تحریک لبیک اشاروں پر نہیں چلتی، عمران کا احتساب کیا جائے
تحریک لبیک کے سربراہ علامہ سعد رضوی نے اس تاثر کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہ ان کی جماعت کسی ادارے یا ایجنسی کے اشاروں پر چلتی یے، مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت فارن فنڈنگ کا الزام ثابت ہونے پر عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے خلاف سخت ترین کاروائی کی جائے تاکہ بیرونی ایجنڈے پر چلنے والوں کا احتساب ہو سکے۔
تحریک لبیک کے سربراہ نے انڈیپینڈنٹ اردو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ ان کی جماعت کو سیاسی میدان میں لانے اور احتجاج پر اُکسانے والا کوئی اور ہوتا ہے۔ ماضی میں کالعدم قرار دی جانے والی ٹی ایل پی کے سربراہ کو اس سے قبل طویل نظربندی کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا جس کے بعد تحریک انصاف کی حکومت میں نومبر 2021 میں ان کو ایک معاہدے کے تحت رہا کر دیا گیا تھا جس کے بعد انکی جماعت پر عائد کردہ پابندی بھی ختم کر دی گئی تھی۔ اسکے علاوہ سعد رضوی سمیت تحریک لبیک کے درجنوں کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول کی لسٹ سے نکال دیئے گئے تھے، اور ان کے خلاف دہشت گردی اور فرقہ واریت سے متعلق مقدمات بھی ختم کر دیئے گے تھے۔
خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد پارٹی قیادت سنبھالنے والے ان کے 28 سالہ صاحب زادے کا کہنا تھا کہ سیاسی طور پر ہم نہ کبھی کسی کے ’اشاروں پر اٹھے ہیں اور نہ ہی بیٹھے ہیں، ان کے بقول ہمارا معاہدہ جن سے ہوا اس کی کاپی بھی ان کے پاس ہے، سعد رضوی کا کہنا تھا کہ وہ پر امن سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں، ابھی یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ وہ اگلا الیکشن خود بھی لڑیں گے یا صرف امیدوار کھڑے کریں گے۔
ایک سوال پر سعد رضوی نے کہا کہ جس طرح آٹھ سال تک عمران خان کی جماعت کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا کیس لٹکا کر پی ٹی آئی کو صرف ایک شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے اس سے لگتا ہے کے عمران کے ساتھ رعایت برتی جا رہی ہے، سعد رضوی نے کہا ’یہ فیصلہ نہیں فیور ہے، شوکاز نوٹس دینے کی بجائے الیکشن کمیشن کو فارن فنڈنگ میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے کے خلاف فیصلہ دینا چاہئے تھا۔
سعد رضوی کے بقول اداروں کی مداخلت سے جس طرح حکومتیں بنائی اور گرائی جا رہی ہیں، ان حالات میں کوئی بھی جماعت عوامی طاقت سے اقتدار حاصل نہیں کر سکتی، ان کے خیال میں ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک نقطے پر متفق ہونا ہوگا کہ وہ اپنے مسائل خود حل کریں گے، اداروں کی طرف نہیں دیکھیں گے۔
انہوں نے کہا اگر قومی اتفاق رائے کرنے کے لیے سیاسی جماعتیں راضی ہوتی ہیں تو ان کی جماعت بھی ساتھ دے گی، الیکشن سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی نے گذشتہ انتخابات میں بھر پور حصہ لیا اور 500 سے زائد ٹی ایل پی کے امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیا، ان کے مطابق ٹی ایل پی کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے اور ضمنی انتخابات میں بھی انکی جماعت کے
عمران کے کہنے پر فوج مخالف سوشل میڈیا ٹریندز میں کمی
پانچ فیصد ووٹ بڑھے ہین۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ضمنی الیکشن میں انہیں کراچی سے زبردستی ہرایا گیا حالا کہ انکا امیدوار جیت گیا تھا۔
سعد رضوی نے کہا کہ پنجاب میں بار بار حکومتوں کی تبدیلی سے سیاسی بحران بڑھ چکا ہے اور اس کی قیمت عوام چکا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایک تماشہ لگایا گیا اور ایک سسٹم کو چلنے نہیں دیا گیا، یہ بالکل غلط ہے، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ دیا اس سے جمہوریت کمزور ہوئی کیونکہ احتساب کا دوسرا پیمانہ بنایا گیا۔ ایک پارٹی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کی وصولی کا الزام ثابت ہونے اور جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کے باوجود سزا نہیں سنائی گئی۔‘ انہوں نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے معاشی اور سیاسی بحران پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تمام بڑی جماعتوں کے برسرِاقتدار ہونے کے باوجود مسائل بڑھتے جارہے ہیں، نہ معیشت سنبھل رہی ہے اور نہ ہی نظام چل رہا ہے۔ ان حالات میں اگر آئندہ انتخابات بھی شفاف نہ ہوئے تو حالات تبدیل نہیں ہوں گے بلکہ اور بھی خراب ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی ناموس رسالتﷺ کے معاملے پر جو موقف پہلے رکھتی تھی اب بھی وہی ہے کسی قسم کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔ ان کے بقول، ٹی ایل پی آزاد حیثیت میں اگلا الیکشن لڑے گی اور چند سیٹوں کے لیے کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے الحاق نہیں ہوگا کیونکہ اتحاد کرنے والی پارٹیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہیں۔
