ کئی ناقدین کا خیال ہے کہ اگر حنیف عباسی کی درخواست میں اٹھائے گئے سوال کو عدالت میں لے جایا جائے تو اس سے عمران خان کی نااہلی یقینی ہے۔
کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے فیصل واؤڈا کو جھوٹے بیانِ حلفی پر نااہلی کی سزا مل چکی ہے اور اگلی باری عمران خان کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئین پاکستان کی دفعہ 62 (ون) (ایف) کے تحت جو شخص پارسا اور امین نہ ہو وہ انتخاب لڑنے کا اہل نہیں ہوتا اور خان صاحب پر تو ایماندار نہ ہونے کے مہر الیکشن کمیشن نے ثبت کر دی ہے، ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق جو شخص صادق اور امین ہونے کے معیار پر پورا نہ اترے اور اس نے جھوٹا حلف نامہ داخل کیا ہو وہ نا اہل ہونے کے بعد ساری زندگی کے لیے رکن اسمبلی نہیں بن سکتا اور نہ ہی پارٹی کا عہدیدار رہ سکتا ہے۔
تاہم حیات نا اہلی کی سزا نواز شریف، جہانگیر ترین اور فیصل واؤڈا کو پہلے ہی دی جا چکی ہے لہذا اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا اب اگلی باری عمران خان کی ہے؟

Back to top button